تحریر: مولانا صادق الوعد
حوزہ نیوز ایجنسی|
عالمی سیاست کے افق پر پچھلے تقریباً ایک مہینے سے چار نام مسلسل گونج رہے ہیں:
ایران، امریکہ، اسرائیل اور پاکستان۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل اس لیے مرکزِ توجہ ہیں کہ برسوں سے جاری کشیدگی اب کھلے تصادم اور جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان کا نام اس لیے شہ سرخیوں میں ہے کہ وہ اس پوری سنگین صورتِ حال میں ایک نہایت اہم، نازک اور پیچیدہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے حساس مرحلے پر ثالث کے طور پر پاکستان ہی کیوں منتخب ہوا؟
کیا صرف اس لیے کہ وہ ایران کا ہمسایہ ہے؟
یا اس لیے کہ وہ ایک مسلم ملک ہے؟
یا اس وجہ سے کہ اس کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات نسبتاً متوازن رہے ہیں؟
یا پھر اس لیے کہ پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت ہمیشہ سے ایران کے حق میں نرم گوشہ رکھتی آئی ہے؟
یہ تمام عوامل بلاشبہ اہم ہیں، لیکن فیصلہ کن اور بنیادی وجہ نہیں کہی جا سکتیں۔
حقیقی سبب تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس سہ ملکی جنگ سے پہلے کے حالات، سفارتی مناظر اور اسٹرٹیجک پس منظر پر نظر دوڑانی ہوگی۔
اسرائیل گزشتہ تقریباً ستر برس سے زیادہ عرصے سے ایک تصور یعنی گریٹر اسرائیل کے تعاقب میں ہے۔ یہ محض چند سرحدوں کی توسیع نہیں بلکہ سیاسی غلبے، عسکری برتری اور مذہبی برتری کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے دور رس اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالم اسلام پر مرتب ہوتے ہیں۔
البتہ اب تک اسرائیل اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔
صورتحال اُس وقت ڈرامائی طور پر بدلی جب امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ برسر اقتدار آئی۔
اس دور میں واشنگٹن:
سو فیصد اسرائیل کے ساتھ صف آراء دکھائی دیا، بلکہ خود اسرائیل سے بھی بڑھ کر گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا حامی اور متحرک کردار بن گیا۔
یہ صرف سیاسی مفادات کی موافقت نہیں تھی، بلکہ اس میں مذہبی فکر اور نظریاتی وابستگی بھی جھلکتی تھی۔ یوں لگا جیسے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نہ صرف مفادات کی شراکت ہے بلکہ نظریے اور عقیدے کی ہم آہنگی بھی۔
اسرائیل–ہندوستان گٹھ جوڑ
مشترکہ دشمنی کی سمت
گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تل ابیب نے خطے میں ایک ایسا اتحادی تلاش کیا جس کے دل میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری مخاصمت ہو۔ یہ اتحادی نکلا ہندوستان، جس کی موجودہ قیادت کھلے عام اسلام مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے ہے۔
اسرائیل اور بھارت دونوں، مسلم دنیا کے حوالے سے مشترکہ تشویش اور دشمنی رکھتے ہیں، دونوں توسیع پسندانہ سوچ کے حامل ہیں اور دونوں کے مفادات کا بڑا حصہ مسلم اکثریتی خطوں کو کمزور کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
جنگ سے محض دو دن پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا اہم دورہ کیا۔ تل ابیب ائیرپورٹ پر اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے نہایت گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں کی مسکراتی تصاویر، مضبوط مصافحہ اور میڈیا بیانات نے عالم اسلام کے لیے ایک واضح پیغام دے دیا کہ:
ہم مشترکہ مفادات اور مشترکہ ‘خطرات’ کے مقابلے میں ایک اسٹرٹیجک اتحاد قائم کر چکے ہیں، اور مستقبل کی منصوبہ بندی ساتھ مل کر کریں گے۔
اس ملاقات اور اس کے مضمرات کو سب سے پہلے اور سب سے گہرائی سے جن دو مسلم ممالک نے محسوس کیا، وہ تھے ایران اور پاکستان۔
ایران اور بھارت کے درمیان اگرچہ ماضی میں سیاسی و اقتصادی تعلقات مجموعی طور پر نارمل رہے، لیکن جیسے ہی اسرائیل–بھارت قربت نے اسلامی شناخت اور تہذیبی تصادم کی سمت اشارہ کیا، ایران کے لیے اس منظرنامے کو نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے بھارت عرصہ دراز سے ازلی دشمن کی حیثیت رکھتا ہے۔
کشمیر کے مسئلے سے لے کر سرحدی جھڑپوں، سفارتی محاذ آرائی سے لے کر عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف مہم تک، بھارت کی پالیسی کا محور اکثر و بیشتر پاکستان مخالف ایجنڈا رہا ہے۔
ایسی صورت میں ایران کے لیے ایک اندرونی فیصلہ ناگزیر تھا:جس طرح اسرائیل اسلامی جمہوریہ ایران اور امت مسلمہ کا دشمن ہے، اسی طرح اسرائیل کے ساتھ کھلے یا خفیہ اتحاد میں شامل ہونے والا ملک بھی ایران کی نگاہ میں دشمنی کے درجے سے کم نہیں ہو سکتا۔ البتہ جواب دینے کے طریقے اور میدان مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اصولی موقف واضح ہے۔
سہ ملکی جنگ اور ثالث کی مجبوری
جب یہ سہ ملکی جنگ زور پکڑ کر دو ہفتوں پر محیط ہو چکی تھی تو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ:
اس جغرافیائی ماحول، اس نوعیت کی مزاحمت، اور اس سطح کے عزم مزاحمت کے ساتھ ایران کو شکست دینا محض فوجی زور سے ممکن نہیں۔
ایسے میں انہیں ایک تیسرے فریق کی ضرورت محسوس ہوئی، ایسا ثالث جو عالمی سطح پر قابلِ قبول ہو!
ایران سے براہ راست بات چیت کی صلاحیت اور اعتماد رکھتا ہو، امریکہ سے روابط اور رسائی بھی ہو اور جو کم از کم سفارتی سطح پر معتبر اور نسبتاً غیر جانب دار تصور کیا جاتا ہو۔
امریکہ نے روایتی انداز میں سب سے پہلے اپنے اتحادیوں اور نیٹو ممالک سے رابطے کیے، مگر یہ وہ موڑ تھا جہاں: کئی اتحادی ممالک نے اس پیچیدہ تنازع میں گہرائی سے مداخلت سے گریز کیا اور کچھ نے ایسی ثالثی سے صاف معذرت کر لی۔
یوں، واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے سامنے آپشنز محدود ہوتے گئے، اور بالآخر نگاہیں پاکستان پر ٹھہر گئیں۔
پاکستان کے لیے سنہری موقع
یہ وہ موقع تھا جب ایک پرانی فارسی کہاوت حرف بہ حرف سچ نظر آئی: “عدو شود سببِ خیر اگر خدا بخواہد”
یعنی اگر خدا چاہے تو دشمن بھی خیر و بھلائی کا سبب بن جاتا ہے۔
اس مرحلے پر:
ایک طرف امریکہ اور اسرائیل مجبوری کے عالم میں پاکستان کی طرف رجوع کر رہے تھے، دوسری طرف ایران بھی حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔
یوں اسرائیل اور بھارت – جو امتِ مسلمہ کے دو بڑے مخالف اور ازلی دشمن ہیں –
خود سبب بنے کہ دو اہم اسلامی ممالک، ایران اور پاکستان، مزید قریب آ جائیں اور ایک دوسرے پراعتماد کی نئی بنیاد رکھ دیں۔
ایران نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا اور اسلام آباد میں ایک اہم اعلیٰ سطحی وفد بھیج کر باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا۔
اس کے جواب میں پاکستان کے آرمی چیف نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں:
سیاسی قیادت کے ساتھ تفصیلی گفتگو، خطے کی سلامتی، دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک اشتراک پر تبادلۂ خیال اور مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
ان ملاقاتوں کا ایک اہم اور علامتی طور پر بہت بڑا واقعہ یہ تھا کہ پہلی بار ایران کے حساس ترین فوجی مرکز خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر میں ایک نہایت اہم نشست ہوئی۔ بظاہر یہ محض ایک ملاقات تھی،
مگر حقیقت میں یہ:
اعتماد کی تجدید، قربت کی توثیق، اور نئے دفاعی و سیاسی باب کا آغاز تھا۔
آنے والے وقتوں میں اس دورے اور ان خفیہ و علانیہ بات چیت کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی،
لیکن آج کی حد تک اتنا کہنا غلط نہ ہوگا کہ: پاکستان اور ایران اب صرف ہمسایہ ممالک نہیں رہے، بلکہ دو جسم اور ایک جان کی طرح مشترکہ مفادات اور مشترکہ دشمنوں سے جڑتے جا رہے ہیں۔ ایران کا دشمن، پاکستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے؛ اور پاکستان کے مخالفین، ایران کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہ سکتے۔
دشمنوں کے نام پیغام
یہ ساری پیش رفت صرف ایک سفارتی مشق یا عارضی ضرورت نہیں، بلکہ ازلی دشمنوں کے لیے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام بھی ہے:
اگر اسرائیل اور ہندوستان مل کر جنگ کے شعلے بھڑکا سکتے ہیں تو اس جنگ کا اختتام، اس کے سیاسی نتائج اور اس کے حقیقی اثرات کا فیصلہ ایران اور پاکستان بھی مل کر کر سکتے ہیں۔
اس نئے منظرنامے میں مسلم دنیا کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا ہے:
کیا وہ اس موقع کو نئی صف بندی، باہمی اتحاد اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے آغاز کے طور پر استعمال کرے گی، یا ایک بار پھر داخلی اختلافات اور باہمی بد گمانیوں کے طوفان میں بہہ جائے گی؟
اگر ایران اور پاکستان سیاسی بالغ نظری، بردباری اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو بعید نہیں کہ وہ دن آئے جب گریٹر اسرائیل کا خواب صرف ایک ناکام منصوبہ بن کر تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے اور امتِ مسلمہ کے خلاف بنائے جانے والے اتحاد کل کے عبرت ناک ابواب کی حیثیت سے ہی یاد کیے جائیں۔
نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔









آپ کا تبصرہ