منگل 24 فروری 2026 - 22:07
ایران اور حوزہ علمیہ کو عالمی سطح پر تفسیرِ قرآن کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے کہا: قرآنی سفارت کاری کے فروغ کے لیے متعدد سرگرمیاں زیرِ عمل ہیں۔ ان میں سے ایک اہم اقدام قرآنِ کریم کی صلاحیتوں کو مختلف زبانوں میں متعارف کرانا اور قرآنی مقالات اور کتب کو عالمی سطح پر شائع کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے بین‌المللی قرآن نمائش کے موقع پر حوزہ علمیہ کے مرکزِ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اسٹال کا دورہ کے دوران حوزہ نیوز کے نمائندہ سے گفتگو کی۔

انہوں نے اس گفتگو میں عصرِ حاضر میں قرآنِ کریم کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں اور دینی و علمی سفارت کاری میں اس کے مقام کو بیان کیا۔

ایران اور حوزہ علمیہ کو عالمی سطح پر تفسیرِ قرآن کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے

حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے کہا: قرآن کریم تمام ادیان اور مذاہب کی مشترک مقدس کتاب ہے۔ قرآنِ کریم صرف عالمِ اسلام کی آسمانی کتاب ہی نہیں بلکہ وہ کتاب ہے جس پر دنیا کے دو ارب سے زائد افراد ایمان رکھتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ تمام ادیان اور مختلف مذاہب کی توجہ کا مرکز ہے اور دینی اختلافات کے باوجود علمی مکالمے اور تبادلے کے لیے ایک بین‌ الاقوامی مشترکہ بنیاد کے طور پر جانی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: قرآنِ کریم عالمی، علمی و تحقیقی مراکز کی توجہ کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بہت سے مطالعات اور تحقیقات کا بنیادی ماخذ ہے اور مختلف یونیورسٹیز اور تحقیقی مراکز کی خصوصی توجہ کا حامل ہے۔ اسی لیے قرآن نہ صرف دینی سفارت کاری بلکہ علمی اور اکیڈمک سفارت کاری میں بھی ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایران اور حوزہ علمیہ کو عالمی سطح پر تفسیرِ قرآن کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے

حجت الاسلام والمسلمین کوہساری نے کہا: اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے درمیان ایران اور حوزہ علمیہ کے علما کو عالمی سطح پر تفسیرِ قرآن کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر تسنیم جو آیت اللہ العظمی جوادی آملی کی تصنیف ہے اور تقریباً 80 جلدوں میں مرتب ہوئی، عالمِ اسلام بلکہ اس سے باہر بھی وسیع توجہ حاصل کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا: قرآنِ کریم کی طرف توجہ اور بین‌ الاقوامی سطح پر اس کی مرکزیت حالیہ برسوں میں حوزہ علمیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے لہذا اس عظیم صلاحیت کو دنیا میں قرآنی سفارت کاری کے فروغ کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha