تحریر: فرح بتولؔ جلبانی
حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے بارے میں لکھنے بیٹھیں تو الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ بہت کچھ کہنا ہوتا ہے، لیکن سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کریں۔ سید حسن نصر اللّٰه بھی میرے لیے ایسی ہی شخصیت ہیں۔
شہید سید حسن نصر الله 31 اگست 1960ء کو لبنان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید عبد الکریم نصرا اللّٰه تھے؛ جن کے نو بچوں میں سید حسن نصر اللّٰه سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ محترمہ مہدیہ صفی الدین عظیم خاتون تھیں۔
سید حسن نصر اللّٰه 1992ء میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حزب اللّٰه کے سیکرٹری جنرل بنے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مشکل حالات میں بھی اسی راستے پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا تھا کہ "ہمیں رافضی کہو، دہشت گرد کہو، کافر کہو،جو کچھ بھی کہو، مگر ہم شیعانِ علی ابن ابی طالب علیہ السّلام فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔" (پھر تاریخ نے دیکھا شیعوں نے فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑا)
فلسطین کے بارے میں ان کا مؤقف صرف الفاظ تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ مسلئہ فلسطین کا حل ان کی تقاریر اور حزب اللّٰه کے سیاسی موقف میں مسلسل موجود رہا اور ان کی عملی جدو جہد بھی تاریخ سے پنہاں نہ رہ سکی۔
اور پھر وہ دن آیا کہ ان کے چاہنے والوں کو توڑ کے رکھ دیا گیا۔
مظلوموں کی مزاحمت و حمایت کے جرم میں 27 ستمبر 2024ء کو بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں علمدارِ مقاومت کو شھید کر دیا گیا۔ مگر ان کا مقصد و مشن نہ صرف باقی ہے بلکہ منزل کی طرف رواں دواں ہے اور حصول منزل تک جاری رہے گا۔
ان کی جدائی ملتِ تشیع کے لیے بہت بڑا حادثہ تھی۔
شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے بقول وہ ایک عظیم سرمایے کے طور پر باقی ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں ان کی شہادت کو ایک عظیم حادثہ قرار دیا اور ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ان کی شہادت کے چند دن بعد عراق کے ایک ہسپتال میں تقریباً 100 نومولود بچوں کو "نصراللّٰه" کے نام سے رجسٹر کیا گیا۔
تم کتنے حسینی مارو گے
ہر گھر سے حسینی نکلے گا
یقیناً یہ محبت اور عقیدت کا ایک اظہار ہے۔ بے شک سید حسن نصر اللّٰه نے لبنان اور پورے خطے کی سیاست کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کے دلوں پر بھی بہت گہرے اثرات چھوڑے۔
دل میں بس گئے جب سے آپ شہید ہوئے
مبارک ہو!بی بیؑ کے سامنے سرخرو وسعید ہوئے
وفا کی راہ میں آپ نےجو عہد نبھایا
پھر بہت سے دل آپ کے مرید ہوئے
ستم کی دھوپ میں بھی پرچم نہ جھکایا
اس استقامت سےآپکے دشمن بھی مزید ہوئے
نہ کوئی خوف آیا نہ قدم پیچھے ہٹے
آپ باطل کے مقابل مثلِ کوہ حدید ہوئے
مزاحمت نے آپ کو مٹنے نہیں دیا زمانے سے
آپ تاریخ کے اوراق میں چمکتے خورشید ہوئے
دوذخ اُدھر تو مقدر ہی ٹھہری باطلوں کی
عدو اِدھر بھی آپ کے،خوار بہت شدید ہوئے
بتولؔ! پی کے وہ جامِ شہادت سرخرو ٹھہرے
وہ عمل سے اپنے رب کی خاص خرید ہوئے










آپ کا تبصرہ