حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد مختلف علماء کرام، خطباء اور ذاکرین اہل بیتؑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے محرم الحرام کے تقدس، عزاداری کے صحیح آداب، نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، اور اصلاح معاشرہ کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

اجلاس سے خطاب میں حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے کہا کہ ماہ محرم کے دوران منعقد ہونے والی مجالس عزا کو مزید مؤثر، بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذریعے نہ صرف پیغام کربلا عام ہو بلکہ معاشرے کو درپیش اخلاقی، سماجی اور تعلیمی
انہوں نے علماء کرام اور ذاکرین اہل بیتؑ پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات میں اصلاح معاشرہ کو مرکزی حیثیت دیں اور ان سماجی برائیوں کی نشاندہی کریں جو معاشرے کی دینی و اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، تعلیم و علم کی طرف رغبت پیدا کرنے اور معاشرتی ذمہ داریوں کے شعور کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا سید مجتبیٰ موسوی نے مزید کہا کہ محرم الحرام ایک ایسا عظیم پلیٹ فارم ہے جہاں بڑی تعداد میں نوجوان مجالس عزا میں شرکت کرکے علماء کرام کے خطابات سنتے ہیں۔ اس لیے علماء کرام پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مؤثر منبر کو نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کریں۔ انہوں نے خاص طور پر منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ اس سنگین سماجی برائی کے مضر اثرات سے دوچار ہے۔ لہٰذا مجالس عزا میں نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات، اس کے تباہ کن نتائج اور اس ناسور کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود بھی اس برائی سے محفوظ رہیں اور معاشرے کو اس آفت سے نجات دلانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

حجت الاسلام سید مجتبیٰ نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی اور فلسفۂ شہادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے حریت، عدل، اخلاق، استقامت اور خودسازی کا ایک دائمی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس عزا کے ذریعے اس آفاقی پیغام کو زیادہ مؤثر اور جامع انداز میں عوام تک پہنچایا جانا چاہیے تاکہ معاشرہ مکتب عاشورا کی حقیقی تعلیمات سے بھرپور استفادہ کر سکے۔
مولانا سید مجتبیٰ موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا ایرانی عوام میں جن اخلاقی اقدار، قربانی، استقامت اور حق پسندی کا مشاہدہ کرتی ہے، ان کی بنیاد بھی مکتب عاشورا کی انہی تعلیمات پر استوار ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری قوم بھی واقعۂ کربلا سے عملی رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دینی، اخلاقی، تعلیمی اور سماجی میدانوں میں ترقی و کامیابی کی نئی منازل طے کرے گی۔
انہوں نے محرم الحرام کے دوران منعقد ہونے والے تمام پروگراموں، مجالس اور عزاداری کی سرگرمیوں کو منظم، باوقار اور پُرامن انداز میں انجام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نظم و ضبط کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ تمام مذہبی اجتماعات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہو سکیں۔
![]()
اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا سید مجتبیٰ موسوی نے کہا کہ محرم الحرام ہر سال ہمیں تجدید عہد، احتساب نفس اور اصلاح کردار کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے آفاقی پیغام کو معاشرے کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے اجتماعی، منظم اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ ایک صالح، باشعور، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔









آپ کا تبصرہ