اتوار 19 اپریل 2026 - 01:03
علماء کی مدح و مرثیہ: روایت، اہمیت اور تعمیری رویہ

حوزہ/ہر زبان کے ادب میں علماء اور بزرگانِ دین کی مدح، وفات پر مرثیہ اور نوحہ خوانی کی ایک پرانی اور پُرمغز روایت رہی ہے۔ یہ صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، ان کے مشن کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو ان سے روشنی لینے کا ذریعہ ہے۔

تحریر: آغا سید عابد حسین الحسینی

حوزہ نیوز ایجنسی| علماء دین، خاص طور پر وہ بزرگ جو اپنی پوری زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور دین کی سرفرازی کے لیے وقف کر دیں، امت کے لیے مشعلِ راہ ہوتے ہیں۔ شہید رہبر معظم انقلاب حضرت آیت الله العظمی سید علی الحسینی خامنه ای قدس الله نفسه زکیه جیسی ہستیاں نہ صرف اپنے علم اور عمل سے بلکہ اپنی شہادت کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ مرحوم آیت اللہ حسن زادہ آملی قدس اللہ سرہ نے ان کے بارے میں فرمایا: "میں نے کبھی آپ سے کوئی مکروہ عمل سرزد ہوتے نہیں دیکھا" یہ اس بلند مرتبت شخصیت کی پاکیزگی کی غماز ہے۔ خدا نے انکے کاندوں پر اسلامی کی سرفرازی کے لئے زمیں ہموار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جو بنحو احسن انجام دی جس کا صلہ عظیم شھادت میں آپ کو نصیب ہوا. اپ کے بارے میں مرثیہ ثرائی اور نوحہ خوانی کو تشویق کے بجائے تنبیہ اور تنقید کا نشانہ بنانا شیطانی وسواس کے سوا کچھ نہیں ہے۔

علماء کی مدح و مرثیہ: روایت، اہمیت اور تعمیری رویہ

مرثیہ: ایک علمی اور ادبی روایت

ہر زبان کے ادب میں علماء اور بزرگانِ دین کی مدح، وفات پر مرثیہ اور نوحہ خوانی کی ایک پرانی اور پُرمغز روایت رہی ہے۔ یہ صرف غم کا اظہار نہیں، بلکہ ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، ان کے مشن کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو ان سے روشنی لینے کا ذریعہ ہے۔

عربی فارسی اور اردو میں علماء پر لکھی گئی مرثیوں کے چند منتخب اور مشہور نمونے ان کے اصل متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ پیش ہیں:

۱. عربی مرثیہ: تاریخ اسلام کے مشہور ترین مراثی میں سے ہے جو سید رضی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اپنے استاد شیخ مفید رحمت اللہ علیہ کے لیے لکھی تھی۔

لا صَوَّتَ النَّاعِی بِفَقْدِکَ إنَّمَا
نُعِیَ الأَمَانُ وَ زُعْزِعَ الإسْلَامُ

ترجمہ: تیری وفات کی خبر دینے والے نے صرف تیری موت نہیں سنائی، بلکہ امن و امان کے اٹھ جانے اور اسلام کے لرز اٹھنے کی خبر دی۔ تیری وفات کا دن صرف ایک شخص کا دن نہیں تھا، بلکہ یہ ایسا دن تھا جس نے زمانے کے ایام کو (خسارے سے) مسمار کر دیا۔
ماخذ: دیوان الشریف الرضی / الکنی و الالقاب (محدث قمی)۔

۲. فارسی مرثیہ: جناب محتشم کاشانی علیہ رحمۃ نے عالمانِ دین کی جدائی کو کائنات کے نظام میں خلل سے تعبیر کیا ہے۔

ای فلک بر مقتدای اهل عالم گریه کن
بر وفاتِ پیشوای دین و عالم گریه کن
کُرسی و لوح و قلم را جامهٔ ماتم بپوش
در عزای وارثِ جاہِ مکرم گریه کن

ترجمہ: اے آسمان! اہلِ عالم کے پیشوا پر، دین اور علم کے سردار کی وفات پر آنسو بہا۔عرش، لوح اور قلم کو ماتمی لباس پہنا دے، اور اس جاہ و حشمت والے (علم کے) وارث کے غم میں گریہ کر۔
ماخذ: کلیات محتشم کاشانی (بخش مراثی)

۳. فارسی مرثیہ : ملک الشعراء بہار نے شہید مدرس کی وفات پر جو اشعار کہے وہ ایک عالمِ باعمل کی ہمت کو ظاہر کرتے ہیں۔

رفت از جهان مربیِ دین، مقتدای خلق
آن مایهٔ امید و ثبات و وفای خلق
صد حیف از آن معلّمِ با دانش و شرف
کز کف برفت و سوخت دلِ با صفای خلق

ترجمہ: دنیا سے دین کا مربی، خلق کا پیشوا چلا گیا وہ جو لوگوں کی امید، استحکام اور وفا کا سرمایہ تھا۔اس با دانش اور صاحبِ شرف معلم پر سو افسوس! کہ وہ ہاتھ سے چلا گیا اور اس نے خلقِ خدا کے باصفا دلوں کو (غم سے) جلا دیا۔
ماخذ: دیوان ملک الشعراء بہار

۴. اردو مرثیہ : برصغیر میں مرثیہ نگاری نے ایک منفرد مقام پایا۔ الطاف حسین حالی، دبیر، انیس اور علامہ اقبال نے علماء اور بزرگانِ دین کی رحلت کو قومی اور مذہبی المیے کے طور پر پیش کیا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے کئی جلیل القدر علماء اور مفکرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مرثیہ "داغ" (نواب مرزا داغ دہلوی کی یاد میں) اور "مرثیہ داغ" کے علاوہ "مولانا شبلی نعمانی" اور "سید جمال الدین افغانی" پر لکھے گئے اشعار ہیں۔

لیکن خالصتاً ایک اکابر عالمِ دین پر لکھے گئے مرثیے کا بہترین نمونہ علامہ اقبال کی وہ نظم ہے جو انہوں نے "مولانا شبلی نعمانی" کی وفات پر لکھی تھی۔
نظم "شبلی و حالی" (بانگِ درا) سے چند منتخب اشعار درج ذیل ہیں جو ایک عالمِ باعمل کی جدائی کے درد کو بیان کرتے ہیں:

گلشنِ دہر میں وہ مایہِ صد رشک و نیاز
وہ غزالِ حرمِ علم کہ تھا حد سے رم‌تاز
بجھ گیا وہ جو چمکتا تھا ستارہ بن کر
اُٹھ گیا وہ جو غریبوں کا سہارا بن کر
تھا عجب اس کی طبیعت میں جلال و اکرام
حق تو یہ ہے کہ بہت تھا وہ بڑا مردِ تمام

شہید رہبر معظم انقلاب اور مرثیہ خوانی کی اہمیت

شہید رہبر معظم انقلاب نے اپنی زندگی اسلامی اقدار کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ ان کی شہادت کے بعد جو مرثیے اور نوحے لکھے اور پڑھے گئے، وہ محض روایتی ماتم نہیں، بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا ایک پیغام ہیں۔ یہاں پر معروف و مشہور شعرا، ذاکر حضرات اور نوحہ خوان کی خاموش پر سوال بنتا ہے ! نہ کہ ان پر تنقید کرنا، انکے خلاف بد اخلاقی اور بدزبانی شیطانی وسوسہ ہے انکی کوشش درواقع وہی راستہ ہے جو اہلبیت علیہم السلام نے سکھایا: سچے عاشق کا دل امام کے غم میں دھڑکتا ہے۔

تعمیری تنقید کی گنجائش

ہاں، اگر کسی مرثیے یا نوحے میں تحریف یا تبدیلی کر کے اسے پیش کیا جائے مثلاً تاریخی حقائق سے انحراف یا غیر شرعی ترنم تو علما اور اہلِ قلم کا فرض ہے کہ وہ علمی اور ادیبانہ انداز میں اصلاح کریں۔ اور انکے ساتھ ساتھ معروف ذاکرین کی خاموشی کو تڑوانے کی کوشش کی جائے اور بہتر یہ ہے کہ تنقید کے بجائے، اس فرد کے ساتھ مل بیٹھ کر نیا کلام تخلیق کیا جائے جو شرعی اور ادبی اصولوں کی پاسداری کرے۔ یہ تعمیری اقدام تنقید سے کہیں زیادہ مؤثر اور رحم دلی کا تقاضا ہے۔

نتیجہ: احساسِ ذمہ داری

امت کے ذمہ دار افراد، خاص طور پر ذاکرین اور مرثیہ خوانوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے کلام سے جذبات صحیح سمت جائیں، غفلت نہ پھیلے، اور وسائل کی محبت انسان کو خدا اور اہلِ بیت کی محبت سے غافل نہ کر دے۔ ایران میں ذاکرین حضرات مرثیہ اور نوحہ کے ذریعہ ہی لوگوں کے جذبات کا صیحیح سمت میں رواں دواں رکھتے ہیں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب حدیث ہے:
«یا بنَ آدَمَ، قُمْ إلَيَّ أمشِ إلَيكَ، و امشِ إلَيَّ اُهَروِلْ إلَيكَ»
(اے ابنِ آدم! میرے لیے اٹھ، میں تیرے لیے چلوں گا؛ میرے لیے چل، میں تیری طرف دوڑوں گا)

جو شخص خدا کے لیے ایک قدم اٹھاتا ہے، خدا اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے صرف خدا کی نافرمانی کا خوف باقی سب کچھ اس کی رحمت کے سائے میں آسان ہو جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha