جمعرات 12 فروری 2026 - 19:51
قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

حوزہ/ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ کے زیرِ اہتمام ایک بابرکت، علمی اور روحانی پروگرام بعنوانِ “تبلیغی دورہ و نشستِ حفظِ قرآنِ کریم” منعقد ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ) ہریانہ کے مدیر مولانا عقیل رضا ترابی نے بتایا کہ مدرسہ بنتُ الہدیٰ کے زیرِ اہتمام ایک بابرکت، علمی اور روحانی پروگرام بعنوانِ “تبلیغی دورہ و نشستِ حفظِ قرآنِ کریم” منعقد ہوا، جسمیں آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی عراق کے نمائندے مولانا سید نبی حیدر نقوی نے خصوصی شرکت کی۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

تفصیلات کے مطابق؛ اس نشست میں قاری محمد اسجد (معلمِ شعبۂ حفظِ قرآنِ کریم، مدرسہ بنتُ الہدیٰ) اور محترمہ سیدہ علقمہ بتول معلمہ مدرسہ اور محترمہ سیدہ علی فاطمہ ناظمہ تعلیم مدرسہ، محترمہ اسماء فضیلت معلمہ مدرسہ حیدریہ، مولانا سید محمد ثقلین (امام جمعہ والجماعت، ضبطی چھپرہ) کے علاؤہ مولانا سید میثم عباس (امام جماعت مسجد بہمن، سرسی) نے شرکت کر کے پروگرام کو علمی وقار، فکری گہرائی اور روحانی تاثیر عطا کی۔

پروگرام کا باضابطہ آغاز طالبۂ قرآن سیدہ کریمہ بتول کی پُراثر تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں طالبات شفا بتول اور جزا بتول نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک پیش کی، جبکہ سیدہ نیلم زہرا نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ منقبتِ اہلِ بیتؑ پیش کی، جس سے پورا ماحول نورِ قرآن اور ذکرِ اہلِ بیتؑ سے معطر ہوگیا۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا سید محمد ثقلین نے انجام دئیے۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

مولانا سید نبی حیدر نقوی نے امامِ زمانہؑ کے عنوان سے نہایت جامع، مؤثر اور فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امامِ عصرؑ سے حقیقی وابستگی محض زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک شعوری، عملی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی منتظر بناتا ہے۔ آج کی نسل اگر حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ فہمِ قرآن اور قرآنی کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے تو یہی امامِ زمانہؑ کے ظہور کی عملی تیاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ کریم انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر کا کامل نظام ہے اور حفظِ قرآن اسی وقت حقیقی اثر رکھتا ہے جب وہ دل، عمل اور کردار میں بھی محفوظ ہو جائے۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

مولانا سید نبی حیدر نے مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ کے تعلیمی و انتظامی نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس ادارے میں آکر یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ یہاں حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ تربیتِ اخلاق، نظم و ضبط اور طالبات کی فکری و روحانی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور یہ ادارہ مستقبل کی ایسی دینی خواتین تیار کر رہا ہے جو سماج میں قرآن اور اہلِ بیتؑ کی حقیقی نمائندہ بن سکتی ہیں۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

اس موقع پر مولانا سید میثم عباس نے امامِ زمانہؑ کے موضوع پر نہایت مدلل اور فکری خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ غیبت میں سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے عقائد کو مضبوط، اپنے اعمال کو خالص اور اپنے معاشرتی کردار کو قرآنی خطوط پر استوار کریں، کیونکہ امامِ زمانہؑ کی نصرت محض نعروں سے نہیں بلکہ عملی دینداری، اجتماعی ذمہ داری اور اخلاقی کردار سے ہوتی ہے۔

نشستِ حفظِ قرآنِ کریم

خطابات کے فوراً بعد نشستِ حفظِ قرآنِ کریم کا عملی مرحلہ شروع ہوا۔

مولانا سید نبی حیدر نے مختلف مقامات سے قرآنِ کریم کی آیات کی تلاوت کی، جن پر طالبات سیدہ کریمہ بتول اور سیدہ مصباح بتول نے نہایت اعتماد کے ساتھ آیات کا ترجمہ، سورۂ مبارکہ کا نام، آیت نمبر اور متعلقہ صفحہ بیان کیا۔ اسی طرح متعدد آیات اور ان کے تراجم کا سلسلہ جاری رہا، جس سے طالبات کی مضبوط علمی تیاری اور اعلیٰ تعلیمی معیار نمایاں طور پر سامنے آیا۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

اس موقع پر مولانا سید میثم عباس نے طالبہ سیدہ شفا بتول سے نہج البلاغہ کے کلماتِ قصار کے حوالے سے سوالات کیے، جن کے تمام جوابات طالبہ نے نہایت عمدہ انداز میں پیش کیے۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

مولانا سید میثم عباس نے حفظِ قرآنِ کریم اور حفظِ نہج البلاغہ کے اس جامع مظاہرے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ سید چھپرہ جیسے دیہی علاقے میں اس ادارے کو دیکھ کر حقیقتاً حیران ہوں کہ یہاں محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ مکمل حوزوی طرز کا تعلیمی و تربیتی نظام قائم کیا گیا ہے، جو قابلِ تحسین اور دیگر علاقوں کے لیے نمونہ ہے۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

معلمِ حفظِ قرآن کی نگرانی میں امتحانی مرحلہ

معلمِ حفظِ قرآنِ کریم قاری محمد اسجد نے طالبات ضحیٰ بی بی، کساء بتول اور ذکیہ بتول سے حفظ شدہ سورتوں میں سے مختلف مقامات دریافت کیے، جنہیں طالبات نے نہایت خوش الحانی، صحیح تجوید اور عمدہ قرأت کے ساتھ پیش کیا۔

اس موقع پر مولانا سید نبی حیدر اور مولانا سید میثم عباس نے طالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی اور بعد ازاں انہیں انعامات سے نوازا۔

قرآن سے زندہ اور عملی رشتہ، اخلاقِ اہلِ بیتؑ کی پیروی اور معاشرے میں دینی شعور کی ترویج ہی سے انسان حقیقی منتظر بنتا ہے، مقررین

معیارِ تعلیم پر مہمانِ خصوصی کا اظہار

مولانا سید نبی حیدر نقوی نے طالبات کے علمی معیار کو ملاحظہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے اطمینان کے ساتھ یہ عرض کرتے ہیں کہ یہاں حفظِ قرآن کا معیار محض قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ قابلِ تقلید ہے، اور اگر یہی اخلاص، نظم اور محنت برقرار رہی تو ان شاء اللہ یہ طالبات مستقبل میں قرآنِ کریم کی حقیقی مبلغات ثابت ہوں گی۔

دعائیہ کلمات

پروگرام کے اختتام پر ملکِ ایران اور عالمِ تشیع کے تمام مراجعِ عظام، بالخصوص حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی مدّظلّہ الوارف کی صحت و سلامتی، طولِ عمر اور امتِ مسلمہ کی فکری بیداری و فلاح کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

آخر میں دعائے سلامتی امامِ زمانہؑ کے ساتھ یہ بابرکت، علمی اور روحانی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

یہ نشست بلا شبہ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ کی قرآنی خدمات اور دینی و حوزوی تربیت کا روشن اور قابلِ فخر مظہر ثابت ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha