منگل 10 فروری 2026 - 14:55
بچوں کے لیے خدا کی معرفت | کبھی کبھی ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

حوزہ/ جب ہم دعا کرتے ہیں تو عموماً یہی انتظار ہوتا ہے کہ وہی چیز ہمیں ملے جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں؛ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہماری دعاؤں کا جواب کسی اور ہی انداز میں ملتا ہے۔ یہ تحریر سادہ اور بچوں کے لیے قابلِ فہم مثالوں کے ذریعے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ دعا کا مفہوم کیا ہے اور خدا کس طرح دعاؤں کا جواب دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کے ذہن میں خدا سے متعلق اُٹھنے والے سوالات کے جواب دینے سے پہلے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ اُن کے ساتھ سمجھ بوجھ اور گفتگو کا ماحول بنایا جائے۔ یہ سوالات حجت الاسلام غلامرضا حیدری اَبہَری کی کتاب «خدا شناسیِ قرآنی بچوں کے لیے» سے لیے گئے ہیں، جو سادہ مگر گہرے سوالات کے ذریعے بچوں کو خدا کے بارے میں سوچنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔

پیارے بچو ں!

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ تم نے خدا سے کوئی چیز مانگی ہو، مگر تمہیں لگا ہو کہ تمہاری دعا قبول نہیں ہوئی؟

شاید تم نے دل میں سوچا ہو: "پھر میں نے دعا کیوں کی؟"

سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح جان لو:ںخدا بہت مہربان ہے اور وہ خود ہمیں دعا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

قرآن میں خدا فرماتا ہے: "میں قریب ہوں، اور جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔"

اگر خدا ہماری مدد نہیں کرنا چاہتا، تو وہ کبھی ہمیں دعا کرنے کو نہ کہتا۔

لیکن اب ایک اہم سوال:

اگر خدا ہر انسان کی ہر دعا کو، بالکل اسی وقت اور اسی طرح پورا کر دے جیسا وہ چاہتا ہے، تو کیا ہوگا؟

مثال کے طور پر: ایک کسان دعا کرتا ہے کہ بارش ہو تاکہ اس کی فصل اچھی ہو جائے۔ اسی وقت ایک مسافر دعا کرتا ہے کہ بارش نہ ہو تاکہ وہ بھیگ نہ جائے۔

بتاؤ، خدا کس کی دعا قبول کرے؟

یا یہ دیکھو: ایک دکاندار دعا کرتا ہے کہ چیزیں مہنگی ہو جائیں تاکہ اسے زیادہ فائدہ ہو۔

لوگ دعا کرتے ہیں کہ چیزیں سستی ہوں تاکہ وہ آسانی سے خرید سکیں۔

دیکھا؟ کچھ دعائیں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔

اب ایک اور اہم بات: کبھی کبھی ہم ایسی چیز مانگتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہے، لیکن خدا جانتا ہے کہ وہ ہمارے لیے اچھی نہیں۔

جیسے: ایک بچہ دعا کرتا ہے کہ وہ ہر روز بہت زیادہ مٹھائی کھا سکے، مگر خدا جانتا ہے کہ زیادہ مٹھائی پیٹ درد اور دانتوں کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔

یا: بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں کہ وہ بہت امیر ہو جائیں، لیکن خدا جانتا ہے کہ کچھ لوگ زیادہ دولت پا کر یا تو غلط کام کرنے لگتے ہیں یا پہلے سے زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ خدا ہمیں بہت پیار کرتا ہے

اور اسی لیے وہ ہماری ہر خواہش پوری نہیں کرتا۔

قرآن میں آیا ہے: "بعض چیزیں تمہیں پسند ہوتی ہیں، لیکن وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔"

کبھی کبھی خدا کہتا ہے: "ابھی نہیں… بعد میں۔" ہم انسان جلدی کرنے والے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ فوراً ہو جائے۔ مگر خدا ہمیشہ بہترین وقت جانتا ہے۔

مثال کے طور پر:

تم دعا کرتے ہو کہ تمہیں ایک چھوٹی سی کتاب مل جائے، خدا تمہیں تھوڑا صبر دیتا ہے اور پھر تمہیں کئی اچھی اور فائدہ مند کتابیں عطا کر دیتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید خدا ہماری بات نہیں سن رہا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہماری سوچ سے بھی بہتر چیز ہمارے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔

یاد رکھو: دعا، خدا سے بات کرنے کا نام ہے۔

بالکل ایسے جیسے ایک بہت مہربان دوست سے بات کی جاتی ہے۔

تم کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی زبان میں خدا سے بات کر سکتے ہو۔ یہ خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

اور اگر خدا تمہاری دعا اسی طرح پوری نہ کرے جیسے تم چاہتے ہو، تو بھی تم خالی ہاتھ نہیں لوٹتے: یا تو تمہیں وہ چیز مل جاتی ہے یا خدا اس سے بہتر چیز دے دیتا ہے یا تمہارے لیے اجر اور ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمہارا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس لیے کبھی دعا کرنا نہ چھوڑو،اور کبھی ناامید نہ ہو۔دعا ہمیشہ ہمارے فائدے میں ہوتی ہے، کیونکہ خدا ہماری سوچ سے کہیں زیادہ مہربان ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha