تحریر: عظمت علی نئی دہلی
حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام کی آمد آمد ہے اور حسبِ معمول اختلافات نے بھی سر اٹھا لیا ہے۔ کچھ لوگ اُن نوحہ خوانوں اور ذاکرین پر تنقید کر رہے ہیں جنہوں نے ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت نہیں کی یا بعض اہم شخصیات کی شہادت پر کوئی ردِّ عمل ظاہر نہیں کیا۔ دوسری جانب ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ ذاکر اور نوحہ خوان کا اصل موضوع کربلا اور حضرت اباعبد اللہ الحسینؑ ہیں؛ لہٰذا ان کا معاصر سیاسی و سماجی مسائل سے براہِ راست تعلق نہیں۔
دونوں جانب سے دلائل دیے جا رہے ہیں اور یوں اختلافِ رائے بتدریج ایک ایسی فضا کو جنم دے رہا ہے جو اتحاد کے بجائے انتشار کو فروغ دے رہی ہے۔
اب علما و خطبا میدان میں آئیں گے، اپنے اپنے نظریات کے حق میں خطاب کریں گے اور ان مجالس کا عنوان ہوگا ’’مجلسِ سید الشہداءؑ‘‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مجلس کا مقصد محض اختلافی مباحث ہیں یا اس کا محور و مرکز پیغام کربلا ہے؟
مجلس کا اختتام مصائبِ کربلا پر ہوتا ہے اور سامعین گریہ و زاری کے ذریعے اہلِ بیتؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن یہ گریہ محض جذباتی اظہار نہیں؛ اس کے پس منظر میں تدبر، تفکر، خود احتسابی اور انسانی نفسیات کی گہری تعلیم پوشیدہ ہے۔ افسوس کہ نہ ہم اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں اور نہ اکثر مجالس میں اس پر خاطر خواہ گفتگو ہوتی ہے۔
روایتی طور پر مجلس کے دو حصے ہوتے ہیں: فضائل اور مصائب۔ بہتر تعبیر میں کہا جائے تو فضائلِ اہلِ بیتؑ اور مصائبِ اہلِ بیتؑ۔ تاہم وقت کے ساتھ معاشرے بدلتے ہیں، انسانی مسائل کی نوعیت تبدیل ہوتی ہے اور نئی فکری و سماجی ضروریات جنم لیتی ہیں۔ دین اپنے بنیادی اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اُن تمام مثبت تبدیلیوں کا خیر مقدم کرتا ہے جو اس کی روح اور تعلیمات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس لیے فضائل کے باب میں حالاتِ حاضرہ، جدید علوم، سماجی چیلنجز اور انسانی ترقی سے متعلق علمی و تحقیقی گفتگو نہ صرف جائز بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہم نے حالاتِ حاضرہ کے نام پر بہت سے اختلافی اور تنازعاتی مباحث سن لیے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ منبر سے علمی ترقی، فکری بالیدگی، تحقیق، تعلیم، سائنسی شعور اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امت کی رہنمائی کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز کون کرے؟ ظاہر ہے کہ اس ذمہ داری کا سب سے بڑا حصہ علما، خطبا اور دینی دانش وروں کے کندھوں پر عائد ہوتا ہے۔
ہم مجالس کو ’’عالمی درس گاہِ کربلا‘‘ قرار دیتے ہیں اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ کربلا کو محض ایک مخصوص مذہبی دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عالمی انسانی ورثے کے طور پر کیسے پیش کیا جائے؟
دنیا کو یہ کیسے بتایا جائے کہ کربلا آج بھی کیوں زندہ اور مؤثر ہے؟
حق کے لیے قربانی، ظلم کے مقابل استقامت، اصولوں پر ثابت قدمی اور انسانی وقار کی حفاظت—کیا یہ صرف تاریخی واقعات ہیں یا آج بھی انسانیت کی بنیادی ضرورت؟
یہ بھی غور طلب ہے کہ مجالس میں ہر عمر، ہر طبقے اور مختلف فکری سطح کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ اگر منبر سے ایسی گفتگو کی جائے جس کا فائدہ صرف ایک محدود گروہ تک پہنچے تو مجلس کا دائرۂ اثر محدود ہو جاتا ہے۔ منبرِ حسینؑ پر بیٹھنا ایک عظیم ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری صرف خطیب ہی کی نہیں بلکہ منتظمین کی بھی ہے۔ جس خطیب کو منبر پر دعوت دی جاتی ہے، اس کے انتخاب کی ذمہ داری بھی منتظمین پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے تنقید کا رخ صرف خطیب کی طرف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس پورے عمل میں دونوں فریق شریک ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مقصدِ کربلا کو بہترین ذرائع اور جدید اسالیب کے ذریعے اپنے محدود فکری دائروں سے نکال کر عالمی سطح پر پیش کیا جائے۔ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک دائمی انسانی شعور ہے۔ اگر ہم اس کی افادیت، عالمگیریت اور عصری معنویت کو مؤثر انداز میں بیان کر سکیں تو منبرِ حسینؑ محض ایک مذہبی پلیٹ فارم نہیں رہے گا بلکہ انسانیت کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ بن جائے گا۔









آپ کا تبصرہ