ہفتہ 26 ستمبر 2026 - 17:29
شہید سید حسن نصر اللہؒ اور مکتبِ حسینؑ؛ کربلا سے عصرِ حاضر کی مزاحمت تک

حوزہ/27 ستمبر 2026 کو شہیدِ مقاومت، سالارِ استقامت، قائدِ کاروانِ حریت، علم بردارِ مکتبِ کربلا، پیرو فکر حسینی، مردِ میدانِ مزاحمت علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کو دو برس مکمل ہو رہے ہیں۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| 27 ستمبر 2026 کو شہیدِ مقاومت، سالارِ استقامت، قائدِ کاروانِ حریت، علم بردارِ مکتبِ کربلا، پیرو فکر حسینی، مردِ میدانِ مزاحمت علامہ سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کو دو برس مکمل ہو رہے ہیں۔

27 ستمبر 2024 کو بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی شہادت کے بعد لبنان اور خطہ کی صورتِ حال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہ دو برس صرف ایک قائد کی جدائی کا عرصہ نہیں، بلکہ لبنان، فلسطین، مزاحمت اور خطہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا بھی ایک اہم دور ہے۔

شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے صرف ان کی سیاسی زندگی یا عسکری قیادت کا مطالعہ کافی نہیں۔ ان کی فکر اور خطابات میں کربلا، عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کی یاد ایک مسلسل معنوی حوالے کے طور پر موجود رہی۔ عزت، استقامت، وفاداری، قربانی اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے جیسے تصورات ان کے فکری بیانیے میں بارہا کربلا کی زبان میں جلوہ گر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد ان کی شخصیت کو یاد کرتے ہوئے کربلا کا حوالہ محض جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ ان کے فکری سفر اور طرزِ فکر کو سمجھنے کا ایک اہم زاویہ بھی ہے۔

کربلا تاریخ کا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مکتب ہے جس نے ظلم کے مقابلے میں انسان کی ذمہ داری، حق کے لئے استقامت اور قربانی کے مفہوم کو ایک دائمی زبان عطا کی۔ امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے مرکز و محور ہیں اور عاشورا اس کی روشن ترین تعبیر ہے۔ بعد کے زمانوں میں اس مکتب سے وابستہ افراد اپنے اپنے عہد کے حالات میں حق، عزت اور مظلومیت کے سوالات کا سامنا کرتے ہیں اور اسی حسینی فکر سے اپنے لئے معنوی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی میں یہ نسبت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے لئے عاشورا صرف ماضی کی یاد نہیں تھا، وہ اسے اپنے عہد کے انسان کے لئے ایک اخلاقی پیغام کے طور پر پیش کرتے رہے۔ کربلا کی زبان میں وہ عزت و ذلت، حق و باطل اور قربانی و مصلحت کے سوالات کو معاصر حالات سے جوڑتے تھے۔ اس تناظر میں ان کی شخصیت ایک ایسے معاصر پیروکار کے طور پر سامنے آتی ہے جس نے اپنے فکری سفر میں مکتبِ امام حسین علیہ السلام سے معنوی نسبت قائم کی اور اسی نسبت کو اپنے عہد کی جدوجہد میں بیان کیا۔

مرجع اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی دام ظلہ نے 28 ستمبر 2024 کو جاری کردہ تعزیتی بیان میں شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو "انموذجاً قيادياً قلّ نظيره في العقود الأخيرة" قرار دیا۔ بیان میں لبنان کی سرزمین کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے میں ان کے کردار، عراقی عوام کو داعش کے خلاف مدد فراہم کرنے اور فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں ان کے مواقف کا خصوصی ذکر فرمایا۔

مرجع اعلیٰ دینی دام ظلہ کی جانب سے جاری یہ تعزیتی بیان ان کی شخصیت اور خدمات کے مطالعہ میں ایک اہم معاصر دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

دو برس بعد جب شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اور جدوجہد پر نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض شخصیات اپنے عہد کے سوالات کا جواب محض الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنے عمل، فیصلوں اور قربانیوں سے دیتی ہیں۔ ان کے حامیوں کے نزدیک ان کی زندگی بھی اسی نوعیت کی جدوجہد تھی، جس میں لبنان، فلسطین اور خطے کے مظلوم طبقات کے مسائل کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ دوسری جانب ان کے سیاسی کردار اور پالیسیوں کے بارے میں مختلف حلقوں کے اپنے تجزیے بھی رہے ہیں۔

کربلا کا پیغام صرف یہ نہیں کہ ظلم کو پہچانا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے موقف اور کردار کے ذریعہ اپنے عہد کے سامنے جواب دہ ہو۔ ہر زمانہ اپنے سوالات لے کر آتا ہے اور ہر نسل کو اپنے حصے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی قربانی اسی لئے ایک مخصوص تاریخی لمحے تک محدود نہیں رہی کہ اس نے انسان کے سامنے یہ ابدی سوال رکھ دیا کہ جب حق و باطل آمنے سامنے ہوں تو اس کا موقف کیا ہوگا۔

اسی معنوی تسلسل میں شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو امام حسین علیہ السلام کے مطیع، پیرو اور مکتبِ حسینی کے ایک معاصر سپاہی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کی معنوی تعبیر اسی نسبت میں زیادہ بامعنی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی ذات کربلا کے مرکز میں ایک ابدی حقیقت ہے، جبکہ ان کے مکتب سے وابستہ افراد اپنے اپنے زمانے میں اسی فکر و پیغام کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں۔

دو برس بعد شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد صرف ایک شخصیت کی یاد نہیں، بلکہ ان سوالات کی یاد دہانی بھی ہے جو ہر عہد کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں: ظلم کے مقابلے میں موقف کیا ہو؟ قربانی کی قیمت کیا ہو؟ وفاداری کا تقاضا کیا ہو؟ اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی ذمہ داری کہاں تک جاتی ہے؟

کربلا کا چراغ ہر زمانے کو اپنی روشنی میں دیکھنے کا موقع دیتا ہے، لیکن اس چراغ کا سرچشمہ وہی امام حسین علیہ السلام ہیں جنہوں نے حق، عزت اور قربانی کو تاریخ کے ایک ایسے لازوال باب میں تبدیل کر دیا جس کی روشنی صدیوں بعد بھی انسانی ضمیر سے سوال کرتی ہے۔

زمانے بدلتے رہیں گے، حالات کے عنوان بدلتے رہیں گے اور ظلم کی صورتیں بھی بدلتی رہیں گی، لیکن امام حسین علیہ السلام کی یاد، عاشورا کا پیغام اور مکتبِ امام حسین علیہ السلام کی اخلاقی روشنی ان دلوں میں زندہ رہے گی جو حق، عزت، آزادی اور مظلوم کی حمایت کو انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

شہید سید حسن نصر اللہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی دوسری برسی پر انہیں یاد کرنے کا ایک معنوی پہلو یہی ہے کہ انہیں ایسے عہد کے ایک مجاہد کے طور پر دیکھا جائے جس نے اپنی فکری اور عملی زندگی میں کربلا کو محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ اپنے زمانے کے سوالات کو سمجھنے اور ان کا سامنا کرنے کی ایک معنوی زبان کے طور پر دیکھا۔

اور آخرکار، اس نسبت کی سب سے روشن تعبیر وہی ہے جو کربلا ہمیں عطا کرتی ہے: ہم امام حسین علیہ السلام کے غلام ہیں، ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں، اور ہم مکتبِ امام حسین علیہ السلام کے سپاہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha