بدھ 25 فروری 2026 - 15:07
قرآنی آیات کی روشنی میں ذہنی سکون کے اسباب

حوزہ/ قرآنِ مجید ذہنی سکون کے لیے کسی ایک نسخے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ایمان، ذکر، صبر، توکل، نماز، قناعت اور اخلاقی تطہیر کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔ یہ وہ سکون ہے جو وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے، جو حالات کا محتاج نہیں بلکہ دل کی کیفیت بن جاتا ہے۔

تحریر: فدا حسین ساجدی

حوزہ نیوز ایجنسی I انسانی زندگی کی سب سے بڑی اور گہری خواہش سکونِ قلب ہے۔ دولت، شہرت، اقتدار اور سہولیات اگرچہ وقتی مسرت عطا کرتی ہیں، مگر دل کے اندر جو خلا، اضطراب اور بے چینی جنم لیتی ہے، اسے صرف وہی ذات پُر کر سکتی ہے جس نے دل کو پیدا کیا۔ قرآنِ مجید انسان کی اسی باطنی پیاس کو بجھانے کے لیے نازل ہوا ہے۔ یہ کتاب صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی، روحانی اور فکری دستورِ حیات ہے جو ذہنی سکون کے حقیقی اسباب واضح کرتی ہے۔

1۔ اللہ کے ذکر میں سکونِ قلب

قرآنِ مجید ذہنی سکون کا سب سے بنیادی اصول بیان کرتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

یہ آیت انسانی نفسیات کا نچوڑ ہے۔ جدید سائیکالوجی جس ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور ڈیپریشن کا حل مراقبہ اور میڈیٹیشن میں تلاش کرتی ہے، قرآن اسے اللہ کے ذکر سے جوڑ دیتا ہے۔ ذکر محض تسبیح کے دانوں کا نام نہیں بلکہ اللہ کی یاد، اس کی قدرت پر غور، اس کی ذات پر اعتماد اور اس کے فیصلوں پر رضا کا نام ہے۔ جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو خوف، حسد اور بے یقینی خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔

2۔ ایمان اور یقین کی طاقت

قرآن انسان کو ایسی فکری بنیاد فراہم کرتا ہے جو ذہنی اضطراب کی جڑ کاٹ دیتی ہے: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ۔ (الانعام: 82)

ایمان انسان کو داخلی تحفظ عطا کرتا ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ کائنات اندھی نہیں بلکہ ایک حکیم اور عادل رب کے نظام کے تحت چل رہی ہے تو اس کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔ ایمان خوفِ مستقبل کو امید میں بدل دیتا ہے۔

3۔ صبر: ذہنی سکون کی عملی مشق

زندگی آزمائشوں سے خالی نہیں۔ قرآن صبر کو محض خاموش برداشت نہیں بلکہ ایک فعال روحانی قوت قرار دیتا ہے: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 153)

یہ احساس کہ اللہ مشکل گھڑی میں انسان کے ساتھ ہے، ذہنی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ صبر انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا بلکہ نکھارتا ہے۔ جو شخص مصیبت کو وقتی مرحلہ سمجھتا ہے، وہ ذہنی انتشار سے محفوظ رہتا ہے۔

4۔ اللہ پر بھروسہ

ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان ہر چیز کا بوجھ خود اٹھانا چاہتا ہے۔ قرآن اس بوجھ کو بانٹنے کا سلیقہ سکھاتا ہے:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3)

توکل انسان کو یہ یقین دیتا ہے کہ نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ کوشش انسان کا فرض ہے، انجام اللہ کی ذمہ داری۔ یہ شعور ذہنی بوجھ کو ہلکا کر دیتا ہے۔

5۔ نماز: روحانی سکون کا سرچشمہ

قرآن نماز کو ذہنی سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے:وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ (البقرہ: 45)

نماز انسان کو روزمرہ کی دوڑ سے نکال کر رب کے حضور لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ چند لمحے انسان کو خود سےاور دنیا سے کاٹ کر اللہ سے جوڑ دیتے ہیں۔ نماز میں جسم، ذہن اور روح ایک ہم آہنگی میں آ جاتے ہیں، جو ذہنی سکون کی بنیاد ہے۔

6۔ قناعت اور سادہ طرزِ فکر

قرآن لامحدود خواہشات کو ذہنی بے چینی کی جڑ قرار دیتا ہے: وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ (الحجر: 88)

قناعت انسان کو موازنہ کی بیماری سے بچاتی ہے۔ جو شخص دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔

7۔ معافی اور درگزر

دل میں کینہ اور انتقام ذہنی سکون کو کھا جاتے ہیں۔ قرآن معافی کو دل کی شفا قرار دیتا ہے: فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (الشوریٰ: 40)

معاف کرنے والا دراصل خود کو آزاد کرتا ہے۔ یہ آزادی ذہنی سکون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

8۔ آخرت پر یقین

قرآن انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ زندگی کا حساب یہیں ختم نہیں ہوتا:وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ (العنکبوت: 64)

یہ یقین دنیا کے نقصانات اور ناانصافیوں کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ جو شخص آخرت کو سامنے رکھتا ہے وہ وقتی صدمات سے ٹوٹتا نہیں۔

قرآنِ مجید ذہنی سکون کے لیے کسی ایک نسخے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ایمان، ذکر، صبر، توکل، نماز، قناعت اور اخلاقی تطہیر کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔ یہ وہ سکون ہے جو وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے، جو حالات کا محتاج نہیں بلکہ دل کی کیفیت بن جاتا ہے۔ آج کا بے چین انسان اگر قرآن کو صرف تلاوت نہیں بلکہ فہم اور عمل کا ذریعہ بنا لے تو اس کا دل بھی اس وعدۂ الٰہی کا مصداق بن جائے گا: هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ (الفتح: 4)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha