حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ علمائے مسلمان لبنان کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایہ اجلاس میں لبنان اور خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ صیہونی دشمن کی جانب سے جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں اور علاقوں پر توپ خانے کی گولہ باری اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور لبنان کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے، لیکن لبنانی حکام ان جارحیتوں کے مقابلے میں کوئی عملی اقدام کرنے سے قاصر ہیں اور مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ وزیرِ خارجہ، جو ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نے بھی صیہونی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے اس نقشے پر احتجاج کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جس میں جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کو صیہونی حکومت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
انجمنِ علمائے مسلمان لبنان نے کہا کہ امریکی و صیہونی عزائم کے سامنے یہ شکست اور ان کے سامنے تسلیم ہونا قومی خودمختاری کا باعث نہیں بن سکتا، بلکہ «فریم ورک معاہدے» اور مزاحمت کو جرم قرار دینے کے وقت سے لے کر آج تک یہ صورتحال درحقیقت غلامی اور تسلیم ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان مذاکرات کا راستہ مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلاء کے حوالے سے کسی پیش رفت کا باعث نہیں بنے گا، خصوصاً غاصب صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے وزیر جنگ یسرائیل کاتس کے واضح بیانات کے پیش نظر، جن میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں موجود رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سب یہ سوال کر رہے ہیں کہ لبنانی حکام مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر کیوں اصرار کر رہے ہیں؟ وہ مذاکرات سے دستبردار ہو کر نئی حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کرتے، جو دراصل وہی پرانی حکمت عملی ہے جس نے اب تک کئی مرتبہ لبنان کے تحفظ اور اس کی سرزمین کی دوبارہ آزادی میں کردار ادا کیا ہے؟ یہ حکمت عملی «فوج، عوام اور مزاحمت» کے لازمی سہ فریقی اتحاد میں خلاصہ ہوتی ہے۔
انجمنِ علمائے مسلمان نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے دستبردار ہو کر بالواسطہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں؛ ایسے مذاکرات جو مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا، جارحیت کے خاتمے اور قیدیوں کی واپسی کے لیے ایک واضح ٹائم فریم کے اعلان کے بعد ہی شروع کیے جائیں۔
تنظیم نے پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے اس اقدام کی بھی مذمت کی جس کے ذریعے میڈیا قانون کے تحت آزادیٔ صحافت کی کھلی خلاف ورزی کی گئی اور سیاسی اقتدار کو صحافیوں کی گرفتاری کا اختیار دیا گیا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ یہ اقدام لبنان کو ایک ایسے نئے دور میں داخل کر دے گا جہاں آزادی صحافت، جو سیاسی اقتدار کی کارکردگی پر تنقید کر سکتی ہے، شدید مشکلات کا شکار ہوگی۔
انہوں نے لبنانی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اس قانون پر نظرثانی کی جائے اور نئی انجمنوں کے قیام کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ لبنان کی موجودہ صورتحال میں یہ یونین جماعتی اور فرقہ وارانہ نوعیت اختیار کر سکتی ہے اور ملکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تنطیم نے وزیر اعظم کی جانب سے وزیر دفاع میشال منسی کو عام معافی کے قانون کے بارے میں فوج کا مؤقف بیان کرنے کے لیے تقریر کرنے سے روکنے کے اقدام پر بھی شدید نفرت اور مذمت کا اظہار کیا۔
آخر میں، انجمنِ علمائے مسلمان لبنان نے یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کرنے اور عرب و اسلامی دنیا کی قابلِ مذمت خاموشی کے درمیان وہاں «برکتِ کاہنوں» اور «حماسی سجدے» کے عنوان سے تلمودی رسومات ادا کرنے کی مذمت کی۔
تنطیم نے زور دیا کہ یہ جارحیتیں ثابت کرتی ہیں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ کوئی حل ممکن نہیں، سوائے مزاحمت کے، جو سرزمین، عزت اور وقار واپس حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔









آپ کا تبصرہ