پیر 15 جون 2026 - 13:26
واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ امت کی اصلاح، بیداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا زندہ پیغام ہے

حوزہ/ حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ آج کے دور میں امتِ مسلمہ کی اصلاح، بیداری، خودمختاری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا زندہ پیغام ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو پامال کرنے والے صہیونی رژیم کے ساتھ مفاہمت یا قومی خودمختاری سے دستبرداری، درحقیقت "یزیدِ وقت" سے تجدید بیعت کے مترادف ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ آج کے دور میں امتِ مسلمہ کی اصلاح، بیداری، خودمختاری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا زندہ پیغام ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو پامال کرنے والے صہیونی رژیم کے ساتھ مفاہمت یا قومی خودمختاری سے دستبرداری، درحقیقت "یزیدِ وقت" سے تجدید بیعت کے مترادف ہے۔

محرم کے موقع پر اپنے تفصیلی پیغام میں آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک اقتدار، خاندانی مفادات یا فرقہ وارانہ تعصبات کے لیے نہیں تھی بلکہ امتِ مسلمہ کو ایک گہری فکری اور دینی گمراہی سے بچانے کے لیے برپا ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے اور آج بھی مسلمانوں کو عزت، آزادی اور حق کے دفاع کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عاشورا کے دو اہم پہلو ہیں؛ ایک غم اور عزاداری کا پہلو اور دوسرا حماسی و انقلابی پہلو۔ عزاداری انسان کے ضمیر کو ظلم کے خلاف بیدار رکھتی ہے، جبکہ حماسی پہلو انسان کو باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے اور حق کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے علماء، خطباء، ذرائع ابلاغ اور اہلِ قلم پر زور دیا کہ وہ امام حسین علیہ السلام کو صرف ایک مظلوم شخصیت کے طور پر پیش نہ کریں بلکہ انہیں ایک عظیم مصلح، رہبر اور تہذیبی و تمدنی فکر کے معمار کے طور پر متعارف کرائیں۔ ان کے مطابق کربلا کا پیغام دنیا میں ظلم اور استبداد کے نظاموں کو چیلنج کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں امام حسین علیہ السلام کے "طلبِ اصلاح" کے پیغام کا ایک اہم تقاضا علمی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں خودکفالت حاصل کرنا ہے۔ ان کے بقول امتِ مسلمہ کو جدید علوم، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اور اقتصادی خودمختاری میں پیش رفت کرنی چاہیے تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے دباؤ اور استحصال سے نجات حاصل کر سکے۔

مدیرِ حوزاتِ علمیہ نے کہا کہ ایران، لبنان اور خطے کی مزاحمتی تحریکوں کی استقامت میں آج کربلا کی روح دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے سے دستبرداری یا صہیونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ، امام حسین علیہ السلام کے راستے سے انحراف کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق قدس شریف اور مظلوم اقوام کے دفاع کی حمایت آج کے دور میں حسینی فکر کا عملی تقاضا ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے امتِ مسلمہ کے اندر اتحاد اور بیداری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں مذہبی اختلافات اور تفرقے کو ہوا دے کر اسلامی دنیا کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو فرقہ وارانہ نزاعات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مقاصد کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں "جہادِ تبیین" یعنی حقائق کی وضاحت اور میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کرنا بھی ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر اہلِ علم اور دانشور ظلم، نسل کشی اور دینی اقدار کی پامالی پر خاموش رہیں تو یہ تاریخِ کربلا کے اس سبق کے خلاف ہوگا جو حق کی حمایت اور باطل کے مقابلے میں قیام کا درس دیتا ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر آیت اللہ اعرافی نے اظہارِ امید کیا کہ امتِ مسلمہ عاشورا کے پیغام سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علم، بصیرت، اتحاد اور استقامت کے ذریعے ایک مضبوط اور باوقار مستقبل کی جانب پیش قدمی کرے گی اور مظلوموں کی نصرت اور ظالم قوتوں کی شکست سے متعلق الٰہی وعدہ ضرور پورا ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha