جمعرات 21 مئی 2026 - 20:27
مردانِ حق کا عالمی استکباری طاقتوں سے مقابلہ

حوزہ/تاریخِ انسانیت میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب حق و باطل کی کشمکش صرف میدانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ افکار، نظریات اور ضمیروں کی جنگ بن جاتی ہے۔ موجودہ دور بھی انہی حساس ادوار میں سے ایک ہے، جہاں ایک طرف استکباری طاقتیں ظلم، جبر اور انسانیت دشمنی کے ذریعے دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف وہ مردانِ حق موجود ہیں جو ہر قیمت پر مظلومینِ عالم کی حمایت اور اسلامِ نابِ محمدی کے دفاع کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر سید محمد کوثر علی جعفری (ممبر مسلم پرسنل لاء بورڈ جموں وکشمیر)

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ انسانیت میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب حق و باطل کی کشمکش صرف میدانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ افکار، نظریات اور ضمیروں کی جنگ بن جاتی ہے۔ موجودہ دور بھی انہی حساس ادوار میں سے ایک ہے، جہاں ایک طرف استکباری طاقتیں ظلم، جبر اور انسانیت دشمنی کے ذریعے دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف وہ مردانِ حق موجود ہیں جو ہر قیمت پر مظلومینِ عالم کی حمایت اور اسلامِ نابِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دفاع کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔

گزشتہ پچھتر دنوں سے جمہوریۂ اسلامی ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ نے پوری دنیا کو ایک مرتبہ پھر یہ دکھا دیا کہ باطل اپنی تمام تر طاقت، سازشوں اور میڈیا کے باوجود حق کے چراغ کو بجھا نہیں سکتا۔ ایرانی قوم نے اس عظیم آزمائش میں بے مثال صبر، استقامت اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی۔ جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ماؤں نے اپنے لختِ جگر راہِ خدا میں پیش کیے، اور پوری قوم نے ثابت کر دیا کہ ایمان، غیرت اور ولایت سے وابستہ قومیں کبھی شکست نہیں کھاتیں۔

ان عظیم قربانیوں میں سب سے عظیم قربانی رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای قدس سرہ الشریف کی قربانی ہے۔ یقیناً ان کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی پوری زندگی شجاعت، بصیرت، استقامت اور دفاعِ مظلومین کا روشن باب تھی۔ انہوں نے ہمیشہ فرمایا:

“مجھ جیسا شخص کبھی بھی ان خبیث طاقتوں کے سامنے بیعت نہیں کر سکتا۔”

اور حقیقت میں انہوں نے اپنے قول کو اپنے عمل سے سچا ثابت کر دکھایا۔ انہوں نے ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے مولاۓ کائنات حضرت علی علیہ السلام اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے راستے کو اختیار کیا اور اپنی جان اسلامِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان کر دی۔

آج ان کی شہادت کے بعد پوری دنیا میں ایک نئی بیداری، ایک نیا شعور اور ایک نئی روح پیدا ہوئی ہے۔ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ اہلِ سنت، آزاد فکر ہندو، سکھ، عیسائی اور دنیا کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایران اور محورِ مقاومت کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ امریکہ اور اسرائیل صرف ایک خطے کے دشمن نہیں بلکہ پوری انسانیت کے امن، آزادی اور عزت کے مخالف ہیں۔

اسی دوران ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آئی۔ ہمارے معاشرے میں، میں، کچھ ایسے افراد اور علماء بھی موجود رہے جنہوں نے رہبرِ معظم کی پوری حیات میں کبھی ولایت کے حق میں کھل کر آواز بلند نہیں کی۔ نہ اپنی مجالس میں آغا کا ذکر کیا اور نہ عوام کو اس عظیم مردِ مؤمن کی خدمات سے روشناس کرایا۔ بلکہ جو علماء ولایت اور رہبرِ معظم کا ذکر کرتے تھے، بعض اوقات انہیں طعنے دیے گئے، اور انہیں “پلانٹڈ لوگ” جیسے القابات سے نوازا گیا۔ مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ حق کو دبایا نہیں جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں اگر کسی نے اسلامِ نابِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پرچم دنیا بھر میں سربلند رکھا، اگر کسی نے امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچی، اگر کسی نے دنیا کے ہر خطے — امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا — میں مظلوموں کی حمایت اور دینِ خدا کی خدمت کی، تو وہ یہی مردِ مؤمن تھے۔ آج دنیا کے ہر کونے میں ایران کی علمی، فکری، دینی اور انقلابی خدمات کے آثار نمایاں ہیں۔

اسی لیے آج ہر صاحبِ بصیرت انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر کسی مجلس میں ولایت، مقاومت اور رہبرِ معظم کا ذکر نہ ہو تو وہ مجلس ایک اہم روح سے خالی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ اس دور میں اسلام اور مظلومینِ عالم کے لیے جو قربانیاں پیش کی گئیں، ان کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

الحمدللہ آج وہ لوگ بھی رہبرِ معظم کا نام لینے پر مجبور ہو گئے ہیں جو کل تک خاموش تھے۔ مگر عوام باشعور ہیں، وہ سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں۔ لوگ بخوبی محسوس کرتے ہیں کہ یہ تبدیلی حقیقی محبت اور عقیدت کا نتیجہ نہیں بلکہ وقت کے دباؤ اور بدلتے حالات کی مجبوری ہے۔ جب پوری دنیا نے حق اور باطل کے فرق کو واضح طور پر دیکھ لیا تو خاموشی اختیار کرنا ممکن نہ رہا۔

البتہ ہم اپنے ان مخلص اور باوفا علماء کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے جنہوں نے ہر دور میں ولایت کا دفاع کیا، ہر مجلس میں رہبرِ معظم کا ذکر کیا، اور لوگوں کو یہ بتایا کہ آج کے دور میں ایک مردِ مؤمن کس طرح علیؑ و حسینؑ کے راستے پر چلتے ہوئے اسلامِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کر رہا ہے۔ یہی وہ علماء ہیں جنہوں نے حق کا عَلَم بلند رکھا اور لوگوں کے دلوں میں بصیرت، شعور اور مقاومت کی روح پیدا کی۔

لہٰذا آج ہر مومن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کا بصیرت کے ساتھ جائزہ لے، حق و باطل میں فرق کرے، اور یہ پہچانے کہ کون لوگ مشکل ترین حالات میں حق کے ساتھ کھڑے رہے اور کون لوگ خاموش تماشائی بنے رہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ اُنہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو ظلم کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں اور حق کی خاطر قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔

پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ولایت کی صحیح معرفت عطا فرمائے، حق پر ثابت قدم رکھے، ہمارے دلوں کو ایمان و بصیرت سے منور کرے، اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرمائے جو ہر دور میں حق و عدالت کے علمبردار رہتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha