منگل 10 فروری 2026 - 05:00
اچھی نصیحتیں بعض اوقات بچوں کی تربیت میں اثر کیوں نہیں کرتیں؟

حوزہ/ جو والدین خود اپنے رویّے میں اخلاقِ کریمانہ کا لحاظ نہیں رکھتے، وہ حکم دینے اور نصیحت کرنے کے ذریعے بچوں میں یہ اخلاق منتقل نہیں کر سکتے۔ تربیت میں عمل کا اثر باتوں پر مقدم ہوتا ہے۔ جو خود کریمانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کرتا، وہ کریمانہ تربیت بھی نہیں دے سکتا؛ کیونکہ گفتار کے مؤثر ہونے کا راز کردار میں پوشیدہ ہے، اور عمل کی زبان، باتوں کی زبان سے کہیں زیادہ بلیغ اور اثر رکھتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین محسن عباسی ولدی نے اپنی ایک تصنیف میں „فتنوں کے واقعات کا تربیتی تجزیہ“ کے موضوع پر گفتگو کی ہے، جو اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

وہ والدین جو خود اپنے رویّوں میں اخلاقِ کریمانہ کا خیال نہیں رکھتے، انہیں یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ صرف حکم دینے اور نصیحت کرنے سے اپنے بچوں میں اعلیٰ اخلاق پیدا کر لیں گے۔

ایسے والدین کو ایک بار ہمیشہ کے لیے یہ بات طے کر لینی چاہیے کہ تربیت میں رویّے اور عمل کا کردار کیا ہے؟

کیا وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں عمل کا اثر، باتوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور باتوں سے پہلے ہوتا ہے؟

اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں: جو خود کریمانہ انداز اختیار نہیں کرتا، وہ کریمانہ تربیت بھی نہیں کر سکتا۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: “جو شخص خود کو لوگوں کا پیشوا بناتا ہے، اسے چاہیے کہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔

اور لوگوں کو زبان سے ادب سکھانے سے پہلے، اپنے عمل سے انہیں ادب سکھائے۔

جو شخص خود اپنا معلم اور مربی ہو، وہ اس شخص سے زیادہ تعظیم کا حق دار ہے جو دوسروں کو سکھاتا ہے۔” (نہج البلاغہ، حکمت ۷۳)

یہ بات بھی کبھی نہ بھولیں کہ گفتار کے اثر کا راز، کردار میں پوشیدہ ہے۔

اسی سلسلے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ایک اور فرمان ہے: “وہ نصیحت جسے کان رد نہیں کرتے اور جس کے برابر کوئی فائدہ نہیں، وہ یہ ہے کہ زبان خاموش رہے اور عمل بولنے لگے۔” (غررالحکم و دررالکلم، ص ۳۲۱)

ماخذ: کتاب „منِ دیگر ما“ سے انتخاب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha