تحریر: عامر حسین کشمیری
حوزہ نیوز ایجنسی| اللہ تعالیٰ کا لا تعداد شکر ہے کہ اس نے اتنی عمر بخشی کی اس سال پھر ہم کو مستحکم ایمان کے ساتھ ایام عزاء کی سعادت حاصل ہونے کا شرف ملنے والا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سید شہداء علیہ السلام کی عزاداری ایام محرم کی آمد ہم شیعوں کے اندر ایک روحانی معنوی جذبہ آقا مولا حسین علیہ السلام ان کے ساتھ شہید ہونے والے اصحاب سے محبت اور قربت پیدا کر دیتی ہے۔
ان شاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور ذاکرین حضرات محرم الحرام کے پہلے عشرے میں اپنے پورے وجود اور لگن کے ساتھ خطابت میں تمام عزاداران سید شہداء علیہ السلام کو توحید خداوندی کے ساتھ ساتھ ذکر اہلبیتؑ علیہ السلام کے فضائل و مصائب سے مستفید فرمائیں گے۔ اس سلسلہ میں تمام علمائے کرام اور ذاکرین کرام (اہل کشمیر) سے مودبانہ التجا ہے کہ اپنے تقاریر و وعظ و نصحیت کے دوران کم از کم اپنے وقت کے امام بقیت اللہؑ ارواحنا فدا کے ذکر سے مومنین و مومنات کے دلوں میں مزید معرفت پیدا کرے تاکہ وقت کے امامؑ کو ہم جان اور پہچان سکے اور رضامندی کا باعث بنے۔
اس فکر انگیز اور ایمان افروز تسلسل میں، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معرفتِ امامِ زمانہؑ کا حصول ہی دراصل مقصدِ کربلا کی تکمیل ہے۔ عزاداریِ سید الشہداءؑ صرف ماضی کے ایک عظیم سانحے پر گریہ و زاری کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ و جاوید مکتب ہے جو ہمیں اپنے وقت کے یزید کو پہچاننے اور وقت کے حسینؑ کی نصرت کے لیے تیار رہنے کا درس دیتا ہے۔
علماء اور ذاکرینِ عظام پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منبرِ رسولؐ سے جہاں ذکرِ حسینؑ کا حق ادا کریں، وہاں جوانوں کی ایسی فکری و نظریاتی تربیت بھی فرمائیں کہ وہ عصرِ حاضر کے فتنوں سے بچ کر امامِ مہدیؑ کے سچے انصار میں شامل ہو سکیں۔ جب تک ہم اپنے وقت کے امامؑ کے مشن، ان کی غیبت کے اسباب اور ان کے ظہور کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے واقف نہیں ہوں گے، تب تک ہماری عزاداری اپنے حقیقی اور اعلیٰ ترین اہداف کو حاصل نہیں کر پائے گی۔اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ بطفیل امام حسین علیہ السلام ہم سب کو معرفت امام زمانؑ عطا فرمائے!آمین انشاءالله









آپ کا تبصرہ