حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علیرضا اعرافی نے کربلا میں منعقدہ پانچویں بین الاقوامی کانفرنس "ندائء الاقصیٰ" کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات ختم کرکے فلسطین کے مسئلے پر متحد ہوں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی ہر کوشش کو مسترد کریں اور صہیونی حکومت سے ہر قسم کے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی روابط منقطع کریں۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ بعض علاقائی ممالک اسرائیلی حکومت کے مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایران فلسطین کے دفاع اور خطے کے خلاف دشمنانہ منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات سے بالاتر ہو کر فلسطین کے حوالے سے ایک مشترکہ عملی دستاویز مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت اور حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرے، عوامی ریفرنڈم کی حمایت کرے اور "صدی کی ڈیل" جیسے منصوبوں کو مسترد کرے۔ آیت اللہ اعرافی نے فلسطین اور لبنان کی مزاحمتی تحریکوں کی مالی و اخلاقی حمایت بڑھانے کی بھی اپیل کی۔
کانفرنس میں حرم امام حسین علیہ السلام کے متولی حسن رشید جواد العبایجی نے کہا کہ یہ اجتماع امام حسین علیہ السلام کے اصلاحی پیغام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ظلم کے خلاف قیام سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔
عالمی مہم "واپسیٔ فلسطین" کے رابطہ کار عبداللطیف الحاج نے کہا کہ فلسطینی عوام کی آواز درحقیقت ظلم کے خلاف امام حسین علیہ السلام کے پیغام کا تسلسل ہے۔ انہوں نے حقائق اور زمینی شواہد پر مبنی مؤثر بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کی مظلومیت آج دنیا بھر کی یونیورسٹیوں، سڑکوں اور عوامی اجتماعات میں گونج رہی ہے۔
دیگر مقررین، جن میں مجلس علمائے رباط محمدی کے سربراہ سید عبدالقادر الحسنی الآلوسی، لبنان کے سابق وزیر خارجہ عدنان منصور اور عراق کے مفتی کے نمائندے شیخ عامر البیاتی شامل تھے، انہوں نے بھی فلسطین کی مکمل آزادی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی مخالفت اور عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے سیاسی، علمی اور میڈیا محاذ پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس حق و باطل کی جدوجہد کا مرکز ہے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔









آپ کا تبصرہ