منگل 24 فروری 2026 - 00:30
معرکہِ حق و باطل "خندق" کی آزمائش سے عصرِ حاضر کی استقامت تک

حوزہ / آج کے عالمی حالات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو جنگ احزاب کا معرکہ تکرار ہوتا دیکھائی دیتا ہے۔

تحریر: وقار مفکری

حوزہ نیوز ایجنسی l جب یہودیوں اور مشرکین مکہ کے گٹھ جوڑ نے مدینہ کے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ محاصرے میں لیا تھا۔ اس لشکر میں مدینہ سے جلا وطن ہونے والے بنی نضیر اور بنی قینقاع کے یہودی اور غطفان، بنو سلیم، فزارہ، مرہ، اشجع، سعد اور اسد وغیرہ کے قبائل اور قریش کا ایک بڑا لشکر بھی شامل تھا۔

دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از وقت اس خطرناک حملے کا علم ہو جاتا ہے۔ دفاعی تدبیر کے طور پر حضرت سلمان فارسی کے مشورے پر شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی اور شہر کو محفوظ کر لیا گیا۔

مخالفین اس جنگی تدبیر سے نابلد تھے اس نئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کے پاس صرف ایک صورت رہتی تھی کہ وہ مدینہ میں آباد بنی قریظہ کے یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ توڑنے پر آمادہ کریں چونکہ سابقہ معاہدے کی وجہ سے اس یہودی علاقے میں مسلمانوں نے کوئی دفاعی انتظام نہیں کیا تھا۔ دشمن نے اس علاقے سے فائدہ اٹھانے کو ہی غنیمت سمجھا۔ چنانچہ بنی نضیر کا وفد بنی قریظہ کے ہاں گیا اور انہیں عہد توڑنے پر آمادہ کیا جس سے مسلمانوں میں نہایت بے چینی پیدا ہو گئی جسے قرآن کریم نے ان لفظوں کے ساتھ ذکر کیا ہے:

وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا

اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور مارے دہشت کےدل منہ کو آ گئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔(احزاب:۱۰)

(آج بھی ضعیف الایمان افراد کی یہی صورتحال ہے)

چنانچہ شہر کا وہ علاقہ بھی غیر محفوظ ہو گیا جہاں دفاع کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس موقع پر بعض منافقین نے تو یہ تک کہنا شروع کیا کہ محمد قیصر و کسریٰ کی فتح کی نوید سناتے ہیں اور ادھر ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔

ان کٹھن حالات میں جب مستکبرین کے سب سے بڑے نمائندہ عمرو بن عبدود نے اپنی طاقت کے زعم میں للکارنا شروع کیا، مسلمانوں کے عقیدۂ جنت کا تمسخر اڑاتے ہوئے پوچھا کہ "تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟" تو اس سوال کا جواب کسی مادی ہتھیار کے پاس نہیں بلکہ اس "روحِ علیؑ" کے پاس تھا جو موت کو ابدی زندگی کا دروازہ سمجھتی تھی۔ ان حالات میں حضرت علی علیہ السلام کا بار بار "میں حاضر ہوں یا رسول اللہ!" پکارنا محض ایک شخص کی آمادگی نہیں تھی بلکہ یہ اس مکتب کے باطل کے سامنے ڈٹ جانے کے ابدی منشور کا اعلان تھا۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "یہ عمرو ہے" یعنی یہ دشمن کی طاقت کی انتہا ہے اور اس کے جواب میں علی ابنِ ابی طالب علیہما السلام کا یہ کہنا کہ "پھر بھی حاضر ہوں" یہ وہ نقطہ ہے جہاں الله تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین کا اظہار واضح طور پر نظر آتا ہے۔

یہی کردار کا تاریخی تسلسل ہے جو مختلف شخصیات کے روپ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امام خمینیؒ نے اسی فلسفے کو حیاتِ نو بخشی۔ امام راحل کا وہ تاریخی جملہ کہ "امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا" دراصل اسی خندق والے یقین کا تسلسل تھا جس نے مادی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا نیز ایران کا گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی استکبار کے تمام تر محاصروں اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ثابت کرتا ہے کہ جب ایک قوم "حق پر ہونے" کے ادراک کے ساتھ باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم کرتی ہے تو وہ شکست ناپذیر ہو جاتی ہے۔

رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای اسی استقامت اور دشمن کے مکرو فریب کی نقب کشائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"مقاومت کی قیمت تسلیم ہونے کی قیمت سے کہیں کم ہے"۔

ان کا یہ قول سورہ احزاب کی اُن آیات کی عملی تفسیر ہے جہاں منافقین ڈر کر پیچھے ہٹ رہے تھے لیکن صاحبِ کلِ ایمان اپنی ذمہ داری پر ڈٹا رہا۔

تاریخ گواہ ہے اگر ایمان متزلزل نہ ہو تو دشمن کی ہر تدبیر الٹا اس کے اپنے زوال کا سبب بن جایا کرتی ہے اور حق اسی شان سے پروان چڑھتا ہے۔ اس حقیقت کا اظہار علی کی شیر دل بیٹی جناب زینب سلام اللہ علیہا نے ان الفاظ میں کیا تھا:

"فَکِدْ کَیْدَکَ وَاسْعَ سعَیْکَ وَنَاصِبْ جُهْدَکَ فَوَاللهِ لا تَمْحُو ذِکْرَنَا.."

" اے یزید! تو جتنی چاہے مکاریاں چل لے اور جتنی چاہے کوششیں کر دیکھ اور جتنا چاہے زور لگا لے۔ خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو کبھی نہیں مٹا سکے گا۔"

قرآن مجید اور سیرتِ معصومین علیہم السلام سے یہی پیغام ملتا ہے کہ اہل ایمان دشمن کی ظاہری ہیبت سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ وہ استکبار کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔ یہ استقامت محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک الٰہی وعدہ پر اعتقاد کا اظہار ہے کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے مٹنا ہی ہے نیز حق کی فطرت ہی غالب آنا ہے۔

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًلا ﴿اسراء: ۸۱﴾ اور کہہ دیجئے حق آگیا اور باطل مٹ گیا باطل کو تو یقینا مٹنا ہی تھا۔

المختصر رہبرِ معظم کا وہ تاریخی جملہ جو انہوں نے بحری مشقوں کے بعد کہا تھا نہ صرف آپ کی ایمانی پختگی کا عکاس ہے بلکہ دراصل اسی خندق والی ثابت قدمی کا جدید روپ اور تجدد کردار ہے۔ جس طرح مولا علیؑ نے عمرو بن عبدود کے سامنے کھڑے ہو کر باطل کے رعب کو ختم کیا تھا اسی ثابت قدمی سے الہام لیتے ہوئے رہبرِ مستضعفین جہاں آج کے دور میں دنیا کے مظلوموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم حق پر ڈٹ جاؤ تو دنیا کا کوئی بھی "بیڑا" تمہارے ارادوں کو نحیف نہیں کر سکتا بلکہ وہ خود تمہاری استقامت کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔

رہبر معظم فرماتے ہیں:

"دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے لیکن ہمارے پاس ایمان اور شہادت کا جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کو توڑا جا سکتا ہے لیکن جس کے دل میں موت کا خوف نہ ہو اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی"۔

ان شاءالله فرعون، شداد، نمرود اور مشرکین مکہ کی طرح امریکہ و استعماری طاقتوں کو شکست فاش کے ساتھ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha