جمعرات 27 اگست 2026 - 11:56
عراق و لبنان میں محاذِ مقاومت: موجودہ صورتحال، چیلنجز اور مستقبل

حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی اور عسکری منظرنامہ گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ غزہ جنگ، اسرائیل کی مسلسل جارحیت، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی، لبنان اور عراق کی داخلی سیاسی صورتحال، یمن کی مزاحمت اور خطے میں امریکہ کی پالیسیوں نے پورے خطے میں طاقت کے توازن، علاقائی اتحادوں اور مزاحمتی تحریکوں کی حکمتِ عملی کو نئے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی|

مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی اور عسکری منظرنامہ گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ غزہ جنگ، اسرائیل کی مسلسل جارحیت، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی، لبنان اور عراق کی داخلی سیاسی صورتحال، یمن کی مزاحمت اور خطے میں امریکہ کی پالیسیوں نے پورے خطے میں طاقت کے توازن، علاقائی اتحادوں اور مزاحمتی تحریکوں کی حکمتِ عملی کو نئے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں عراق اور لبنان میں موجود محورِ مقاومت کی موجودہ حیثیت، اس کی حکمتِ عملی، داخلی و خارجی دباؤ اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ اس بحث میں ایک بنیادی نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ محاذِ مقاومت کو محض عسکری تنظیموں یا محدود سیاسی گروہوں کے تناظر میں دیکھنا اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک وسیع سیاسی، نظریاتی اور عوامی تصور موجود ہے جس کے اثرات عراق، لبنان، فلسطین، یمن اور دیگر خطوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

بدلتا ہوا علاقائی منظرنامہ اور مقاومت کی حکمتِ عملی

موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی بڑی سیاسی و عسکری تبدیلیوں نے عراق اور لبنان میں مقاومت کی حکمتِ عملی کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

ایک تجزیے کے مطابق خطے میں جاری کشمکش کو محض مقامی تنازعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک وسیع تر عالمی طاقت کے مقابلے کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق صہیونیت اور مزاحمتی فکر کے درمیان نظریاتی کشمکش اس پورے منظرنامے کا ایک اہم پہلو ہے۔

اس تناظر میں اسرائیل کی پالیسی کو صرف فلسطین تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے، مختلف ممالک اور معاشروں کو الگ الگ دباؤ میں لانے اور مزاحمتی قوتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اسی لیے موجودہ صورتحال میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی ایک اہم حکمتِ عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ عراق، لبنان، یمن اور ایران کے مسائل کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر محاذ کو علیحدہ دباؤ میں لا کر مجموعی مزاحمتی قوت کو کمزور کیا جا سکے۔

’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی حکمتِ عملی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تقسیم اور باہمی اختلافات کو استعمال کرنے کی پالیسی کوئی نئی چیز نہیں۔ خطے کی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران بیرونی طاقتوں نے فرقہ وارانہ، قومی، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔

موجودہ صورتحال میں بھی ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ مزاحمتی قوتوں کو باہم مربوط قوت کے بجائے الگ الگ قومی یا مقامی مسائل کے طور پر پیش کرنا اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

لبنان کو صرف لبنانی مسئلہ، عراق کو صرف عراقی مسئلہ، یمن کو صرف یمنی مسئلہ اور فلسطین کو صرف فلسطینی مسئلہ قرار دے کر ہر محاذ کو الگ مذاکرات اور الگ دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اس کے مقابلے میں محورِ مقاومت کا تصور ان تمام محاذوں کو ایک وسیع تر علاقائی مسئلے کے مختلف حصوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی لیے مزاحمتی حلقوں میں یہ تصور نمایاں ہے کہ اگر ایک محاذ پر جنگ یا جارحیت جاری ہو اور دوسرے محاذ پر مزاحمت کو خاموش کر دیا جائے تو مجموعی مزاحمتی حکمتِ عملی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کو تنہا کرنے کی کوشش

موجودہ علاقائی کشیدگی میں ایران ایک مرکزی فریق کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں کے حوالے سے یہ تجزیہ پیش کیا جاتا ہے کہ ایران کو براہِ راست یا بالواسطہ دباؤ میں لا کر اس کے علاقائی اتحادیوں اور مزاحمتی قوتوں سے جدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حکمتِ عملی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عرب ممالک، عراق، لبنان اور دیگر علاقائی ریاستوں کو ایران سے الگ سیاسی اور سیکیورٹی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اس کے مقابلے میں مزاحمتی فکر کا استدلال یہ ہے کہ خطے کے مختلف ممالک کو درپیش خطرات ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا نہیں کیے جا سکتے۔ اگر کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت یا دباؤ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات دوسرے ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اسی لیے مزاحمتی حلقے علاقائی سطح پر تعاون اور اتحاد کو اپنی بقا اور مستقبل کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہیں۔

عراق اور لبنان کی حکومتیں: اقتدار کی مجبوریاں

عراق اور لبنان دونوں ایسے ممالک ہیں جہاں ریاستی حکومت اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنا خاصا پیچیدہ ہے۔

حکومتیں بین الاقوامی تعلقات، معاشی ضرورتوں، سفارتی دباؤ، داخلی سیاسی توازن اور ریاستی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مزاحمتی تحریکیں اپنے آپ کو اکثر ان بین الاقوامی سفارتی حدود کا پابند نہیں سمجھتیں جن کے اندر ریاستی حکومتوں کو کام کرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات حکومتوں کے بیانات اور عوامی جذبات میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔

عراق اور لبنان میں بھی یہ سوال اہم ہے کہ حکومتیں ایک طرف بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی تقاضوں کو کس طرح سنبھالتی ہیں اور دوسری طرف عوامی سطح پر فلسطین اور مزاحمت کے لیے موجود حمایت کو کس طرح ملحوظ رکھتی ہیں۔

عالمی ادارے اور دوہرے معیار

اس بحث میں عالمی اداروں کے کردار پر بھی شدید سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

عراق کے خلاف ماضی میں بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی طاقتوں کی عسکری کارروائیوں کی مثالیں موجود ہیں، جبکہ فلسطین، خصوصاً غزہ میں ہونے والی تباہی کے حوالے سے عالمی اداروں کی عملی صلاحیت اور مؤثریت پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اس تناظر میں مزاحمتی بیانیہ یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں بین الاقوامی قوانین اور ادارے ہمیشہ یکساں طور پر نافذ نہیں ہوتے بلکہ بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات ان کے عملی کردار پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

یہی احساس عراق اور لبنان سمیت خطے کے عوام میں اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ اپنی سلامتی اور سیاسی خودمختاری کے لیے صرف عالمی اداروں پر انحصار کافی نہیں۔

عوام اور حکومتوں میں فرق

عراق اور لبنان کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پہلو عوامی رائے ہے۔

اگرچہ حکومتی سطح پر سیاسی اور سفارتی مصلحتیں موجود ہوتی ہیں، لیکن عوامی سطح پر فلسطین اور مزاحمت کے لیے حمایت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عراق میں مزاحمتی فکر کے لیے موجود عوامی حمایت، مذہبی و قومی اجتماعات، زیارات اور فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی اس بات کی علامت سمجھے جاتے ہیں کہ عوامی سطح پر مزاحمت کا بیانیہ اب بھی مؤثر ہے۔

لبنان میں بھی صورتحال صرف ایک مذہبی یا فرقہ وارانہ زاویے سے نہیں دیکھی جا سکتی۔ لبنان کا سماجی ڈھانچہ انتہائی متنوع ہے، لیکن اسرائیلی جارحیت اور ملکی خودمختاری کے سوال پر مختلف طبقات میں مزاحمت کے لیے حمایت کے مظاہر سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ عوامی عنصر مستقبل میں دونوں ممالک کی سیاست پر اثرانداز ہونے والا اہم عامل بن سکتا ہے۔

کیا عراق اور لبنان میں مقاومت اب بھی مؤثر فرنٹ ہے؟

یہ سوال موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ہے کہ شہادتوں، سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات اور مسلسل عسکری کارروائیوں کے باوجود کیا عراق اور لبنان کی مزاحمتی قوتیں اب بھی ایک مؤثر محاذ کے طور پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟

اس کا جواب دینے کے لیے صرف عسکری صلاحیت کو معیار بنانا کافی نہیں۔ کسی بھی مزاحمتی تحریک کی طاقت کے تین بنیادی پہلو ہوتے ہیں:

نظریاتی وابستگی

عوامی حمایت

تنظیمی اور عسکری صلاحیت

عراق اور لبنان میں مزاحمت کے حوالے سے یہ تینوں عناصر مختلف سطحوں پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ان کی نوعیت، طاقت اور سیاسی اثرات دونوں ممالک میں مختلف ہیں۔

لبنان میں مقاومت کا تجربہ ایک طویل عرصے پر محیط ہے اور اس نے ملکی سیاست، سلامتی اور اسرائیل کے ساتھ تنازع پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ عراق میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے ملکی سیاست اور علاقائی سیکیورٹی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ محاذِ مقاومت کی شکل تبدیل ہو سکتی ہے، اس کی حکمتِ عملی میں ردوبدل ہو سکتا ہے، لیکن اسے محض سیاسی دباؤ یا قیادت کی بعض تبدیلیوں کی بنیاد پر ختم شدہ تصور کرنا قبل از وقت ہوگا۔

قیادت کی شہادتیں اور مزاحمت کا مستقبل

محورِ مقاومت کو گزشتہ عرصے میں اہم قیادتوں کی شہادتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا قیادتوں کے خاتمے سے مزاحمتی تحریکیں کمزور ہو جاتی ہیں؟

مزاحمتی نقطۂ نظر کے مطابق شہادت کسی تحریک کے خاتمے کی علامت نہیں بلکہ بعض اوقات اس کے نظریاتی جذبے کو مزید تقویت دیتی ہے۔ کربلا کی تاریخ کو اسی تصور کی بنیادی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ایک فرد کی شہادت ایک تحریک کے نظریے کو ختم کرنے کے بجائے آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کی علامت بن سکتی ہے۔

اسی تناظر میں مزاحمتی حلقے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ قیادت کی شہادت کے بعد اصل امتحان تنظیمی تسلسل اور عوامی وابستگی کا ہوتا ہے۔

اگر ایک تحریک کسی ایک شخصیت کے بجائے ایک نظریے، تنظیمی ڈھانچے اور اجتماعی شعور پر قائم ہو تو قیادت کی تبدیلی کے باوجود اس کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔

معاشی دباؤ: ایک نیا محاذ

موجودہ علاقائی تنازع میں معاشی جنگ بھی ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔

پابندیاں، معاشی دباؤ، توانائی کے مسائل، تیل کی قیمتیں، تجارتی راستے اور سمندری گزرگاہیں اب جنگ کے روایتی میدانوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹیجک دباؤ کے ذرائع بن چکے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب، عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان راستوں میں طویل عرصے تک رکاوٹ یا عدم استحکام عالمی توانائی اور تجارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ صرف میزائل، طیاروں اور زمینی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، توانائی، سفارت کاری، اطلاعات اور عوامی رائے بھی اس جنگ کے اہم محاذ بن چکے ہیں۔

مقاومت کی اصل طاقت: عوام

محورِ مقاومت کے مستقبل کا سب سے اہم سوال شاید اس کی عسکری طاقت سے زیادہ اس کی عوامی بنیاد ہے۔

کسی بھی مزاحمتی تحریک کی طویل المدتی بقا کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں ہوتا۔ نظریاتی وابستگی، عوامی حمایت، اجتماعی شناخت اور قیادت پر اعتماد زیادہ دیرپا عوامل ہیں۔

اسی لیے عراق اور لبنان میں ہونے والی مذہبی و سیاسی سرگرمیاں، فلسطین کے حق میں عوامی مظاہرے، مزاحمت کے حق میں عوامی جذبات اور مذہبی اجتماعات اس بحث میں اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر عوامی حمایت برقرار رہتی ہے تو مزاحمت اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرکے بھی اپنا سیاسی اور سماجی کردار جاری رکھ سکتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

عراق اور لبنان میں محورِ مقاومت کا مستقبل کئی عوامل سے مشروط ہے۔

پہلا اہم عامل خطے میں اسرائیل اور امریکہ کی پالیسی ہے۔ اگر اسرائیلی جارحیت اور علاقائی توسیع کی پالیسی جاری رہتی ہے تو مزاحمت کے لیے عوامی حمایت برقرار رہنے کے امکانات موجود رہیں گے۔

دوسرا عامل عراق اور لبنان کی داخلی سیاست ہے۔ حکومتیں اگر ریاستی خودمختاری، قومی مفادات اور عوامی جذبات کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو داخلی کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا عامل ایران اور علاقائی مزاحمتی قوتوں کے تعلقات ہیں۔ اگر مختلف مزاحمتی محاذوں کے درمیان سیاسی اور اسٹریٹیجک رابطہ برقرار رہتا ہے تو ان کی مجموعی قوت بھی برقرار رہ سکتی ہے۔

چوتھا اور شاید سب سے اہم عامل عوامی حمایت ہے۔ اگر عوام فلسطین، قومی خودمختاری اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کے بیانیے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو کسی بھی مزاحمتی تحریک کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔

عراق اور لبنان میں محورِ مقاومت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے لیے روایتی عسکری حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی، سفارتی اور عوامی محاذ بھی اہم ہو گئے ہیں۔

موجودہ حالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے صرف عسکری کارروائی کافی نہیں؛ اس کے لیے سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ، داخلی اختلافات اور عوامی بیانیے پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں مقاومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عوامی بنیاد کو برقرار رکھتے ہوئے داخلی سیاسی حقیقتوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، اور عراق و لبنان کی ریاستی خودمختاری، قومی مفاد اور علاقائی مزاحمت کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔

مستقبل میں ممکن ہے کہ محورِ مقاومت کی حکمتِ عملی پہلے کی نسبت زیادہ سیاسی، سفارتی، معاشی اور غیر روایتی شکل اختیار کرے۔ لیکن اس کی سمت کا بنیادی تعین خطے میں اسرائیلی پالیسی، امریکی کردار، فلسطین کی صورتحال، ایران کی علاقائی پوزیشن اور عراق و لبنان کے عوامی و سیاسی ردِعمل سے ہوگا۔

بالآخر عراق اور لبنان میں مقاومت کا مستقبل صرف میدانِ جنگ میں طے نہیں ہوگا؛ یہ عوامی شعور، سیاسی فیصلوں، علاقائی اتحاد، معاشی استقامت اور نظریاتی وابستگی کے مجموعے سے تشکیل پائے گا۔ یہی وہ عوامل ہیں جو آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن اور محورِ مقاومت کے کردار کا تعین کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha