اتوار 14 جون 2026 - 18:19
ذکرِ حسینؑ اور “تجارت” کا مغالطہ

حوزہ/ محرم الحرام آتے ہی بعض حلقوں میں ایک بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ علماء، ذاکرین، خطباء اور نوحہ خواں حضرات کے لیے مجالسِ عزا کے عوض ہدیہ قبول کرنا درست ہے یا نہیں۔ بعض لوگ بڑے درد اور اخلاص کے ساتھ یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ امام حسینؑ کے غم پر ہدیہ لینا روحِ اخلاص کے منافی ہے، جبکہ بعض اس سے بھی آگے بڑھ کر ذکرِ امام حسینؑ پر ملنے والے جائز ہدیے کو “خونِ حسینؑ کی تجارت” جیسے سخت الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بات سننے والوں کے جذبات کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن....

تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

محرم الحرام آتے ہی بعض حلقوں میں ایک بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ علماء، ذاکرین، خطباء اور نوحہ خواں حضرات کے لیے مجالسِ عزا کے عوض ہدیہ قبول کرنا درست ہے یا نہیں۔ بعض لوگ بڑے درد اور اخلاص کے ساتھ یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ امام حسینؑ کے غم پر ہدیہ لینا روحِ اخلاص کے منافی ہے، جبکہ بعض اس سے بھی آگے بڑھ کر ذکرِ امام حسینؑ پر ملنے والے جائز ہدیے کو “خونِ حسینؑ کی تجارت” جیسے سخت الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بات سننے والوں کے جذبات کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن جب اس دعوے کو عقل، شریعت، فقہ اور تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دیے بغیر کوئی حتمی رائے قائم کرنا آسان نہیں۔

سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ کیا شریعت نے ہر قسم کے معاوضے اور مالی تعاون کو مذموم قرار دیا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو قرآنِ مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں اجرت اور استئجار (کسی کی خدمات حاصل کرنے) کا ذکر ایک جائز اور پسندیدہ معاشرتی اصول کے طور پر نہ کرتا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں کام کیا تو قرآن فرماتا ہے:﴿قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾“ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! آپ انہیں ملازم رکھ لیجیے، کیونکہ بہترین شخص جسے آپ ملازم رکھیں وہ ہے جو طاقتور بھی ہو اور امانت دار بھی۔”(سورۂ القصص، آیت 26)یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اسلام محنت، خدمت، وقت اور صلاحیت کے بدلے جائز معاوضے کو معیوب نہیں سمجھتا بلکہ امانت داری اور اہلیت کے ساتھ انجام دی جانے والی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی دینی خدمت کو اس عمومی اصول سے مستثنیٰ قرار دینا ہے تو اس کے لیے بھی قرآن، حدیث یا فقہ سے واضح اور مضبوط دلیل پیش کرنا ضروری ہوگی، محض جذباتی تاثرات کافی نہیں ہوں گے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بھی کہیں یہ نہیں ملتا کہ دین کی خدمت کرنے والا شخص اپنے اہل و عیال کی ضروریات سے بے نیاز ہو جائے یا معاشرے کی طرف سے پیش کی جانے والی جائز مالی معاونت کو قبول نہ کرے۔ بلکہ ائمۂ اہلِ بیتؑ نے ایک طرف اخلاص، تقویٰ اور للّٰہیت کی تعلیم دی تو دوسری طرف اہل و عیال کے حقوق اور معاشی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دی۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:«مَنْ طَلَبَ الرِّزْقَ لِعِيَالِهِ فَهُوَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ»“جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے روزی حاصل کرتا ہے وہ راہِ خدا میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مانند ہے۔”(الکافی، ج 5، ص 88)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اہل و عیال کی کفالت کوئی دنیا پرستی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ اہلِ بیتؑ میں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جو لوگ فضائلِ اہلِ بیتؑ بیان کرتے، ان کے مصائب کو زندہ رکھتے اور معاشرے میں ان کی تعلیمات کو عام کرتے تھے، ائمہؑ ان کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی خدمات کی قدر کرتے تھے۔

مشہور شاعر کمیت اسدی نے جب اہلِ بیتؑ کے فضائل میں اپنے قصائد پیش کیے تو امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے ان کے حق میں دعائیں فرمائیں اور ان کی خدمات کو سراہا۔ اسی طرح دعبل خزاعی نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں اپنا معروف قصیدہ “مدارس آیات” پیش کیا تو امام رضاؑ نے نہ صرف ان کی تحسین فرمائی بلکہ اپنی چادر مبارک اور دیگر ہدایا بھی عطا فرمائے۔ یہ واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اہلِ بیتؑ اپنے ذکر، فضائل اور پیغام کو عام کرنے والوں کی خدمت اور محنت کی قدر کرتے تھے۔

یہاں ایک بنیادی نکتے پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہم خود منبرِ حسینؑ کو ایک درسگاہ، مجلسِ عزا کو ایک تعلیمی و تربیتی مرکز اور ذکرِ حسینؑ کو ایک عظیم درس قرار دیتے ہیں۔ انہی مجالس کے ذریعے قرآن کا پیغام عام ہوتا ہے، سیرتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اہلِ بیت علیہم السلام لوگوں تک پہنچتی ہے، اخلاق، تقویٰ، صبر، ایثار، عدل، امر بالمعروف اور ظلم کے خلاف قیام کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جنہوں نے نماز، دین، اخلاق اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی معرفت منبرِ حسینؑ ہی سے حاصل کی ہے۔ اس اعتبار سے مجالسِ عزا محض مذہبی اجتماعات نہیں بلکہ ایک عظیم تعلیمی و تربیتی تحریک ہیں جو نسلوں کی فکری اور روحانی تعمیر کرتی ہیں۔

اگر یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ منبرِ حسینؑ ایک درسگاہ ہے اور خطیبِ حسینؑ ایک معلم، مربی اور مبلغ کا کردار ادا کرتا ہے، تو پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا درس و تدریس، تعلیم و تربیت اور علمی خدمت کے اعتراف میں پیش کیا جانے والا جائز ہدیہ فی نفسہٖ کوئی معیوب چیز ہے؟ کیا ایک معلم، استاد یا مبلغ کے لیے معاشرے کا تعاون قابلِ قبول ہے لیکن ایک مبلغِ مکتبِ حسینؑ کے لیے وہی تعاون اچانک “تجارت” بن جاتا ہے؟

لہٰذا جو عالم، ذاکر یا خطیب سال بھر مطالعہ، تحقیق، سفر اور علمی محنت کے بعد اس عظیم دینی و تربیتی خدمت کو انجام دیتا ہے، اس کے لیے مومنین کی طرف سے پیش کیا جانے والا ہدیہ نہ کوئی عیب ہے اور نہ اخلاص کے منافی۔ یہ درحقیقت اس کی علمی و تبلیغی خدمات کا اعتراف، اس کے ساتھ تعاون اور اس کے ذریعے اہل و عیال کی جائز ضروریات پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی یہ مومنین کے جذبۂ عقیدت اور محبت کا احترام بھی ہے، جو وہ ایک خادمِ منبرِ حسینؑ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایک خطیب، ذاکر یا عالم جس نے اپنی پوری زندگی علومِ اہلِ بیتؑ کے حصول میں صرف کر دی، اپنی جوانی مطالعہ، تحقیق، تدریس اور تبلیغ میں گزار دی، جو سال بھر کتابوں، سفر، علمی تیاری اور دینی خدمات میں مصروف رہتا ہے، اگر وہ مومنین کی طرف سے پیش کیا جانے والا ہدیہ قبول کر لے تو اس میں کون سی شرعی قباحت ہے؟

کیا اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجہ اور دیگر ضروریاتِ زندگی کسی اور دنیا سے پوری ہوں گی؟

اگر ذکرِ حسینؑ پر ملنے والا ہدیہ “تجارت” ہے تو پھر دینی مدارس کے اساتذہ، ائمۂ جماعت، مبلغین، مؤذنین، قرآن کے معلمین اور دین کی دیگر خدمات انجام دینے والے افراد کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا ان سب کی خدمات بھی تجارت قرار پائیں گی؟

اگر نہیں، تو پھر صرف منبرِ حسینؑ ہی کو اس اعتراض کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

اصل مسئلہ ہدیہ لینا نہیں بلکہ نیت ہے۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو ایک روپیہ لیے بغیر بھی شہرت، اثر و رسوخ اور تعریف کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں، اور کتنے ایسے ہیں جو ہدیہ قبول کرنے کے باوجود خلوص، تقویٰ اور دیانت کے ساتھ دین کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اخلاص کا تعلق جیب سے نہیں، دل سے ہے۔ رقم کی موجودگی یا عدم موجودگی کسی کے مخلص یا غیر مخلص ہونے کا قطعی معیار نہیں بن سکتی۔

تاریخِ اسلام اور تاریخِ تشیع دونوں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ صدیوں سے علماء، مبلغین، مدارس اور دینی مراکز مومنین کے مالی تعاون سے چلتے آئے ہیں۔ اگر مالی تعاون لینا خلافِ اخلاص یا خلافِ دین ہوتا تو نہ حوزاتِ علمیہ قائم رہتے، نہ تبلیغی نظام باقی رہتا اور نہ ہی علومِ اہلِ بیتؑ نسل در نسل منتقل ہو پاتے۔

البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ منبرِ حسینؑ کو بولی لگا کر دولت سمیٹنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ نرخ بازی، نمود و نمائش، مال پرستی اور غیر ضروری مالی و پُرتعیش مطالبات یقیناً قابلِ مذمت ہیں اور جہاں کہیں یہ بیماریاں موجود ہیں ان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض مقامات میں یہ رجحان اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ چند افراد نے منبرِ حسینی کو خدمتِ دین کے بجائے ذاتی شہرت، کاروبار اور غیر معمولی مالی مفادات کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ایسے کردار یقیناً تنقید کے مستحق ہیں۔

اور اس طرح کے موارد دنیا میں ہر شعبہ حیات میں پائے جاتے ہیں،لیکن چند افراد کے طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر پوری جماعتِ علماء، ذاکرین، خطباء اور خدامِ عزا کو کٹہرے میں کھڑا کر دینا نہ انصاف ہے، نہ دیانت ہے اور نہ ہی مکتبِ امام حسینؑ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ جرم اگر کسی فرد کا ہے تو جواب دہ بھی وہی فرد ہوگا؛ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ چند چہروں کی وجہ سے پورے قافلے کو بدنام کر دیا جائے۔

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ہمیں عدل، انصاف، اخلاص اور حق گوئی کا درس دیا ہے۔ اسی درس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں کی نیتوں کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں، اختلاف کو دلیل کے ساتھ بیان کریں اور ایسے الفاظ سے گریز کریں جو عمر بھر دین اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی خدمت کرنے والوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوں۔

اخلاص کا فیصلہ نہ مقرر کرتا ہے، نہ سامع، نہ ناقد اور نہ مخالف؛ اخلاص کا فیصلہ صرف خدا کرتا ہے، کیونکہ دلوں کے راز صرف وہی جانتا ہے۔ اور شاید یہی اس پوری بحث کا سب سے اہم نکتہ ہے کہ ہم لوگوں کے اعمال کو دلیل کی روشنی میں پرکھیں، ان کی نیتوں کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں نہ لیں، اور خدمتِ دین کو تجارت قرار دینے سے پہلے اس خدمت کے پس منظر میں موجود علم، محنت، قربانی، وقت، ذمہ داری اور اخلاص کو بھی دیکھیں۔ کیونکہ منبرِ حسینؑ کی اصل روح بازار نہیں، کردار سازی ہے؛ تجارت نہیں، تربیت ہے اور دنیا کمانا نہیں بلکہ انسان بنانا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha