تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی| قرآن مجید انسان کو اس کی حقیقت، مقصدِ زندگی اور انجام سے آگاہ کرنے کے لیے بارہا قیامت اور آخرت کا ذکر کرتا ہے۔ دنیا کی زندگی اگرچہ انسان کے لیے عمل اور اختیار کا میدان ہے، لیکن اس کا سفر موت پر ختم نہیں ہوتا۔ موت کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوگا۔
سورۂ انفطار میں اللہ تعالیٰ قیامت کے متعدد ہولناک مناظر کو مسلسل بیان فرماتا ہے:إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ. ’’اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔‘‘
یہاں وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ قیامت کے اس مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے جب زمین کے اندر مدفون انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اس آیت میں صرف قبر کے کھلنے کا منظر نہیں بلکہ بعث، حشر اور آخرت میں انسانی جواب دہی کا ایک وسیع تصور پوشیدہ ہے۔
بُعْثِرَتْ: لغوی و اصطلاحی مفہوم
لفظ بُعْثِرَتْ مادہ (ب، ع، ث، ر) سے مشتق ہے۔ عربی زبان میں اس کے اندر کسی چیز کو الٹ پلٹ کرنے، تہ و بالا کرنے، منتشر کرنے اور اندر چھپی ہوئی چیز کو باہر نکالنے کے معانی پائے جاتے ہیں۔
قرآنی سیاق میں بُعْثِرَتْ کا مفہوم صرف قبروں کے کھولے جانے تک محدود نہیں۔ اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قبروں میں موجود مردے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور حشر و حساب کے مرحلے کی طرف روانہ ہوں گے۔
گویا یہ لفظ قیامت کے ایک ایسے منظر کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں قبر کی موجودہ خاموشی ختم ہوگی، زمین اپنے اندر موجود انسانوں کو باہر نکال دے گی اور انسان دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا۔
بعث بعد الموت کیا ہے؟
بعث بعد الموت اسلامی عقائد کی بنیادی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد انسانوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال کے حساب اور جزا و سزا کے مرحلے میں داخل ہوں۔
انسان جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو بظاہر اس کا جسم مٹی میں واپس چلا جاتا ہے، لیکن اسلامی تصورِ آخرت کے مطابق انسانی وجود کا سفر وہیں ختم نہیں ہوتا۔ موت دنیا اور آخرت کے درمیان ایک برزخی مرحلہ ہے، جبکہ قیامت کے دن انسان دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
قرآن مجید فرماتا ہے:يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ’’جس دن وہ قبروں سے تیزی کے ساتھ نکلیں گے، گویا وہ کسی نصب کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے۔‘‘(سورۂ معارج: 43)
یہ آیت قیامت کے دن قبروں سے انسانوں کے نکلنے کے منظر کو واضح کرتی ہے۔ اس دن قبر انسانی زندگی کا آخری مقام نہیں رہے گی بلکہ حشر کی طرف جانے کا آغاز بن جائے گی۔
معاد: آخرت کی طرف انسانی سفر
معاد اسلامی اصطلاح میں انسان کے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور آخرت میں اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہونے کے عقیدے کو کہتے ہیں۔ لفظ ’’معاد‘‘ کا تعلق واپسی سے ہے، یعنی انسان کا دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا۔
عقیدۂ معاد انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی بے مقصد نہیں۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، اسے اچھائی اور برائی میں انتخاب کی صلاحیت عطا ہوئی ہے اور اس کے اعمال کا ایک حقیقی نتیجہ ہے۔
اس اعتبار سے معاد صرف مستقبل میں پیش آنے والا ایک واقعہ نہیں بلکہ موجودہ انسانی زندگی کی اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد بھی ہے۔
حیاتِ اخروی
حیاتِ اخروی سے مراد موت کے بعد شروع ہونے والی وہ زندگی ہے جو قیامت اور حساب و کتاب کے مراحل کے بعد انسان کے لیے ظاہر ہوگی۔
دنیا کی زندگی محدود اور عارضی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی انسان کے اعمال کے نتائج کا مقام ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ دنیا کی ظاہری کامیابی کو زندگی کی آخری کامیابی نہ سمجھا جائے۔
انسان دنیا میں مال، منصب، شہرت، طاقت اور مختلف وسائل حاصل کرسکتا ہے، لیکن قبر اور قیامت کے مرحلے میں اس کے ساتھ اس کے اعمال ہوں گے۔ یہی تصور انسان کے اندر تقویٰ، احتیاط اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت اور امکانِ بعث
انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جب انسانی جسم مٹی میں مل جائے، اس کے اجزاء منتشر ہوجائیں اور ایک طویل زمانہ گزر جائے تو اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے؟
قرآن مجید اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے ذریعے دیتا ہے۔ جس ذات نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا ناممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے بے جان زمین کو بارش کے ذریعے زندہ ہونے کا منظر انسان کے سامنے رکھا ہے۔ زمین بظاہر خشک اور مردہ دکھائی دیتی ہے، لیکن بارش کے بعد اسی زمین سے نباتات اور زندگی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح انسان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دوبارہ زندہ ہونا کوئی دشوار امر نہیں۔
لہٰذا بعث بعد الموت کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ مطلقہ اور انسانی تخلیق کے پہلے مرحلے پر عقلی و قرآنی بنیاد رکھتا ہے۔
قبور کا بُعْثَر ہونا اور انسانی جواب دہی
سورۂ انفطار میں قبروں کے بُعْثَر ہونے کا ذکر قیامت کے دوسرے واقعات کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دنیا میں انسان اپنے اعمال کو چھپا سکتا ہے، اپنی ظاہری حیثیت سے دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے اور بعض اوقات اپنے غلط اعمال کے نتائج سے وقتی طور پر بچ سکتا ہے۔ لیکن قیامت وہ دن ہے جب حقیقتیں ظاہر ہوجائیں گی۔
سورۂ انفطار ہی میں آگے ارشاد ہوتا ہے:عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ’’ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا تعلق صرف دوبارہ زندہ ہونے سے نہیں بلکہ اعمال کے مکمل انکشاف اور جواب دہی سے بھی ہے۔
قیامت کا تصور اور اصلاحِ زندگی
عقیدۂ قیامت انسان کو صرف خوف کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ اسے اصلاحِ عمل کی دعوت دیتا ہے۔ اگر انسان یقین رکھتا ہے کہ اسے اپنے اعمال کے بارے میں جواب دینا ہے تو اسے اپنے کردار، معاملات اور تعلقات پر غور کرنا چاہیے۔
اس تصور سے انسان میں چند بنیادی صفات پیدا ہوتی ہیں:
تقویٰ: انسان چھپے اور ظاہر دونوں اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس رکھتا ہے۔
احساسِ ذمہ داری: انسان اپنے اعمال کے نتائج کو سمجھتا ہے اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے بچتا ہے۔
توبہ و اصلاح: گناہ کے بعد انسان مایوس ہونے کے بجائے توبہ اور اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
دنیا سے صحیح تعلق: انسان دنیا کو مقصدِ آخر نہیں بلکہ آخرت کی تیاری کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد
قیامت کے تصور کا ایک اہم عملی پہلو حقوق العباد ہے۔ عبادت کے ساتھ انسان کے معاشرتی اور اخلاقی فرائض بھی اہم ہیں۔
کسی انسان پر ظلم کرنا، کسی کا حق دبانا، جھوٹ، خیانت، غیبت، بدگمانی اور دوسروں کو اذیت پہنچانا ایسے اعمال ہیں جن کا تعلق صرف فرد کی ذات سے نہیں بلکہ معاشرے کے حقوق سے بھی ہے۔
لہٰذا آخرت پر ایمان انسان کو صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات کی طرف نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، عدل، امانت، صلۂ رحم اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔
ہمارے لیے عملی پیغام
آیت وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ سے ہمارے لیے کئی اہم عملی پیغامات حاصل ہوتے ہیں:
1. موت یقینی ہے اور اس کے بعد دوبارہ زندگی ہے۔
2. بعث بعد الموت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یقینی امر ہے۔
3. دنیا کی زندگی محدود ہے، اس لیے اسے آخرت کی تیاری میں صرف کرنا چاہیے۔
4. انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے پوشیدہ نہیں۔
5. حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔
6. گناہ پر اصرار کے بجائے توبہ اور اصلاح کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
7. ایمان کو صرف زبانی دعوے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے کردار اور عمل میں ظاہر کرنا چاہیے۔
8. انسان کو ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ اگر آج دنیا سے رخصت ہونا پڑے تو وہ اپنے رب کے حضور کیا لے کر جائے گا-
وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ بظاہر ایک مختصر آیت ہے، لیکن اس کے اندر قیامت، بعث بعد الموت، حشر، انسانی جواب دہی اور حیاتِ اخروی کے وسیع مفاہیم پوشیدہ ہیں۔
آج قبر خاموش ہے، انسان کو عمل کی مہلت حاصل ہے اور اسے اپنے اختیار سے اپنی آخرت کے لیے سرمایہ جمع کرنا ہے۔ لیکن ایک دن وہ مرحلہ ضرور آئے گا جب قبریں کھول دی جائیں گی، انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا۔
اس لیے اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ انسان آج ہی اپنی قبر اور آخرت کی تیاری کرے۔ اپنے ایمان کو مضبوط کرے، عبادت میں پابندی اختیار کرے، اخلاق کو سنوارے، دوسروں کے حقوق ادا کرے، ظلم و گناہ سے بچے، توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنائے اور اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔
کیونکہ دنیا میں انسان کے پاس عمل کی مہلت ہے، جبکہ آخرت میں حساب کا مرحلہ ہوگا۔
وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ’’اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔‘‘
یہ آیت انسان کو قبر کی خاموشی سے قیامت کے میدان تک کے سفر کی یاد دلاتی ہے اور اسے متنبہ کرتی ہے کہ آخرت کی تیاری کا وقت کل نہیں، آج ہے۔
حوالہ جات
1. قرآن مجید، سورۂ انفطار، آیات 1–5
2. قرآن مجید، سورۂ معارج، آیت 43
3. الکوثر فی تفسیر القرآن، جلد 10، ص 80










آپ کا تبصرہ