تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی مقیم دہلی
حوزہ نیوز ایجنسی | رمضان المبارک اسلام کا وہ مقدس مہینہ ہے جس میں روزہ بطورِ عبادت فرض کیا گیا تاکہ انسان میں تقویٰ، تزکیۂ نفس اور قربِ الٰہی پیدا ہو۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روایات میں روزہ نہ صرف روحانی ارتقاء بلکہ جسمانی تطہیر اور اخلاقی استحکام کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس بھی اعتدال کے ساتھ رکھے گئے روزے کے متعدد فوائد کو تسلیم کرتی ہے۔ اس مقالہ میں قرآنی آیات، شیعہ اثنا عشری منابعِ حدیث اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ایک جامع اور مربوط تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید رمضان اور روزے کی حقیقت کو محض ایک عبادت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تربیتی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کا ذریعہ ہے اور اس کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے وحیِ الٰہی کی رہنمائی کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
مقصدِ صوم، تقویٰ الہی ہے چنانچہ خداوند کریم ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ… لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورۃ البقرہ 183)۔ اس آیت میں روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ بیان کیا گیا ہے۔ تقویٰ وہ باطنی کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتی اور خیر کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ روزہ انسان کو خواہشات پر قابو پانے کی عملی تربیت دیتا ہے، جس سے اس کے اندر ضبطِ نفس، صبر اور شعوری خدا ترسی پیدا ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرہ 184)۔ یہاں لفظ خیر اپنے اندر وسعت رکھتا ہے۔ اس میں روحانی خیر، جسمانی خیر اور اخروی کامیابی سب شامل ہیں۔ گویا روزہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے اور اسے ایک متوازن شخصیت عطا کرتا ہے۔
رمضان کی عظمت کا سب سے نمایاں پہلو نزولِ قرآن ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ 185)۔ اسی مہینے میں وہ بابرکت رات واقع ہے جسے لیلتہ القدر کہا جاتا ہے اور جس کے بارے میں فرمایا گیا: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر 3)۔ یہ رات روحانی ارتقاء کا نقطۂ عروج ہے اور بندے کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر اجر عطا کرتی ہے۔
قرآن کے بعد ائمۂ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات روزے کی گہرائی اور اس کی باطنی حکمتوں کو واضح کرتی ہیں۔ مصادرِ احادیث میں روزہ کو محض ظاہری عبادت نہیں بلکہ ایک باطنی انقلاب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: الصوم جُنَّة من النار (الکافی، ج 4، کتاب الصوم)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ انسان کو گناہوں اور روحانی خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ نفس کی سرکشی کو کم کر کے انسان کو الٰہی حدود کا پابند بناتا ہے۔
روایت میں آیا ہے: لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصِّيَامُ (من لا یحضره الفقیہ، ج 2، ص 75)۔ جس طرح زکوٰۃ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے، اسی طرح روزہ جسم کی تطہیر اور اعتدال کا وسیلہ بنتا ہے۔ اس میں جسمانی نظم و ضبط اور باطنی صفائی دونوں شامل ہیں۔
روزہ قربِ الٰہی کا وسیلہ اور اخلاص کی آزمائش ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: فرض الله الصيام ابتلاءً لإخلاص الخلق (نہج البلاغہ، حکمت 252)۔ اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ اخلاص کی آزمائش ہے۔ یہ عبادت انسان کو دکھاوے سے دور اور خلوص کی طرف مائل کرتی ہے، کیونکہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا حقیقی علم صرف خدا کو ہوتا ہے۔
روزہ اخلاقی تربیت میں مددگار ہوتا ہے۔ امام رضاؑ سے منقول ہے: إنما أُمروا بالصوم لكي يعرفوا ألم الجوع والعطش فيستدلوا على فقر الآخرة (علل الشرائع، ج 2، باب 182)۔ اس روایت میں روزے کی سماجی اور اخلاقی حکمت بیان ہوئی ہے کہ انسان بھوک اور پیاس کا تجربہ کر کے محروم طبقات کے احساس سے آشنا ہوتا اور آخرت کی فکر میں سنجیدہ بنتا ہے۔
روزہ کے جہاں عبادی اور اخلاقی فوائد ہیں وہیں طبی فوائد بھی کثیر ہیں۔ دورِ حاضر میں سائنس نے بھی روزے کے طبی اثرات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے Intermittent Fasting (وقفے وقفے سے کھانے پینے کا نظام جس میں مخصوص اوقات میں غذا لی جاتی ہے اور باقی وقت فاقہ رکھا جاتا ہے) کہا جاتا ہے۔ متعدد تحقیقات نے واضح کیا ہے کہ اعتدال کے ساتھ رکھا گیا روزہ انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
روزہ میٹابولک صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ de Cabo اور Mattson (2019، New England Journal of Medicine — نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن) کے مطابق وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے انسولین حساسیت میں بہتری اور وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس سے جسم کا میٹابولزم متوازن ہوتا ہے اور چربی کے ذخائر میں کمی آتی ہے۔
روزہ آٹو فجی (خلیاتی تجدید) کا باعث ہے۔ جاپانی سائنس دان Yoshinori Ohsumi یوشینوری اوہسومی کی تحقیق (نوبل انعام 2016) نے واضح کیا کہ فاقہ کشی خلیاتی صفائی کے عمل Autophagy خلیوں کی خود صفائی اور تجدید کا حیاتیاتی عمل کو فعال کرتی ہے، جس سے جسم کے خلیات کی تجدید ہوتی ہے اور پرانے یا مضر اجزاء خارج ہوتے ہیں۔
قلبی صحت میں روزہ اپنا کردار ادا کرکے انسانی عمر کو طولانی بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ American Heart Association امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدہ Circulation (سرکولیشن (2019) کے مطابق محدود اوقات میں غذا لینے سے بلڈ پریشر اور LDL کولیسٹرول میں کمی آ سکتی ہے، جس سے دل کے امراض کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں خون میں شکر (شوگر) کی زیادتی اور انسولین کے عدمِ توازن کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر انسولین مزاحمت (Insulin Resistance — یعنی وہ کیفیت جس میں جسم کے خلیات انسولین کے اثر کو صحیح طور پر قبول نہیں کرتے) ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں شمار ہوتی ہے۔ اس حالت میں لبلبہ (Pancreas) زیادہ انسولین پیدا کرنے پر مجبور ہوتا ہے، مگر خلیات اس ہارمون کا مؤثر جواب نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی سطح بلند رہتی ہے۔ Journal of Translational Medicine جرنل آف ٹرانسلیشنل میڈیسن (2014) کی تحقیق کے مطابق روزہ انسولین مزاحمت میں کمی لا سکتا ہے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، تاہم طبی نگرانی ضروری ہے۔
اگر روایاتِ اہلِ بیتؑ کے بیانات کا تقابلی جائزہ جدید سائنسی تحقیقات سے لیا جائے تو ایک دلچسپ ہم آہنگی سامنے آتی ہے۔ تزکیۂ نفس کو آج کی زبان میں Detoxification جسم سے مضر مادّوں کا اخراج ، اخلاص و صبر کو Stress Control ذہنی دباؤ پر قابو پانا ، جسم کی زکوٰۃ کو Metabolic Reset جسمانی نظامِ ہضم اور میٹابولزم کی ازسرِ نو تنظیم اور قربِ الٰہی کو Psychological Well-being نفسیاتی و ذہنی آسودگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہم آہنگی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ شریعتِ محمدیؐ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
روزہ کے اپنے روحانی و نفسیاتی اثرات ہیں۔ روزہ انسان کے نفس کو مہذب اور روح کو منور کرتا ہے۔ یہ عبادت صبر، ضبطِ نفس اور اخلاقی استحکام پیدا کرتی ہے۔ ذہنی دباؤ میں کمی، عبادت میں انہماک اور قربِ الٰہی کی کیفیت اس کے نمایاں ثمرات ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: للصائم فرحتان: فرحة عند إفطاره وفرحة عند لقاء ربه (الکافی، ج 4)۔ یہ روایت روزے کی دنیاوی اور اخروی مسرتوں کو ایک جامع انداز میں بیان کرتی ہے کہ روزہ دار کو ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہوتی ہے۔
رمضان المبارک ایک جامع تربیتی و شفائی نظام ہے۔ قرآن مجید نے اسے خیرٌ لکم قرار دیا، ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے اس کی روحانی و اخلاقی حکمتوں کو بیان فرمایا اور جدید سائنس نے اس کے طبی فوائد کی توثیق کی۔ یوں روزہ انسان کی روح، جسم اور معاشرتی کردار تینوں کو سنوارتا ہے اور اسے ایک متوازن اور باوقار شخصیت عطا کرتا ہے۔
رب کریم ہمیں ماہِ رمضان کی برکات سے بہرہ مند ہونے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور آخری حجت امام زمانہ کے ظہور میں تعجیل فرمائے ۔ آمین والحمدللہ رب العالمین۔
مصادر و مراجع
سورۃ البقرہ: 183–185
سورۃ القدر: 1–5
الکافی، ج 4، کتاب الصوم
من لا یحضره الفقیہ، ج 2
تہذیب الاحکام، ج 4
وسائل الشیعہ، ابواب الصوم
نہج البلاغہ
علل الشرائع
جدید طبی مصادر
1. de Cabo & Mattson (2019). NEJM (نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن)۔
2. Longo & Panda (2016). Cell Metabolism (سیل میٹابولزم)۔
3. Harvie & Howell (2014). Journal of Translational Medicine (جرنل آف ٹرانسلیشنل میڈیسن)۔
4. American Heart Association (2019). Circulation (سرکولیشن)۔
06:16 - 2026/02/23









آپ کا تبصرہ