تحریر: مولانا علی عباس حمیدی
دنیا بھر میں بعض دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتے، بلکہ وہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ روزِ ہمبستگی و ہمدردی بھی ایسا ہی ایک موقع ہے؛ ایسا دن جو ہمیں ان بچوں اور نوجوانوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کی زندگی طویل عرصے سے تنازع، بے گھری، خوف، محرومی اور غیر یقینی حالات کے سائے میں گزر رہی ہے۔
بچے کسی جنگ کے فریق نہیں ہوتے۔ وہ سیاست کے فیصلے نہیں کرتے، جنگیں شروع نہیں کرتے اور نہ ہی سرحدوں اور اقتدار کے تنازعات کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جنگوں کا سب سے گہرا اثر اکثر انہی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ ان کا گھر چھن سکتا ہے، اسکول بند ہوسکتا ہے، خاندان بچھڑ سکتا ہے، کھیل کا میدان ملبے میں تبدیل ہوسکتا ہے اور مستقبل کے خواب اچانک خوف اور عدم تحفظ میں بدل سکتے ہیں۔
فلسطین کے بچوں کا مسئلہ اسی انسانی حقیقت کا ایک دردناک نمونہ ہے۔
بچوں کا سب سے بنیادی حق: محفوظ زندگی
دنیا نے بچوں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی اصول اور معاہدے تسلیم کیے ہیں۔ ان میں بچے کے زندگی، تحفظ، تعلیم، صحت، خاندان اور باوقار مستقبل کے حقوق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن کسی بھی تنازع کے دوران یہ حقوق شدید متاثر ہوتے ہیں۔
ایک فلسطینی بچہ بھی دنیا کے کسی دوسرے بچے کی طرح اسکول جانا چاہتا ہے، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے، والدین کے ساتھ محفوظ گھر میں رہنا چاہتا ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں خواب دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ڈاکٹر، استاد، انجینئر، صحافی، سائنس دان، فنکار یا کسی بھی دوسرے شعبے کا ماہر بننے کا خواب دیکھ سکتا ہے۔
لیکن جب زندگی کا بنیادی سوال یہ بن جائے کہ آج رات کہاں سوئیں گے، پانی کہاں سے ملے گا، گھر محفوظ ہے یا نہیں اور خاندان کے تمام افراد زندہ ہیں یا نہیں، تو تعلیم، تخلیقی صلاحیت اور مستقبل کے خواب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اسی لیے فلسطینی بچوں کے ساتھ ہمدردی کا مطلب صرف ان کے دکھ پر افسوس کرنا نہیں، بلکہ ان کے زندہ رہنے، سیکھنے اور مستقبل بنانے کے حق کو تسلیم کرنا بھی ہے۔
جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی
جنگ کے نقصانات کو عموماً تباہ شدہ عمارتوں، زخمیوں اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے بیان کیا جاتا ہے، لیکن بچوں پر جنگ کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔
ایک بچہ اگر مسلسل دھماکوں، فائرنگ، نقل مکانی اور اپنے عزیزوں کے نقصان کا مشاہدہ کرے تو اس کے ذہنی اور جذباتی سکون پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ خوف، اضطراب، نیند کی خرابی، تنہائی، پڑھائی سے دوری اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ نوجوانی شخصیت سازی، تعلیم، ہنر سیکھنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا مرحلہ ہے۔ اگر یہی عمر مسلسل بحران میں گزرے تو نوجوانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس لیے فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کے لیے امداد صرف خوراک، لباس اور ادویات تک محدود نہیں ہونی چاہیے؛ نفسیاتی مدد، تعلیم، کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور سماجی تحفظ کو بھی انسانی امداد کا لازمی حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
اسکول: صرف تعلیم کی جگہ نہیں
دنیا کے کسی بھی معاشرے میں اسکول بچے کے لیے دوسری دنیا ہوتا ہے۔ وہاں وہ صرف کتابیں نہیں پڑھتا، بلکہ دوستی، نظم، تعاون، گفتگو اور مستقبل کے خواب سیکھتا ہے۔
فلسطینی بچوں کے لیے اسکولوں کا تحفظ اس لیے بھی اہم ہے کہ تعلیم بحران کے ماحول میں امید کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔
ایک کتاب بچے کو یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا صرف جنگ نہیں ہے۔
ایک استاد اسے بتاتا ہے کہ اس کا مستقبل موجود ہے۔
ایک کھیل اسے دوبارہ مسکرانا سکھاتا ہے۔
ایک دوست اسے تنہائی سے نکالتا ہے۔
اسی لیے فلسطینی بچوں کی مدد میں تعلیمی تسلسل کو بنیادی ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ جہاں باقاعدہ اسکول ممکن نہ ہوں وہاں عارضی تعلیمی مراکز، آن لائن تعلیم، کتابوں کی فراہمی، اساتذہ کی معاونت اور محفوظ تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو تعلیم سے جوڑے رکھنا ضروری ہے۔
نوجوانوں کو صرف متاثرہ افراد نہ سمجھا جائے
فلسطینی نوجوانوں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت انہیں صرف جنگ کے متاثرین کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ وہ صلاحیتوں، خیالات اور تخلیقی توانائی رکھنے والی ایک پوری نسل ہیں۔
دنیا بھر میں نوجوان تبدیلی کے اہم محرک رہے ہیں۔ اگر فلسطینی نوجوانوں کو تعلیم، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت، زبانیں، تحقیق، صحافت، فنون اور دیگر مہارتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے معاشرے کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
لہٰذا ہمدردی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھا جائے، نہ کہ صرف موجودہ بحران کا متاثرہ فرد۔
انسانیت کی بنیاد: بچے کی شناخت سے پہلے انسان ہونا
فلسطینی بچے کو سب سے پہلے ایک انسان اور بچے کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ اس کی قومی، سیاسی، مذہبی یا جغرافیائی شناخت سے پہلے اس کا انسانی حق سامنے آتا ہے۔
دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بچے کی موت، بھوک، خوف یا بے گھری انسانی ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے لیے امن، تعلیم اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں تو یہی اصول دوسرے بچوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
یہی عالمی انسانی یکجہتی کا بنیادی تصور ہے۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
فلسطینی بچوں کے مسئلے کا حل صرف امدادی اداروں یا چند خیراتی تنظیموں کی ذمہ داری نہیں۔ حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، تعلیمی تنظیموں، مذہبی و سماجی اداروں، صحافیوں اور عام شہریوں—سب کا کردار ہے۔
سب سے پہلے بچوں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کا احترام ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، طبی سہولتوں کی فراہمی، صاف پانی، خوراک، رہائش اور تعلیم کے انتظامات بھی ناگزیر ہیں۔
دنیا کو یہ سوال بھی مسلسل اٹھانا چاہیے کہ جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی بحران کو ورثے میں نہ پائیں۔
ہمدردی جذبات سے عمل تک
ہمبستگی کا دن صرف تقاریر، پوسٹروں اور سوشل میڈیا پیغامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمدردی اس وقت حقیقی بنتی ہے جب وہ مثبت عمل میں تبدیل ہو۔
تعلیمی ادارے فلسطینی بچوں کے لیے کتابیں اور تعلیمی وسائل جمع کرسکتے ہیں۔ سماجی ادارے معتبر انسانی امدادی تنظیموں کے ذریعے قانونی اور شفاف امداد فراہم کرسکتے ہیں۔ طلبہ فلسطین کے بارے میں تحقیق کرسکتے ہیں، مضامین لکھ سکتے ہیں اور انسانی حقوق کے موضوع پر علمی پروگرام منعقد کرسکتے ہیں۔
میڈیا بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ فلسطینی بچوں کو صرف اعداد و شمار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان کی زندگی، تعلیم، خواب، مشکلات اور انسانی تجربات کو ذمہ دارانہ انداز میں دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے۔
ساتھ ہی اطلاعات کے اس دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ غیر مصدقہ تصاویر، ویڈیوز اور دعووں کو بغیر تحقیق کے پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ انسانی درد کو غلط معلومات کے ذریعے مزید پیچیدہ نہیں کرنا چاہیے۔
ہماری نئی نسل کیا سیکھے؟
فلسطینی بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہمارے اپنے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کا بھی ایک موقع ہے۔
ہم انہیں سکھا سکتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی بچہ مشکل میں ہو تو اس کے لیے دل میں جگہ ہونی چاہیے۔
ہم انہیں بتا سکتے ہیں کہ اختلافِ رائے نفرت کا جواز نہیں بنتا۔
ہم انہیں یہ سمجھا سکتے ہیں کہ انسانی جان کی قدر سرحدوں سے بڑی ہے۔
ہم انہیں تحقیق، سچائی، انصاف اور ذمہ دارانہ گفتگو کی تربیت دے سکتے ہیں۔
اس طرح فلسطین کا مسئلہ صرف ایک جغرافیائی تنازع کا موضوع نہیں رہتا بلکہ انسانی تربیت اور اخلاقی شعور کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔
ایک بچے کا خواب
ذرا تصور کیجیے کہ ایک فلسطینی بچہ اپنی کاپی کھولتا ہے اور استاد سے پوچھتا ہے:
"میں بڑا ہوکر کیا بنوں؟"
دنیا کا مثالی جواب یہ ہونا چاہیے کہ تم وہ بن سکتے ہو جو تم بننا چاہتے ہو۔
لیکن اس جواب کے لیے پہلے اسے زندہ رہنے، محفوظ رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور خواب دیکھنے کا موقع دینا ہوگا۔
بچوں کے خواب کسی سیاسی مذاکرات کی میز پر نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں جنگ کی قیمت بھی نہیں بننا چاہیے۔
ایک بچہ صرف بچہ ہے—اسے کھیلنے، پڑھنے، مسکرانے اور مستقبل دیکھنے کا حق ہے۔
فلسطین کے بچوں کے نام
روزِ ہمبستگی و ہمدردی با کودکان و نوجوانان فلسطینی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ فاصلے انسانیت کو تقسیم نہیں کرسکتے۔
فلسطین کے بچوں کے لیے ہماری آواز کا مقصد کسی انسان سے نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ ہر بچے کے لیے امن، تحفظ، تعلیم اور عزتِ نفس کا مطالبہ ہونا چاہیے۔
ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کوشش کرنی چاہیے جہاں کسی بچے کو یہ فیصلہ نہ کرنا پڑے کہ وہ کتاب بچائے یا اپنا گھر، کھلونا بچائے یا اپنی یادیں، اسکول جائے یا محفوظ جگہ تلاش کرے۔
فلسطین کے بچوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی یہی ہے کہ ہم ان کے لیے صرف آج کے دکھ پر آنسو نہ بہائیں، بلکہ ان کے کل کے حق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔
ان کا کل محفوظ ہو، ان کے اسکول آباد ہوں، ان کے کھیل کے میدان دوبارہ بچوں کی آوازوں سے بھر جائیں، ان کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، ان کے ذہنوں میں علم ہو اور ان کے دلوں میں خوف کے بجائے امید ہو۔
یہ صرف فلسطینی بچوں کی ضرورت نہیں؛ یہ پوری انسانیت کے اخلاقی شعور کا امتحان ہے۔
کیونکہ کسی بھی قوم کے بچوں کا مستقبل محفوظ کیے بغیر دنیا کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔










آپ کا تبصرہ