بدھ 30 ستمبر 2026 - 09:19
مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ سے خطاب:مزاحمت، سفارت کاری اور ایران کی نئی سفارتی حکمتِ عملی

حوزہ/ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب محض ایک روایتی سفارتی تقریر نہیں تھا، بلکہ ایران پر گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی جنگ اور جارحیت کے تناظر میں ایک اہم عالمی سفارتی پیغام تھا۔ دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ ایرانی صدر اس بڑے عالمی فورم پر ایران کا مؤقف کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب محض ایک روایتی سفارتی تقریر نہیں تھا، بلکہ ایران پر گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی جنگ اور جارحیت کے تناظر میں ایک اہم عالمی سفارتی پیغام تھا۔ دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ ایرانی صدر اس بڑے عالمی فورم پر ایران کا مؤقف کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ایران نے اقوام متحدہ کے اس عالمی پلیٹ فارم کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ خطاب کا ایک بنیادی پہلو یہ تھا کہ ایران نے خود کو جارح کے بجائے جارحیت کا نشانہ بننے والی ریاست کے طور پر پیش کیا۔ ایرانی صدر نے میناب کے اسکول میں ہونے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے معصوم بچیوں کی ہلاکت اور اسکول بیگ دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار ہے، جبکہ اس پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا، مگر سرنڈر نہیں

صدر پزشکیان کے خطاب کا دوسرا اہم پیغام یہ تھا کہ ایران سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یعنی ایران مذاکرات کو جنگ کے خاتمے کا ممکنہ راستہ سمجھتا ہے، تاہم وہ یہ قبول نہیں کرے گا کہ دباؤ، دھمکی یا طاقت کے ذریعے اس سے اپنی بنیادی پالیسیوں سے دستبرداری کروائی جائے۔

یہ دراصل ایران کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف میدان میں مزاحمت کو بھی جاری رکھا جا رہا ہے۔ ایران کے نزدیک دونوں راستے ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

جنگ کے میدان میں حاصل ہونے والی پوزیشن کو مذاکرات کی میز پر سفارتی فائدے میں تبدیل کرنا اسی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہے۔ چنانچہ ایران مزاحمت کے ذریعے اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے اسے ایک وسیع تر سیاسی اور سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیانیے کی جنگ: ایران نے عالمی فریمنگ کو چیلنج کیا

صدر پزشکیان کی تقریر کا ایک نمایاں پہلو اپنے بیانیہ کی تشکیل بھی تھا۔ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی؛ اس کے ساتھ نفسیاتی، معاشی اور بیانیے کی جنگ بھی جاری رہتی ہے۔

ایرانی صدر نے عالمی سطح پر ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیے جانے والے تاثر کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ مسئلہ ایران نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔ اسی تناظر میں ایران نے اپنے دفاع کے حق پر زور دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا کہ کسی ریاست پر جارحیت کی صورت میں اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اس طرح ایران نے عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی جنگ کو دفاع بمقابلہ جارحیت کے فریم میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہ سفارتی سطح پر ایک اہم بیانیاتی جنگ ہے، کیونکہ عالمی تنازعات میں صرف عسکری طاقت ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ دنیا اس تنازعے کو کس زاویے سے دیکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کی مؤثریت پر سوالات

صدر پزشکیان کے خطاب میں ایک وسیع تر عالمی مسئلے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی گئی: کیا اقوام متحدہ موجودہ عالمی تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر پا رہی ہے؟

دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے اور اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ویٹو پاور کا نظام بھی اس بحث کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کا ویٹو بعض اوقات وسیع عالمی حمایت کے باوجود کسی قرارداد کو روک سکتا ہے۔

غزہ، یوکرین اور ایران سے متعلق تنازعات نے بھی اس سوال کو مزید نمایاں کیا ہے کہ آیا موجودہ عالمی نظام جنگوں اور تنازعات کے مؤثر حل کے لیے کافی ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا جنگ کے بجائے بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور عالمی اداروں کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی طرف بڑھے۔

اسی لیے ایران کا پیغام صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر بنانے، بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے اور عالمی امن میں اس کے کردار کو مضبوط کرنے کی ضرورت بھی شامل تھی۔

خلیج کے لیے ایرانی تصور: مشترکہ سلامتی اور عدم جارحیت

صدر پزشکیان کے خطاب کا ایک اہم پہلو ہمسایہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اور علاقائی سلامتی کا تصور تھا۔

HOPE — Hormuz Peace Endeavorایران کئی برس سے

جیسے تصورات پیش کرتا رہا ہے، جن کے تحت خلیجی ممالک کو یہ تجویز دی گئی کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے خطے کے ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی کا ایک نظام تشکیل دیں۔

اس تصور میں عدم جارحیت کے معاہدے، باہمی احترام، مشترکہ سلامتی، میری ٹائم سکیورٹی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ جیسے نکات شامل ہیں۔ ایران کی خواہش یہ ہے کہ خلیجی ممالک آپس میں بیٹھ کر اپنے علاقائی مسائل حل کریں اور بیرونی عسکری انحصار کو کم کریں۔

ایران کے اس مؤقف کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ خلیجی ممالک کو ایران سے لاحق خطرے کے تصور پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ایرانی بیانیے کے مطابق ایرانوفوبیا کے ذریعے خطے کے ممالک کو ایران سے خوف زدہ کیا گیا، جبکہ ایران خود کو علاقائی تعاون اور باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار قرار دیتا ہے۔

تاہم اس تصور کی عملی کامیابی کے راستے میں بڑی رکاوٹ خلیجی ممالک کے امریکہ کے ساتھ گہرے معاشی، دفاعی اور سکیورٹی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کے امریکہ کے ساتھ وسیع معاہدے اور دفاعی وابستگیاں اس بات کو مشکل بناتی ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں مکمل طور پر امریکی سکیورٹی فریم ورک سے الگ ہو کر کسی متبادل علاقائی نظام کی طرف بڑھیں۔

ایران کی مستقبل کی خارجہ پالیسی: جنگ بندی سے پائیدار امن تک

ایران کی مستقبل کی حکمت عملی صرف ایک محاذ تک محدود نظر نہیں آتی۔ ایران فلسطین، غزہ، لبنان اور یمن سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوشش کو اہمیت دیتا ہے۔

ایران کی ترجیحات میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ پُرامن سمجھوتے کی تلاش، اپنے جوہری پروگرام سے متعلق حقوق کا تحفظ، بیلسٹک میزائل پروگرام اور قومی سلامتی کے معاملات پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنا، اور خلیجی ممالک کے ساتھ اعتماد کی بحالی شامل ہو سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی ایک بنیادی ترجیح ہے۔ مسلسل کشیدگی اور پابندیوں نے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے، اس لیے ایران ایسا طویل المدت اور پائیدار حل چاہے گا جس کے نتیجے میں اقتصادی پابندیوں میں کمی یا خاتمہ ہو اور ایران عالمی منڈی میں اپنے تیل سمیت معاشی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کر سکے۔

آبنائے ہرمز: مذاکرات کی میز پر ایران کا اہم اثاثہ

ایران کی حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک اہم سٹریٹجک اثر حاصل ہے ایران کے نقطۂ نظر سے مذاکرات کی میز پر اس کی طاقت کا ایک حصہ اسی اثر سے وابستہ ہے۔ اگر ایران کے پاس علاقائی اور جغرافیائی سطح پر کوئی مؤثر بارگینگ پوزیشن نہ ہو تو مذاکرات میں اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

نتیجہ: مزاحمت اور سفارت کاری ایک ہی حکمتِ عملی کے دو پہلو

مسعود پزشکیان کا اقوام متحدہ سے خطاب مجموعی طور پر ایران کی ایک ایسی سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں مزاحمت، سفارت کاری، بیانیہ سازی اور علاقائی سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایران ایک طرف یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، دوسری طرف یہ واضح کرتا ہے کہ دباؤ کے تحت سرنڈر نہیں کرے گا۔ میدان میں مزاحمت کو وہ مذاکرات کی میز پر اپنی بارگینگ پوزیشن مضبوط کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، جبکہ سفارت کاری کو میدان میں حاصل کردہ پوزیشن کو سیاسی اور سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنے کا راستہ تصور کرتا ہے۔

اس خطاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایران نے عالمی سطح پر اپنے خلاف بنائے گئے بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے خود کو جارحیت کا شکار اور اپنے اقدامات کو دفاع کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے موجودہ عالمی نظام، ویٹو پاور، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے حل کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

اس خطاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ایران نے عالمی سطح پر اپنے خلاف بنائے گئے بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے خود کو جارحیت کا شکار اور اپنے اقدامات کو دفاع کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے موجودہ عالمی نظام، ویٹو پاور، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے حل کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

علاقائی سطح پر ایران نے مشترکہ سلامتی، باہمی احترام، عدم جارحیت اور خلیجی ممالک کے ساتھ براہِ راست تعاون کا تصور پیش کیا، اگرچہ موجودہ امریکی اثر و رسوخ اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ گہرے دفاعی و معاشی تعلقات اس تصور کے فوری عملی نفاذ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

چنانچہ ایران کی آئندہ حکمتِ عملی کا مرکزی سوال یہی ہوگا کہ وہ مزاحمت کو سفارتی اثر اور سفارت کاری ، سفارت کاری کو پائیدار سیاسی حل، اور علاقائی طاقت کو ایک نئے سکیورٹی فریم ورک میں کس حد تک تبدیل کر سکتا ہے۔

بالآخر ایران کے لیے مطلوبہ کامیابی صرف جنگ کے میدان میں برتری نہیں بلکہ ایسی حکمت عملی کی فتح ہے ہے جس میں جنگ بندی، قومی سلامتی، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، علاقائی تعلقات کی بحالی اور مذاکرات کی میز پر اپنے مفادات کے تحفظ کو ایک پائیدار سمجھوتے کی شکل دی جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha