منگل 28 جولائی 2026 - 04:13
بمناسبت شہادتِ بنت الحسین: ایک بار مجھے گود میں لے لو بابا

حوزہ/بیٹی کی پہلی دنیا اس کا باپ ہوتا ہے۔ وہ اپنے باپ کی محبت صرف محسوس ہی نہیں کرتی بلکہ اسے سننا بھی چاہتی ہے۔ باپ کی ایک مسکراہٹ، ایک شفقت بھری نظر، ایک محبت آمیز جملہ اور ایک بار گود میں اٹھا لینا، بیٹی کے پورے وجود کو اعتماد، تحفظ اور سکون سے بھر دیتا ہے۔ ماں اولاد کو آغوشِ محبت دیتی ہے، لیکن باپ اسے دنیا کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور خود اعتمادی عطا کرتا ہے۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی|

بیٹی کی پہلی دنیا اس کا باپ ہوتا ہے۔ وہ اپنے باپ کی محبت صرف محسوس ہی نہیں کرتی بلکہ اسے سننا بھی چاہتی ہے۔ باپ کی ایک مسکراہٹ، ایک شفقت بھری نظر، ایک محبت آمیز جملہ اور ایک بار گود میں اٹھا لینا، بیٹی کے پورے وجود کو اعتماد، تحفظ اور سکون سے بھر دیتا ہے۔ ماں اولاد کو آغوشِ محبت دیتی ہے، لیکن باپ اسے دنیا کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور خود اعتمادی عطا کرتا ہے۔

باپ اور بیٹی کے درمیان ایک ایسا خاموش رشتہ ہوتا ہے جس کی زبان الفاظ نہیں بلکہ احساسات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دن کے کسی نہ کسی لمحے ہر بیٹی اپنے باپ کی موجودگی کو تلاش کرتی ہے۔ باپ ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند ہوتا ہے، جس کے سائے میں بیٹیاں بے خوف ہو کر خواب دیکھتی، مسکراتی اور زندگی کے سفر پر آگے بڑھتی ہیں۔

اگر باپ اور بیٹی کی محبت کی معراج دیکھنی ہو تو کربلا کا رخ کیجیے، جہاں محبت نے وفا کا لباس پہنا، اور جدائی نے صبر کی ایسی تفسیر لکھی جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں مل سکتی۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی اپنی سب سے چھوٹی اور نہایت محبوب بیٹی حضرت فاطمہ سکینہ سلام اللہ علیہا سے محبت محض ایک باپ کی فطری شفقت نہ تھی بلکہ روحانی وابستگی کا ایک بے مثال رشتہ تھی۔

روایت میں آتا ہے کہ امام حسینؑ نے فرمایا کہ

"سکینہ میری نمازِ شب کی دعاؤں کا ثمر ہے۔"

یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اس باپ کے دل کی گہرائیوں کو آشکار کرتا ہے، جس نے اپنی بیٹی کو خدا سے مانگا تھا۔

کربلا صرف تلواروں اور نیزوں کی داستان نہیں، یہ عورتوں، بچوں اور معصوم بچیوں کے صبر و استقامت کی بھی تاریخ ہے۔ امام حسینؑ کے ہر ساتھی نے قربانی دی، مگر اہلِ بیتؑ کی معصوم بچیوں نے بھی صبر کی وہ منزلیں طے کیں جن پر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ان سب میں حضرت سکینہؑ ایک روشن ستارے کی مانند دکھائی دیتی ہیں، جنہوں نے کم سنی میں وہ دکھ دیکھے جنہیں بڑے بڑے انسان برداشت نہ کر سکیں۔

روایات بیان کرتی ہیں کہ جب امام حسینؑ میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت سکینہؑ ذوالجناح کے سموں سے لپٹ گئیں۔ امامؑ نے محبت سے پوچھا: "بیٹی! کیا بات ہے؟"

عرض کیا:

"بابا! میں آپ کے چہرۂ مبارک کو آخری بار دیکھ لینا چاہتی ہوں تاکہ آپ کے اس صابر اور مطمئن چہرے کا تصور میرے آنے والے مصیبت بھرے سفر میں میرے دل کو تسلی دیتا رہے۔"

یہ صرف ایک معصوم بچی کی خواہش نہ تھی، بلکہ آنے والے تمام مصائب کی خاموش پیش گوئی تھی۔

عاشور کا سورج ڈھلنے تک سکینہؑ اپنے سے چھوٹے بچوں کو یہی کہہ کر تسلی دیتی رہیں کہ "ابھی میرے چچا عباسؑ پانی لے آئیں گے۔"

انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے علمدار چچا فرات کے کنارے اپنے دونوں بازو قربان کر کے وفا کی لازوال مثال قائم کر چکے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد حضرت سکینہؑ نے دوبارہ پانی طلب نہ کیا۔ شاید اس لیے کہ انہیں یقین تھا کہ اگر پانی آئے گا تو صرف عمو عباسؑ ہی لائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ مقتل گواہی دیتی ہے کہ حضرت عباسؑ کی شہادت کے بعد خیموں سے "العطش، العطش" کی صدائیں مدھم ہو گئیں۔ پیاس باقی رہی، مگر شکایت خاموش ہوگئی۔

پھر عصرِ عاشور کے بعد ایک اور سفر شروع ہوا۔ ایسا سفر جس میں منزلیں نہیں، صرف زخم تھے؛ راستے نہیں، صرف زنجیریں تھیں؛ سایہ نہیں، صرف تازیانے تھے۔

کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام، اور شام کے بازاروں سے زندانِ شام تک ایک معصوم بچی نے وہ سب کچھ دیکھا جسے بیان کرتے ہوئے تاریخ کی آنکھیں بھی نم ہوجاتی ہیں۔

یہ وہی سکینہؑ تھیں جن کا اصل نام آمنہ یا رقیہ تھا، جنہیں دنیا "سکینہ" کے لقب سے جانتی ہے۔ والدہ حضرت رباب بنت امرءالقیس کے آغوش میں پرورش پانے والی یہ بابا کی لاڈلی شہزادی آخرکار اسی شام کے زندان میں اپنے بابا کی جدائی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئیں۔

کہتے ہیں کربلا کا ذکر حضرت سکینہؑ کے بغیر ادھورا ہے، کیونکہ کربلا صرف امام حسینؑ کی قربانی کا نام نہیں، بلکہ ان معصوم آنکھوں کے آنسوؤں کا نام بھی ہے جنہوں نے اپنے بابا کا کٹا ہوا سر نیزے پر دیکھا، مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

اور جب رخصت کی وہ گھڑی آئی، تو ایک ننھی سی بیٹی کی التجا صدیوں کو چیرتی ہوئی آج بھی ہر دلِ عزادار میں گونجتی ہے:

ایک بار مجھے گود میں لے لو بابا

جوڑ کر ننھے سے ہاتھوں سے سکینہؑ نے کہا

وا حسیناؑ کا ہوا شور حرم میں برپا

ہو کر رخصت جو چلے گھر سے شاہِ کرب و بلا

کہہ کے یہ دوڑی سکینہؑ کہ ٹھہر جاؤ ذرا

ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ

یہ صرف ایک بیٹی کی فریاد نہیں، یہ محبت کا وہ آخری لمحہ ہے جہاں باپ کی گود اور بیٹی کی معصوم خواہش ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات پر امر ہوگئی۔

سلام ہو اس معصوم شہزادی پر، جس نے بچپن میں صبر کی وہ تفسیر لکھی جسے رہتی دنیا تک اہلِ ایمان اشکوں سے پڑھتے رہیں گے۔

اور سلام ہو اس باپ پر، جس نے اپنی بیٹی کو صرف محبت ہی نہیں دی، بلکہ حق، استقامت اور قربانی کا وہ درس دیا جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha