ہفتہ 31 جنوری 2026 - 04:30
نسلِ مہدوی کی تربیت کیسے کی جائے؟

حوزہ/ ماہرِ تعلیم و تربیت نے کہا: مہدوی سوچ رکھنے والی ماں اور مربّی، صبر، محبت، آگاہی اور تسلسل کے ذریعے ایسا بچہ تربیت کرتی ہے جو پُرامید، باشعور، ذمہ دار اور عمل کرنے والا منتظر ہو؛ ایسی نسل جو انتظار کو جمود میں نہیں بلکہ اپنی ذات اور معاشرے کی اصلاح میں معنی دیتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہرِ تعلیم و تربیت "خاتون چرونده" نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے نسلِ مہدوی کی تربیت کے حوالے سے کہا: نسلِ مهدوی کی پرورش کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے مائیں اور مربّیان اپنے اندر گہرا ایمان، فعال اُمید اور امام زمانہؑ کی صحیح معرفت پیدا کریں، کیونکہ مهدوی تربیت محض زبانی تعلیم سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے شروع ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: بچے کی پاکیزہ فطرت کا خیال رکھنا، محبت کے ساتھ ایمان کو مضبوط کرنا، احساسِ تحفظ پیدا کرنا، عدل پسندی، ذمہ داری کا شعور اور متحرک انتظار کی روح پیدا کرنا، مهدوی تربیت کے اہم ستون ہیں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ بچے کے ذہن میں دین کی تصویر خوشگوار، زندہ اور بامعنی ہو، تاکہ اس کا امام عصرؑ سے تعلق جذباتی، عقلی اور مستقل ہو، نہ کہ خوف پر مبنی یا زبردستی مسلط کیا گیا۔

ماہرِ تعلیم و تربیت نے واضح کیا:عملی راہکاروں کے طور پر کہانی سنانا، کھیل، فنونِ لطیفہ، دوستانہ گفتگو، مہدوی مناسبات اور والدین و مربّیان کا عملی کردار نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں دعا کا ماحول قائم کرنا، امام زمانہؑ کو یاد رکھنا، دوسروں کی مدد کی مشق، انفرادی و اجتماعی اخلاق کی تقویت اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کا شعور دینا، بچے کو حق کی نصرت کے لیے آمادہ کرتا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: صبر، محبت، آگاہی اور تسلسل کے ساتھ، ایک مہدوی ماں اور مربّی ایسا فرزند تربیت کرتا ہے جو پُرامید، باشعور، باعزم اور عمل کرنے والا منتظر ہوتا ہے؛ ایسا نسل جو انتظار کو جمود میں نہیں بلکہ اپنی اور معاشرے کی اصلاح میں معنی دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha