حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن (اے جے کے ایس اے) کے زیرِ اہتمام آستانِ عالیہ حضرت سید محمد اردبیلیؒ، حبک آرمپورہ پٹن میں منعقدہ دو روزہ مجلسِ حسینی جمعہ کے روز اختتام پذیر ہوگئی۔ اس عظیم مذہبی اجتماع میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور اہلِ بیتؑ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔

دو روز تک جاری رہنے والی مجالس میں ممتاز ذاکرین، علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز نے خطاب کرتے ہوئے اہلِ بیتؑ کی سیرت، واقعۂ کربلا اور اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے ایمان، قربانی، عدل، صبر، ایثار اور ظلم کے خلاف استقامت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو حسینی کردار اپنانے کی تلقین کی۔
اختتامی مجلسِ عزا سے آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عمران رضا انصاری نے خطاب کیا۔ انہوں نے عیدِ مباہلہ کی تاریخی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن حق اور باطل کے درمیان امتیاز کی روشن مثال ہے، جب رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے اہلِ بیتؑ کو حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ عیدِ مباہلہ کا پیغام اور محرم الحرام کی قربانیاں امتِ مسلمہ کو حق، عدل اور استقامت کے راستے پر گامزن رہنے کی دعوت دیتی ہیں۔

مولوی عمران رضا انصاری نے کہا کہ اسلام کی بنیاد قربانیوں سے مضبوط ہوئی ہے اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی نے دینِ اسلام کو نئی زندگی بخشی۔
انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، حق کا ساتھ دینے اور انسانی اقدار کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔
مجلس کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں اور ان کے ساتھ اپنی عقیدت و یکجہتی کا اظہار کیا۔
مقررین نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، مزاحمت، استقامت اور عالمی سطح پر مظلوم اقوام کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔
اجتماع میں شریک ہزاروں عزاداروں نے واقعۂ کربلا، امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امام حسینؑ کے پیغامِ حریت، عدل، اخوت اور حق گوئی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
مجلسِ حسینی کے موقع پر مختلف سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اس موقع پر ایک خصوصی بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد کیا گیا جہاں نوجوانوں اور عقیدت مندوں نے خون کے عطیات پیش کرکے انسانی خدمت اور ایثار کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اجتماع گاہ کے اطراف متعدد سبیلیں، جوس اور ریفریشمنٹ اسٹالز قائم کیے گئے تھے، جبکہ مختلف تنظیموں اور مقامی افراد کی جانب سے عزاداروں کے لیے کھانے اور دیگر سہولیات کا بھی وسیع انتظام کیا گیا تھا۔

اختتام پر لبنان، فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ منتظمین نے علماء، ذاکرین، رضاکاروں اور ہزاروں عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون اور بھرپور شرکت نے اس دو روزہ مذہبی اجتماع کو کامیاب بنایا۔یہ ورژن اخبارات، نیوز پورٹلز اور پریس ریلیز کے لیے موزوں اور پیشہ ورانہ انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔
شرکاء اور منتظمین نے جموں و کشمیر انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت ہزاروں افراد کی موجودگی کے باوجود مجلس کے تمام پروگرام پرامن، منظم اور خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔









آپ کا تبصرہ