حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ کے نائب سرپرست آیت اللہ عباس کعبی نے مرکزِ علمی و ثقافتی امام حسین (ع) قم میں میں منعقدہ قرآن کریم کی تفسیر کے سلسلہ وار دروس کے تسلسل میں سورۂ مبارکہ حشر کی ابتدائی آیات کی تفسیر بیان کی اور یہودِ بنی نضیر کے تاریخی واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے پوری تاریخ میں امتِ اسلامی کے لیے عبرت قرار دیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں غزوۂ بنی نضیر کے پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بنی نضیر مدینہ کے اطراف میں آباد یہودی قبائل میں سے تھے جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور دستورِ مدینہ پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے معاشی اور سماجی نفوذ، سیاسی طاقت اور روابط کو استعمال کرتے ہوئے ایک طرف مدینہ کے منافقین اور دوسری طرف قریش کے مشرکین سے تعلقات کے ذریعے نوخیز اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔
جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم کے نائب سربراہ نے مزید کہا: اس سازش کا سرغنہ کعب بن اشرف تھا جو چالیس سواروں کے ساتھ مکہ گیا اور اسلامی محاذ کو نقصان پہنچانے کے لیے قریش کے مشرکین کے ساتھ ہماہنگی کی۔ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی ظاہری شکست کے بعد انہوں نے یہ گمان کیا کہ اسلام کمزوری کے عروج پر ہے اور آخری حملے کا وقت آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ سازش رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دانشمندانہ تدبیر اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی قیادت سے ناکام بنا دی گئی۔ بنی نضیر کے دس سرکردہ افراد ہلاک ہوئے اور کعب بن اشرف بھی اصل معرکے سے پہلے ایک خصوصی کارروائی میں مارا گیا۔
آیت اللہ کعبی نے کہا: ہمیں فتنہ انگیزوں کے اختیار کے ذرائع منقطع کرنے چاہئیں۔ غداری کے ساتھ واضح اور فیصلہ کن انداز میں نمٹنا استحکام اور سلامتی کی پیشگی شرط ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی بنی نضیر کی غداری کو پنپنے کی اجازت نہیں دی کہ بعد میں کوئی کہے کہ ہمارا یہ مطلب نہیں تھا، ہمارا ارادہ نہیں تھا، ہم تلافی کرنا چاہتے ہیں۔
مجلس خبرگان رہبری کے اس رکن نے مزید کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نرمی برتتے تو ممکن تھا کہ یہ فتنہ عارضی طور پر تھم جاتا لیکن بعد میں فتنہ گر دوبارہ تقویت پا لیتے۔ بنی نضیر کا فیصلہ کن انداز میں اخراج اور ان کے اختیار کے ذرائع کا منقطع کرنا بغاوت کی سازش کی ناکامی کا باعث بنا۔ یہ نمونہ داخلہ میں نفوذ اور فتنہ کا سامنا کرتے وقت آج ہمارے لیے رہنما ہے اور دھمکیوں کے مقابلے میں مصلحت پسندی اور خاموشی دشمن کو مزید جری کر دیتی ہے۔









آپ کا تبصرہ