تحریر: حسین حامد
حوزہ نیوز ایجنسی|
قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد گرامی ہے : وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (سورہ آل عمران جز آیت۵۷) ترجمہ: اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (سورہ بقرہ جز آیت نمبر۲۷۹) ترجمہ: نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (سورہ ابراہیم جز آیت ۴۲) ترجمہ: اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بےخبر ہے۔
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ(سورۂ شوریٰ، آیت ۴۲) ترجمہ: گرفت تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ان ہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔
اسی طرح قرآن کریم میں مزید کئی مقامات پر ظلم کی سختی سے رد کی جا چکی ہے۔
ظلم اس عمل کو کہتے ہیں کہ کسی حق دار کو اس کا جائز حق نہ دیا جائے یا کسی چیز کو اس کے اصل اور مناسب مقام سے ہٹا دیا جائے۔ یہ ایک جامع تعریف ہے جو ظلم کی تمام صورتوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ خواہ ظلم اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی کی صورت میں ہو جیسے اس کی عبادت اور اطاعت میں غفلت برتنا ‘پابندوں کے حقوق کا پامال کرنے کی شکل میں ہو ‘جیسے ناانصافی، زیادتی اور حق تلفی کرنا یا پھر انسان اپنے ہی نفس پر ظلم کرے، گناہوں، نافرمانیوں اور ایسے اعمال کے ذریعے جو اس کی دینی و دنیاوی بھلائی کے خلاف ہوں۔ غرض ہر وہ قول، فعل یا رویہ جو عدل و انصاف کے تقاضوں کے برخلاف ہو اور کسی حق کو اس کے مستحق تک پہنچنے سے روک دےظلم کے دائرے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ظلم کو ایک سنگین جرم قرار دیا ہے اور عدل و انصاف کو انسانی معاشرے کی بنیاد اور کامیابی کا ضامن ٹھہرایا ہے۔
عالم انسانیت کی تاریخ نے یزید پلید کو نہایت ہی ایک بدترین اور بے رحم سفاک ظالم قرار دیا ہے۔ اس ملعون میں ظلم کی مذکورہ بیان کردہ تمام صورتیں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ اس نے امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے احکام الہی کے تحت حاصل شدہ حقوق غصب کر کے انؑ پر ظلم کیا، مدینہ منورہ کے باشندوں پر( واقعہ حرّہ کے دوران) ناروا مظالم روا رکھےاور مکہ مکرمہ اور کعبہ شریف کی حرمت کو پامال کیا۔رذالتوں اور کثافتوں کا یہ مجموعہ تاریخ بشریت میں ایک بدنما داغ ہے۔ خلافت کے منصب پر ناجائز قبضہ کر کےعامۃ الناس کو جبر و استبداد کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ حدود خدا کو معطل کرتا رہا۔ بیت المال کو ہڑپ کیا۔حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام قرار دیتا رہا۔ اس پلید کو پنجتن پاک ؑ کی آخری نورانی شخصیت‘ وقت کے ولایت الٰہی کے حامل امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کے سوا کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ چنانچہ امام حسین علیہ السلام اس امر کے نتائج اور مضمرات سے خوب واقف تھے کہ آغاز اسلام ہی سے منافقین اور دنیا طلب عناصر اپنے مکارانہ حربوں، باطل تاویلات اور فتنہ انگیز رویوںکے ذریعے دین حق کی اشاعت اور اس کے حقیقی پیغام کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف اسلامی تعلیمات کو دبانے کے درپے تھے بلکہ شریعت مطہرہ کے احکام و قوانین کے صحیح فہم و ادراک میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔
ایسے نازک اور فتنہ خیز حالات میں اگر امام حسینؑ وقت کے بنی امیہ منافقین( جن کا سرغنہ وقت کا یزید ملعون تھا )کے انحرافی اعمال، ظالمانہ طرز حکومت اور دینی اقدار سے روگردانی کو واضح طور پر آشکار نہ فرماتے اور رسول اکرم ﷺکے اہل بیت کے ساتھ ان کی دشمنی اور عملی تضادات کو امت کے سامنے بے نقاب نہ کرتے تو یہ حتمی تھا کہ آنے والی نسلیں حق و باطل کے فرق سے ناواقف رہتیں اور منافق بنی امیہ کے سیاسی جبر و استبداد کو بھی دین اسلام ہی کا جُز سمجھ بیٹھتیں۔
لہذا امام عالی مقامؑ کے یہ اقدام درحقیقت دین حق کی حفاظت، اسلامی اقدار کے تحفظ اور امت کو فکری گمراہی سے بچانے کے لیے ایک فیصلہ کن اور تاریخی کردار کی حیثیت رکھتا ہے جس نے حق و باطل کے درمیان حد فاصل کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا ۔
حسب روایت بنی امیہ کے سابقہ طرز عمل کے مطابق امام حسین علیہ السلام سے بھی جب ناجائز اور جابرانہ بیعت کا مطالبہ کیا گیا جو درحقیقت حق وعدل کے بجائے سیاسی دباؤ اور استبداد کی علامت تھی تو آپ نے نہایت جرأت اور استقامت کے ساتھ اس مطالبے کو مسترد فرمایا۔ آپ نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم میں ہرگز ذلت قبول نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی جابر و ظالم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ بطورِ بیعت دوں گااور نہ ہی غلاموں کی طرح راہ فرار اختیار کر کے خاموشی سے کنارہ کش ہو جاؤں گا ۔
یہ الفاظ دراصل امام حسین علیہ السلام کے اس عظیم اصولی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں جس میں حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ‘لیکن باطل کے سامنے ہرگز جھکنا شامل نہیں تھا۔ آپؑ نے اس انکار کے ذریعے نہ صرف اس دور کے سیاسی جبر کو رد کیا بلکہ امت کو یہ پیغام دیا کہ دین حق کے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے کسی بھی ظالمانہ نظام کو شرعی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موقف تاریخ اسلام میں حق و باطل کے درمیان ایک واضح اور فیصلہ کن خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتا ہے جس نے یہ اصول ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا ہےکہ عزت و شرافت کا راستہ ظلم کے سامنے جھکنے میں نہیں بلکہ اس کے مقابل ڈٹ جانے میں ہے۔
اہل کوفہ کی مسلسل دعوتوں اور خطوط کے پیش نظر امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے رجب ۶۰ھجری میں مدینہ منورہ کو خیر باد کہہ کر مکہ مکرمہ کی جانب عزم سفر فرمایا۔وہاں پہنچ کرآپ ؑ نے ابتدائی طور پر حج کی نیت فرمائی تاہم بدلتے ہوئے حالات ‘بڑھتے ہوئے خطرات اور بنی امیہ کی فتنہ انگیز سیاسی صورت حال کے پیش نظر آپ ؑ نے حج کو عمرہ میں تبدیل فرمایا اور امت مسلمہ کی رہنمائی اور حالات کے جائز کے لئے مکہ مکرمہ ہی کو عارضی قیام گاہ بنالیا۔اس دوران اہل کوفہ کی جانب سے وفا داری کی بار بار یقین دہانیوں اور حمایت کے وعدوں کے ساتھ آپ ؑ کو مسلسل دعوتی خطوط موصول ہوتے رہے جن کے نتیجہ میں آپ ؑ نے صورت حال کا جائزہ لینے اوراُمت کی اصلاح کے مقصد سے کوفہ کی جانب روانگی کا ارادہ فرمایا۔
امام حسین علیہ السلام جو ولایت الٰہیہ کے عظیم پیکر تھےگہری نظر سے جائزہ فرمارہے کہ یزید پلید کے دور میں فسق و فجور، سیاسی جابر، دینی انحراف اور اخلاقی انحطاط اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اگر ان کی اصلاح نہ کی گئی تو دین محمدی کی اصل روح مسخ ہو سکتی ہے۔ آپ ؑکو اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے دین مبین کے تحفظ اور اس کے حقیقی تعلیمات کی حفاظت کی ذمہ داری کا مکمل ادراک تھا۔ اور یہی ذمہ داری آپؑ کے اس تاریخی سفر کی بنیاد بنی ۔
آپ نے نہایت بصیرت کے ساتھ اس امر کو محسوس فرمایا کہ اگر اس فتنہ انگیز ماحول میں خاموشی اختیار کی جائے تو آنے والی نسلیں حق و باطل کے امتیاز سے محروم ہو جائیں گی اور دین کے نام پر ظلم و استبداد کو بھی قبولیت حاصل ہو سکتی ہے۔ لہذا آپ کا یہ سفر دین حق کی بقاء، اصلاح امت اور ظلم و باطل کے مقابلے میں ایک دائمی اور اصولی موقف کی عملی تعبیر تھا۔
امام حسین علیہ السلام کے قیام مبارک کے مقاصد میں دو نمایاں پہلو موجود تھے۔ ایک یہ ہے کہ اسلامی حکومت حق و عدل کے اصولوں کے مطابق ان کے دستہائے مبارک میں آئے تو نظام حکومت کو ولایت الٰہیہ کے مطابق استوار کیا جائے گا تاکہ دین اسلام کے احکام و قوانین بلا کسی روک ٹوک نافذ ہوں اور شریعت مطہرہ کی حقیقی روح امت میں زندہ رہے گی۔ دوسرا یہ کہ اگر مذکورہ صورت ممکن نہ ہو تو آپ ؑ اپنی جان، اپنے اہل خانہ اور اپنے وفادار اصحاب کو راہ خدا میں پیش کریں تاکہ کربلا ہر دور کے ظلم اور ظالم کے خلاف حق، حریت اور استقامت کا ہمیشہ کے لئے ایک زندہ پیغام بن کے رہے۔ امام علی مقام ؑ نے بالآخر اپنے اہلبیت ؑ‘اپنے باوفا اصحاب اور اپنی جان کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کرکے دین حق کا بول بالا کردیا۔اپنے اس عظیم مقصد میں کامیاب ہوئے اور اس طرح یزیدی ظلم اور ظالم تا ابد رسوائی کا استعارہ ٹھہرے اور قیامت تک یہ دونوں تاریخ کے ماتھے کا سیاہ داغ بن گئے۔
بعد میں ائمہ طاہرین علیہ السلام کی پوری حیات دین اسلام کی تحفظ اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے۔ انہوں نے بھی بنی امیہ اور بنی عباسی جیسے ناحق قوتوں کے ظلم و استبداد کے خلاف ڈٹ کر حق کا پیغام پہنچایا اور کربلا کی اتباع میں اپنی جانوں کی قربانی دے کر حق کی سربلندی کو یقینی بنایا۔
کربلا کی جنگ آج بھی ہر اس یزیدی فکر اور قوت کے خلاف جاری ہے جو الہٰی ولایت کے راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔ ولایت الہٰی کا سلسلہ ائمہ معصومین ؑکے ذریعے امت تک پہنچا اور عصر غیبت میں ولی فقیہ اس الٰہی امانت کے محافظ اور نمائندہ ہیں۔ یہی تصور ولایت اسلام کی حیات کا سرچشمہ ہے۔اسی تصور ولایت کی بالادستی کربلا میں موجود ہے۔
اہل کربلا کے وارث موت سے کبھی خوف زدہ نہیں ہیں بلکہ وہ حق کی سربلندی کے لئے اپنی جان کی قربانی کو سعادت سمجھتے ہیں۔تاریخ بشریت گواہ ہے کہا اس مکتب کے پیرو کاروں نے اپنے خون سے حق کی آبیاری کی ہے۔ظلم و جبر کے ایوانوں کو لرزایا ہے اور استبداد کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔یہی وہ جذبہ حسینی ہے جو ہر دور میں ظلم کے خلاف حق کے علمبرداروں کو حوصلہ اور استقامت عطا کرتا رہے گا۔
مذکورہ بالا توضیحات سے یہ حقیقت نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے کہ : کربلا ہر دور کے ظالم کے خلاف ایک ابدی اور عالم گیر پیغام ہے۔امام حسین علیہ السلام نے اپنے کردار اور عمل سے یہ ثابت کر دیا ہےکہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا حق کا ساتھ چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔کربلا کسی ایک زمانے‘قوم یا خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر دور کے ظالم کے خلاف صدائے احتجاج ہے اور ہر عہد کے مظلوم کے لئے امید‘حوصلے اور حریت کا روشن مینار ہے۔کربلا کے معرکہ جاودانی کا ظالم و ظلم کے خلاف پیغام دور حاضر میں اتنا ہی زندہ ہے (بلکہ تا قیام قیامت زندہ رہے گا)جتنا میدان کربلا میں تھا اور یہی اس کی ابدیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں حسینی جذبے کو مزید استقامت عنایت فرمائے، تاکہ ہم بھی زمانے کے ظالم و جابر اورانسانیت کے دشمنوں (استعمار‘استکبار اور انکے حامیوں) کے خلاف صف آراء ہو سکیں۔









آپ کا تبصرہ