بدھ 9 ستمبر 2026 - 16:04
محمد ہادی کاظمیؒ علم، عمل، محبت اور خدمت کا ایک روشن باب

حوزه/ بعض لوگ زندگی میں محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں آتے، بلکہ اپنے علم، کردار، محبت، خلوص اور خدمت کے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی مدتوں باقی رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو یاد کرنا دراصل ان اقدار کو یاد کرنا ہوتا ہے جن کے وہ امین تھے۔ سید محمد ہادی کاظمیؒ بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی علم و تعلیم، تنظیم و تربیت، خدمتِ خلق، محبتِ اہل بیتؑ اور تحقیق و مطالعہ کے لیے وقف کیے رکھی۔

تحریر: سید نثار علی ترمذی

حوزه نیوز ایجنسی | بعض لوگ زندگی میں محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں آتے، بلکہ اپنے علم، کردار، محبت، خلوص اور خدمت کے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی مدتوں باقی رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو یاد کرنا دراصل ان اقدار کو یاد کرنا ہوتا ہے جن کے وہ امین تھے۔ سید محمد ہادی کاظمیؒ بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی علم و تعلیم، تنظیم و تربیت، خدمتِ خلق، محبتِ اہل بیتؑ اور تحقیق و مطالعہ کے لیے وقف کیے رکھی۔
20 اپریل 2026ء کو جب سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے انتقال کی المناک خبر ملی تو دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ یقین نہیں آتا تھا کہ وہ شخص جس سے کچھ عرصہ قبل ملاقات ہوئی تھی، جس کی باتوں میں زندگی، علم اور محبت کی حرارت محسوس ہوتی تھی، اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ زبان پر بے اختیار آیا:إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَآنکھیں اشک بار ہوگئیں اور ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے۔ یوں محسوس ہوا جیسے دوستوں کی اس فہرست میں ایک اور نام شامل ہوگیا ہے جن کے لیے اب وقتاً فوقتاً دعائے مغفرت ہی ہماری محبت کا اظہار ہے۔

پہلی ملاقات: ایک اجنبی جو اپنا سا لگا

2019ء کی بات ہے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی ایک ڈاکومنٹری کی تیاری کے سلسلے میں گلگت بلتستان جانے کا موقع ملا۔ اس سفر میں متعدد احباب کے انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے۔ ایک دن گلگت میں آئی ایس او کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس وقت کے آفس سیکرٹری برادر نعیم نے اطلاع دی کہ اسکردو سے آئی ایس او کے سابق ڈویژنل صدر سید ہادی کاظمی شام کو تشریف لا رہے ہیں۔ ان کا انٹرویو بھی ریکارڈ کرلیجیے گا۔میں نے پوچھا کہ ان سے اسکردو میں ملاقات کیوں نہ ہوسکی؟ بتایا گیا کہ وہ خود گلگت آئے ہوئے تھے، اس لیے اسکردو میں دستیاب نہیں تھے۔مغرب کے بعد وہ تشریف لائے۔ ملاقات ہوئی تو عجیب کیفیت محسوس ہوئی۔ یوں لگا جیسے یہ پہلی ملاقات نہیں بلکہ مدتوں سے شناسائی ہے۔ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا اور گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ سید ہادی کاظمیؒ ایک اہم علمی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی سوانح حیات مرتب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ گوجرانوالہ اور لاہور بھی جاچکے تھے، لیکن مطلوبہ تعاون نہ مل سکا۔میں نے عرض کیا:"آپ نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ اب جب تشریف لائیں تو مجھے بھی موقع دیجیے، آپ کی اس مشکل کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔"مجھے اس بات پر خاصی حیرت ہوئی کہ گلگت بلتستان کے ایک نسبتاً دور افتادہ علاقے میں رہنے والا شخص علامہ مفتی جعفر حسینؒ جیسی شخصیت پر اس قدر سنجیدہ تحقیق کررہا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے کسی علمی کام کی توفیق عطا فرماتا ہے، اس کے لیے راستے بھی پیدا کردیتا ہے۔

محمد ہادی کاظمیؒ علم، عمل، محبت اور خدمت کا ایک روشن باب

لاہور آمد اور علمی رفاقت

2020ء میں سید محمد ہادی کاظمیؒ لاہور تشریف لائے اور ہمارے غریب خانے کو بھی رونق بخشی۔ اسکردو کی سوغات ساتھ لائے۔ میں نے اپنی لائبریری سے جو کچھ ممکن تھا ان کی خدمت میں پیش کیا اور علامہ مفتی جعفر حسینؒ کے حوالے سے مزید مواد کی تلاش کے لیے منصوبہ بندی کی۔اس دوران متعدد شخصیات کے انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے، مختلف کتب خانوں کا رخ کیا گیا اور دستیاب مواد تلاش کیا گیا۔ اسی سلسلے میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کی لائبریری اور مکتبہ سے بھی استفادہ کیا۔ ہادی صاحب اس موقع پر خوش بھی تھے اور حیران بھی کہ لاہور میں علمی مواد کا یہ وسیع ذخیرہ موجود ہے اور شاید وہ تنہا یہاں کبھی نہ آسکتے۔کتب کی خریداری کا انہیں خاص شوق تھا۔ انہوں نے خاصی تعداد میں کتابیں خریدیں۔ میں نے ازراہِ مذاق پوچھا:"آپ اتنی کتابیں اسکردو کیسے لے جائیں گے؟"کہنے لگے:"یہاں سے بک کروائیں گے اور اسکردو پہنچ جائیں گی۔"کتابوں سے ان کی محبت محض شوق نہیں بلکہ ایک فکری ضرورت تھی۔ وہ کتاب خریدتے، پڑھتے، دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے اور علمی گفتگو میں اس سے استفادہ کرتے۔ایک ہفتہ، دس دن کی یہ رفاقت کب گزر گئی، احساس ہی نہ ہوا۔ بہت سے وعدے ہوئے، جن میں سب سے اہم علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی سوانح حیات کی تکمیل اور اشاعت کا منصوبہ تھا۔ میں نے العارف اکادمی سے بھی بات کرلی تھی کہ اگر کتاب مکمل ہوجائے تو اسے شائع کیا جائے گا۔

کتاب کا خواب اور آزمائش

اس کے بعد ٹیلی فون اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ مسلسل قائم رہا۔ علامہ مفتی جعفر حسینؒ سے متعلق جو بھی مواد میرے ہاتھ آتا، میں انہیں ارسال کردیتا۔ وہ بھی بتاتے رہتے کہ کتاب پر کام جاری ہے اور تحریر کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔اسی دوران مجلہ افکار العارف نے قائد ملت علامہ مفتی جعفر حسینؒ پر ایک خصوصی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس خصوصی شمارے کے لیے ہادی صاحب سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا، مگر ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ مل سکا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کراچی گئے تھے جہاں کسی بدقسمت واقعے میں ان کا لیپ ٹاپ چھن گیا اور اس میں محفوظ اہم علمی مواد ضائع ہوگیا۔ یہ کسی بھی محقق کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ لیکن ہادی صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے دوبارہ کام شروع کیا اور اسی عزم کے ساتھ کتاب کی تکمیل کی کوشش جاری رکھی۔یہ واقعہ ان کے مزاج کی ایک بنیادی خصوصیت واضح کرتا ہے: وہ مشکلات سے گھبرانے والے انسان نہیں تھے۔

آخری ملاقات کی یاد

24 فروری 2024ء کو ثاقب بھائی کی پہلی برسی تھی۔ میں استقبالیہ پر موجود تھا کہ اچانک ہادی صاحب، آقائے علی نوری کے ہمراہ تشریف لائے۔ ملاقات ہوئی، معانقہ و مصافحہ ہوا اور تصویر بھی بنائی گئی۔میں نے انہیں ثاقب بھائی پر مرتب کردہ پیام کا خصوصی شمارہ پیش کیا اور ملاقات کا وعدہ لیا۔ وعدہ یاد بھی دلایا، مگر میری اپنی مصروفیات کے باعث ملاقات نہ ہوسکی۔اسی دوران ہادی صاحب نے اسکردو کی ایک سوغات لاہور بھیجی اور فرمایا کہ علامہ آفتاب جوادی صاحب کے لیے بھی سوغات ہے ۔ جو غالباً ان کے صاحبزادے نے یہ سوغات جامعہ الکوثر پہنچا دی۔

جامعہ الکوثر کی آخری ملاقات

2025ء کے آغاز میں معلوم ہوا کہ ہادی صاحب اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ رابطہ ہوا اور ملاقات کا پروگرام بنا۔ طے پایا کہ جامعہ الکوثر میں ملاقات ہوگی۔ انہوں نے میٹرو اسٹیشن سے اتر کر مجھے فون کیا۔ میں جامعہ کے گیٹ پر گیا اور انہیں ساتھ لے کر علامہ آفتاب حسین جوادی صاحب کے حجرے میں حاضر ہوا۔ مہمان آئے ہوں اور قبلہ جوادی صاحب تواضع نہ کریں، یہ ممکن ہی نہیں تھا۔اس موقع پر انہیں جامعہ کی لائبریری دکھائی اور علامہ آفتاب جوادی صاحب کا وسیع ذخیرۂ کتب بھی دکھایا۔ مختلف علمی، فکری اور تنظیمی موضوعات پر دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ان کی گفتگو میں ایک عجیب کشش تھی۔ ان کی باتیں محض الفاظ نہیں ہوتیں تھیں بلکہ ان میں مطالعے، تجربے اور اخلاص کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے گفتگو سے بھی خوشبو آتی ہو۔عصر کے بعد میں انہیں میٹرو اسٹیشن چھوڑنے گیا۔ میں نے انہیں پیام کا ختمِ نبوت نمبر پیش کیا۔ سڑک پر کسی سے ہماری تصویر بھی بنوائی گئی۔اسی موقع پر ہادی صاحب نے مجھ سے کہا:"ترمذی بھائی! آپ نے تو ہمارے پاس آکر کھانا بھی نہیں کھایا۔"یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی جیب سے ایک بڑا نوٹ نکالا اور میری جیب میں رکھتے ہوئے فرمایا:"یہ ہماری طرف سے کھانا کھا لینا۔"میں نے بہت انکار کیا، مگر ان کی محبت کے سامنے میری ایک نہ چلی۔یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔جاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ملاقات ہماری آخری ملاقات ثابت ہوگی۔رابطے منقطع ہوئے تو بے چینی بڑھتی گئی اس کے بعد میں انہیں واٹس ایپ پر پیغامات بھیجتا رہا، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ متعدد مرتبہ فون کیا، مگر فون بند ملا۔ میں نے اسے نیٹ ورک کی عدم دستیابی سمجھ کر معمول کی بات تصور کیا۔پھر فیس بک کے ذریعے معلوم ہوا کہ آقائے علی نوری اسلام آباد میں ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ کیا اور اپنی بے چینی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے رابطہ کرکے بتانے کا وعدہ کیا اور بعد ازاں انہوں نے ان کے صاحبزادے کا نمبر دیا۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ والد محترم سی ایم ایچ میں داخل ہیں اور آکسیجن لگی ہوئی ہے، دعا کیجیے۔یہ سن کر فوراً ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے۔بعد میں ان کے بھائی نے بتایا کہ جب ان کے سامنے میرا ذکر خیر کیا گیا تو ہادی صاحب بے اختیار رو پڑے تھے۔ یہ آنسو کسی تکلیف کے نہیں، محبت کے آنسو تھے؛ ایسی محبت جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔مگر قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔

20 اپریل 2026ء: جدائی کا دن

20 اپریل 2026ء کو فیس بک پر یہ المناک خبر سامنے آئی کہ سید محمد ہادی کاظمیؒ اس دنیأ فانی سے رخصت ہوکر عالمِ بقا کی طرف روانہ ہوگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَدل غم و اندوہ سے ڈوب گیا۔ آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور ہاتھ دعائے مغفرت کے لیے اٹھ گئے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے اہل خانہ، احباب اور تمام عقیدت مندوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

محمد ہادی کاظمیؒ علم، عمل، محبت اور خدمت کا ایک روشن باب

ابتدائی زندگی اور تعلیم

سید محمد ہادی کاظمیؒ 20 جون 1960ء کو ضلع سکردو، بلتستان کے علاقے روندو کے ایک دور افتادہ گاؤں خومراہ (Khomara) میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ناظرہ قرآن مجید اپنے دادا جان سید محمد شاہ سے پڑھا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے علاقہ طورمک میں اپنے قریبی رشتہ دار آغا سید مہدی شاہ کے ہاں قیام کیا۔ آغا سید مہدی شاہ نجف اشرف سے تعلیم یافتہ عالم دین تھے اور اپنے زمانے کے متعدد مراجع عظام کے وکیل مطلق کی حیثیت رکھتے تھے۔آغا سید مہدی شاہ نے سید ہادی کاظمیؒ اور اپنے صاحبزادے کو ایک سال تک عربی گرامر اور صرفِ میر پڑھائی۔ بعد ازاں دونوں کو مروجہ تعلیم کے لیے سرکاری اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اسکول میں طلباء کی تعداد کم ہونے کے باعث حکومت نے اسکول بند کردیا تو دونوں نے تھوار کا رخ کیا اور ہائی اسکول تھوار میں داخلہ لیا۔اس زمانے میں پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم اسی ادارے میں ہوتی تھی۔ سید ہادی کاظمیؒ نے وہیں سے میٹرک مکمل کیا۔اسکول میں ہر جمعہ کو بزمِ ادب منعقد ہوتی تھی جس میں حمد و نعت، تقاریر اور بیت بازی کے مقابلے ہوتے تھے۔ ہادی صاحب ان پروگراموں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ یہی سرگرمیاں آگے چل کر ان کے اندر خود اعتمادی، خطابت اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ذریعہ بنیں۔بعد کے ادوار میں وہ ایک بلند پایہ مقرر اور خطیب کے طور پر پہچانے گئے۔

آئی ایس او سے وابستگی

میٹرک کے بعد سید محمد ہادی کاظمیؒ نے اسکردو میں تعلیم جاری رکھی۔ کالج کے زمانے میں انہیں پہلی مرتبہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے شناسائی ہوئی۔اس زمانے میں گلگت بلتستان میں آئی ایس او کے پہلے صدر سید مہدی شاہ تھے، جو بعد میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور گورنر گلگت بلتستان کے منصب پر بھی فائز ہوئے۔ سید محمد ہادی کاظمیؒ کو روندو یونٹ کا صدر بنایا گیا، جب کہ آغا مہدی شاہ نجفی کے صاحبزادے نائب صدر مقرر ہوئے۔آئی ایس او کے پلیٹ فارم سے ولادتِ باسعادت حضرت امام مہدیؑ کے سلسلے میں ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پروگرام میں بلتستان بھر کے علماء اور عوام کو دعوت دی گئی۔ فنڈز کی ضرورت محسوس ہوئی تو طورمک کے مخیر حضرات سے رابطہ کیا گیا۔ لوگوں نے بھرپور تعاون کیا اور پروگرام شایانِ شان انداز میں منعقد ہوا۔اس پروگرام میں متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں مرحوم علامہ شیخ غلام محمد، آغا علی موسوی، آغا احمد علی شاہ، آغا محمد علی شاہ اور علامہ شیخ محمد حسن جعفری جیسے نام شامل تھے۔ہادی کاظمیؒ کی تنظیمی صلاحیتوں اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں آئی ایس او گلگت بلتستان ڈویژن کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس وقت گلگت بلتستان ایک ہی ڈویژن پر مشتمل تھا۔انہوں نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، یونٹس قائم کیے، طلبہ و عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اور تعلیمی اداروں میں تنظیم سازی کو فروغ دیا۔ گلگت، کھرمنگ، شگر اور خپلو سمیت مختلف علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے تنظیم کو وسعت دی۔بلاشبہ ان کا دورِ صدارت آئی ایس او گلگت بلتستان کے لیے ایک اہم اور یادگار دور تھا۔

تنظیمی استقامت

ان کی تنظیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سابق مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان اور موجودہ مرکزی سیکریٹری تعلیم مجلس وحدت مسلمین پاکستان کاچو زاہد علی خان نے بتایا کہ سید محمد ہادی کاظمیؒ آئی ایس او گلگت بلتستان ڈویژن کے دوسرے ڈویژنل صدر تھے۔ان کے دور میں آئی ایس او کو گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی شخصیت، خطابت اور تنظیمی صلاحیت نے اس عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تعلیم و تربیت اور تنظیم سازی پر بھی ان کے دور میں خصوصی توجہ دی گئی۔1994ء میں تحریک جعفریہ کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی پاداش میں محکمہ تعلیم کی جانب سے انہیں ہوم اسٹیشن سے تقریباً 220 کلومیٹر دور سیاچن کے دامن میں واقع ایک اسکول میں تعینات کردیا گیا۔لیکن یہ تبادلہ بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کرسکا۔ انہوں نے وہاں بھی اپنی علمی، تدریسی اور تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ خطابت اور علمیت کے امتزاج نے انہیں اس علاقے میں بھی ایک مؤثر اور محبوب شخصیت بنا دیا۔آقائے علی نوری کے مطابق سیاچن کے دامن میں واقع اس دور افتادہ علاقے کے لوگوں پر بھی ہادی صاحب نے مثبت اثرات چھوڑے اور وہاں کے لوگ آج بھی ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

تعلیم: ایک مقدس ذمہ داری

سید محمد ہادی کاظمیؒ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی تعلیمی خدمات تھیں۔خومراہ روندو کے مکتب اسکول سے لے کر سیاچن کے دامن میں واقع انوری شہید ہائی اسکول تک، تھوار ہائی اسکول سے کالج آف ایجوکیشن فار ویمن اسکردو تک، انہوں نے ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت میں کردار ادا کیا۔وہ تدریس کو محض ملازمت نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک مقدس ذمہ داری تصور کرتے تھے۔ ان کے نزدیک استاد کا منصب معاشرے کی تعمیر اور نسلوں کی تربیت کا منصب تھا۔انہوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم میں یکساں قومی نصاب کی تیاری کے سلسلے میں گلگت بلتستان کی نمائندگی بھی کی اور علماء کرام کی رہنمائی میں نصاب سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔
42 سالہ تعلیمی خدمات کے بعد وہ جون 2024ء میں گریڈ 20 میں کالج آف ایجوکیشن فار ویمن اسکردو سے سینئر انسٹرکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ان کی ریٹائرمنٹ کی تقریب بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ اس میں علماء کرام، آبائی گاؤں کے افراد، صوبائی وزیر تعلیم، ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ یہ تقریب دراصل ایک استاد کو خراجِ تحسین تھا جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ نسلوں کی تربیت میں صرف کیا۔

خومراہ: ایک گاؤں کو علم کی روشنی دینا

سید محمد ہادی کاظمیؒ کا آبائی گاؤں خومراہ گلگت، سکردو روڈ سے اوپر ایک نہایت دور افتادہ علاقہ ہے۔ بنیادی سہولیات کے اعتبار سے یہ علاقہ طویل عرصے تک پسماندگی کا شکار رہا۔ہادی صاحب نے اپنے گاؤں کی حالت بدلنے کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔1983ء میں ان کی کوششوں سے گاؤں میں پہلا سرکاری مکتب اسکول قائم ہوا اور وہ خود اس اسکول میں پہلے استاد مقرر ہوئے۔آج اس گاؤں کے بچے ملک کی ممتاز جامعات، جن میں قائداعظم یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی شامل ہیں، میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ایک طالب علم چین میں پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم بھی حاصل کررہا ہے۔یہ کسی ایک اسکول کا قیام نہیں تھا؛ یہ دراصل ایک پورے معاشرے میں علم کی شمع روشن کرنے کا آغاز تھا۔انہوں نے علاقے میں فرسودہ رسومات کے خاتمے کے لیے حکمت اور تدبر کے ساتھ کام کیا، دینی و مذہبی شعور پیدا کیا، فلاحی منصوبوں کی سرپرستی کی، پیدل راستوں اور پلوں کی تعمیر میں کردار ادا کیا، گاؤں میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ قائم کی اور اپنی نگرانی میں دو امام بارگاہوں کی تعمیر بھی کروائی۔گاؤں کے زمینی، معاشرتی اور دیگر تنازعات کو سرکردگان کے ساتھ مل کر مقامی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ نتیجتاً علاقے کے لوگ انہیں صرف ایک استاد یا عالم دوست شخصیت نہیں بلکہ اپنے اجتماعی مسائل کے حل کا مرکز سمجھنے لگے۔

محبت کا قرض: اہلِ خومراہ کا فیصلہ

شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین کے معاملے میں خومراہ کے لوگوں کی محبت کا ایک غیر معمولی منظر سامنے آیا۔جب یہ اعلان ہوا کہ مرحوم کی تدفین سکردو شہر کے معروف قبرستان قتل گاہ شریف میں کی جائے گی تو آبائی گاؤں کے لوگ گلگت سکردو روڈ پر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے مرحوم کی میت کا سوگوار انداز میں استقبال کیا اور اصرار کیا کہ انہیں آبائی گاؤں میں ہی دفن کیا جائے۔ان کا کہنا تھا:"ہمیں آغا کی قبر سے محروم نہ کریں۔"یہ الفاظ اس تعلق کی گہرائی بیان کرنے کے لیے کافی ہیں جو ہادی صاحب اور اہلِ خومراہ کے درمیان قائم تھا۔خواتین سمیت لوگ روتے، فریاد کرتے اور اصرار کرتے رہے کہ ان کے آغا کو یہیں دفن کیا جائے۔ گاؤں کے سرکردگان نے قائد بلتستان علامہ شیخ محمد حسن جعفری سے بھی درخواست کی کہ مرحوم کی تدفین ان کے آبائی گاؤں میں کی جائے۔یہ محض تدفین کے مقام کا مسئلہ نہیں تھا؛ یہ دراصل ایک معاشرے کی اپنے محسن کے ساتھ محبت اور عقیدت کا اظہار تھا۔گھر کے اندر ایک شفیق انسانہادی صاحب باہر کی دنیا میں ایک فعال، خطیب، استاد، محقق اور تنظیمی شخصیت تھے، لیکن گھر کے اندر ان کی شخصیت نہایت نرم، شفیق اور ملنسار تھی۔ان کے ساتھ بیک وقت برادرانہ، استاد و شاگرد، شفقت اور احترام کے رشتے قائم تھے۔تحائف دینا ان کی عادت میں شامل تھا۔ 2019ء تک وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے رہے، جس میں خاندان کے متعدد افراد اور بچوں سمیت تقریباً بیس بائیس افراد شامل تھے۔ جب بھی کسی سفر سے واپس آتے، خاندان کے ہر فرد کے لیے اس کی مناسبت سے تحفہ ضرور لاتے۔ان کی خاص خوبی یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ کس شخص کو کیا تحفہ پسند آئے گا۔بچوں کے لیے کھلونے، طلبہ کے لیے قلم، ڈائری یا کہانی کی کتاب، خاص دوستوں کے لیے اچھی کتاب اور اپنے لیے بھر بھر کر کتابیں!ان کے نزدیک تحفہ محض ایک چیز نہیں بلکہ محبت کا اظہار تھا۔وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر خاص زور دیتے اور اکثر کہا کرتے تھے:"بیٹیوں کے لیے بہترین تحفہ تعلیم و تربیت ہے۔"گھر کو ایک تربیتی مرکز بنا دیناچہاردہ معصومین علیہم السلام سمیت مقدس ہستیوں کی ولادت و شہادت کے ایام وہ خاص اہتمام سے مناتے تھے۔ گھر کے تمام افراد ایک کمرے میں جمع ہوتے، بچے، بیٹے اور بیٹیاں مناسبت کے مطابق قصیدہ، سلام یا نوحہ پڑھتے اور ہادی صاحب خود بھی اس میں بھرپور حصہ لیتے۔بعد ازاں مختصر حدیث بیان کرتے اور تبرک کا بھی اہتمام ہوتا۔یوں ان کا گھر محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا دینی و تربیتی مرکز بن جاتا تھا۔ان کا تصورِ تعلیم کتاب اور کلاس روم تک محدود نہیں تھا؛ وہ چاہتے تھے کہ علم گھر کے ماحول میں سانس لے، گفتگو کا حصہ بنے اور نسلوں کی تربیت کرے۔کتابوں سے عشق سید محمد ہادی کاظمیؒ کے بارے میں تعزیتی ریفرنس میں سب سے زیادہ جس وصف کا ذکر کیا گیا، وہ ان کی کتاب دوستی اور مطالعے سے محبت تھی۔وہ کتاب کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط کرتے تھے۔ ہر کتاب خریدنا ان کا مقصد نہیں تھا بلکہ معیاری اور مفید کتابیں ان کی ترجیح تھیں۔جہاں جاتے، علمی مراکز اور کتب خانوں کا رخ کرتے۔ ان کی ذاتی لائبریری ان کے علمی ذوق کی آئینہ دار تھی۔ائمۂ معصومین علیہم السلام کی ولادت و شہادت کے مواقع پر وہ گھر کے افراد اور دوستوں میں منتخب کتابیں تقسیم کرتے، انہیں مطالعے کی ترغیب دیتے اور بعد میں ان کتابوں کے حوالے سے علمی نشستیں بھی منعقد کرتے۔یہ ان کے تربیتی تصور کا خوب صورت پہلو تھا کہ کتاب خریدنے سے آگے بڑھ کر کتاب پڑھنے، سمجھنے اور اس پر گفتگو کرنے کی روایت پیدا کی جائے۔علم، جدید تعلیم اور دینی شعوران کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی تھا کہ جدید علوم کے مطالعے نے انہیں دین سے دور نہیں کیا بلکہ ان کے دینی شعور کو مزید گہرا کیا۔تعزیتی ریفرنس میں اس پہلو کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا کہ جدید جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے بعض افراد مغربی تہذیبی اثرات کے نتیجے میں اپنی دینی شناخت سے دور ہوجاتے ہیں، لیکن ہادی صاحب کی شخصیت اس کے برعکس تھی۔جدید علوم، سائنسی موضوعات اور عصری مباحث کے مطالعے کے ساتھ ان کا قرآن، فقہ، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات، زیارات اور دینی معارف سے تعلق مزید مضبوط ہوا۔زیارتِ جامعہ کبیرہ اور زیارتِ ناحیہ مقدسہ کے مضامین میں ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کے شعور اور معرفت کی جو جہتیں بیان ہوتی ہیں، ہادی صاحب کی زندگی میں ان کا عملی عکس دکھائی دیتا تھا۔ان کی زندگی عشقِ اہل بیتؑ، دعا، زیارات، علم اور عمل کا حسین امتزاج تھی۔ایک وسیع مطالعہ رکھنے والا انسان جو لوگ ان کے قریب رہے، وہ جانتے ہیں کہ ان کا مطالعہ محض مذہبی کتابوں تک محدود نہیں تھا۔ تاریخ، سیاست، معاشرت، تعلیم، تنظیم، عصری مسائل اور فکری مباحث ان کی گفتگو کا حصہ تھے۔وہ کسی موضوع پر رائے دینے سے پہلے تحقیق اور اطمینان کو ضروری سمجھتے تھے۔ جھوٹ، مبالغہ آرائی اور غیر حقیقی باتوں سے گریز کرتے تھے۔دوستوں اور ساتھیوں کی اصلاح بھی ایسے انداز میں کرتے کہ سامنے والا برا محسوس کرنے کے بجائے اپنی اصلاح پر آمادہ ہوجاتا۔ ان کی بات بعض اوقات ایک ایسے آئینے کی طرح ہوتی جس میں انسان کو اپنی اصل صورت دکھائی دیتی تھی۔تعزیتی ریفرنس: ایک ملت کی گواہی31 مئی 2026ء کو شیخ مفید ہال، جامعۃ النجف، سکردو، بلتستان میں ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس اور محفلِ قرآن خوانی منعقد ہوئی۔اس موقع پر مرحوم کو جس انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، وہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی اجتماعی گواہی تھی۔انہیں علمی افق پر چمکتے ہوئے ستارے سے تعبیر کیا گیا۔ ان کی علمی بصیرت، تحقیقی مزاج اور حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کو ان کی شخصیت کا امتیاز قرار دیا گیا۔کہا گیا کہ وہ کسی معاملے میں مکمل تحقیق اور اطمینان کے بعد رائے دیتے اور ہمیشہ حقیقت پر مبنی مشورہ پیش کرتے تھے۔ان کی تواضع، فرض شناسی اور ذمہ داری کا بھی خصوصی ذکر ہوا۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محض ملازمت یا ذریعۂ معاش نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک الٰہی فریضہ تصور کرتے تھے۔تدریس ان کے لیے عبادت اور رسالتِ انبیاءؑ کے تسلسل کی ایک شکل تھی۔ ان کے نزدیک معلمی ایک مقدس امانت تھی جسے اخلاص، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ضروری تھا۔علمی ورثے کو محفوظ کرنے کی ضرورتتعزیتی ریفرنس میں مرحوم کے فرزندان سے خصوصی اپیل کی گئی کہ ان کی تحقیقی تقاریر، علمی یادداشتوں، تحریری مواد اور دیگر علمی ذخیرے کو یکجا کرکے محفوظ کیا جائے اور اسے کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔یہ ایک نہایت اہم تجویز ہے۔سید محمد ہادی کاظمیؒ کی اصل میراث صرف ان کی ذاتی لائبریری نہیں، بلکہ ان کے ذہن میں محفوظ علمی مواد، ان کے تجربات، ان کی گفتگو، ان کی تقریریں، ان کے تحقیقی نوٹس اور ان کی تربیت سے فیض یاب ہونے والے انسان بھی ہیں۔اگر یہ مواد محفوظ نہ کیا گیا تو ایک پورا علمی سرمایہ وقت کے ساتھ ضائع ہوسکتا ہے۔ضرورت ہے کہ ان کے اہل خانہ، شاگرد، دوست اور تنظیمی رفقا مل کر:ان کی تمام تحریروں کو جمع کریں۔ان کی تقریروں اور انٹرویوز کو محفوظ کریں۔ذاتی کتب خانے کا باقاعدہ فہرست نامہ تیار کریں۔ان کے تحقیقی نوٹس اور مسودات کو مرتب کریں۔علامہ مفتی جعفر حسینؒ پر ان کے نامکمل تحقیقی کام کو تلاش کرکے محفوظ کریں۔ان کے علمی و تنظیمی سفر پر الگ الگ یادداشتیں مرتب کریں۔اور آخرکار ان کے علمی ورثے کو کتابی صورت میں شائع کریں۔یہی ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ ہوگا۔

اولاد کی تعلیم: ایک خواب کی تکمیل

سید محمد ہادی کاظمیؒ کے نزدیک تعلیم محض ایک پیشہ نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی مقصد تھی۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ان کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔بڑے صاحبزادے سید مبشر حسن کاظمی نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اسلام آباد میں نجی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔درمیانے صاحبزادے نے پنجاب یونیورسٹی سے کلینیکل سائیکالوجی میں بی ایس کیا، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل مکمل کیا اور کلینیکل سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری رکھی۔ وہ کوہاٹ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے، تاہم والد محترم کی علالت کے باعث ملازمت چھوڑ دی۔چھوٹے صاحبزادے سید وقار کاظمی بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں انگلش لٹریچر کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔پانچ بیٹیوں میں سے تین نے کراچی یونیورسٹی، بلتستان یونیورسٹی اور اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ سب سے چھوٹی بیٹی قائداعظم یونیورسٹی سے پاکستان اسٹڈیز میں ایم فل کررہی ہیں۔یہ اولاد کی تعلیمی کامیابیاں اس خواب کی عملی تعبیر ہیں جسے ہادی صاحب نے اپنی پوری زندگی پروان چڑھایا: علم کو نسل در نسل منتقل کرنا۔ایک شخص نہیں، ایک ادارہسید محمد ہادی کاظمیؒ کو اگر صرف ایک استاد، ایک خطیب، ایک تنظیمی کارکن یا ایک محقق کے طور پر یاد کیا جائے تو شاید ان کی شخصیت کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔وہ ان سب حوالوں کا مجموعہ تھے۔وہ استاد تھے تو تعلیم کو عبادت سمجھتے تھے۔وہ خطیب تھے تو گفتگو کو اصلاح اور شعور کا ذریعہ بناتے تھے۔وہ تنظیمی کارکن تھے تو تنظیم سازی کو تربیت سے جوڑتے تھے۔وہ محقق تھے تو تحقیق میں صبر، دیانت اور حقیقت پسندی کو ضروری سمجھتے تھے۔وہ کتاب دوست تھے تو کتاب کو زندگی اور نسلوں کی تربیت کا وسیلہ سمجھتے تھے۔وہ خاندان کے سربراہ تھے تو شفقت، محبت اور تعلیم کو گھر کی بنیاد بناتے تھے۔وہ اہل بیتؑ کے محب تھے تو محبت کو عمل، معرفت اور تربیت سے جوڑتے تھے۔اور وہ انسان تھے تو انسانوں کے دکھ، ضرورت اور عزت کا خیال رکھتے تھے۔رخصت ہوگیا ایک خوشبو بکھیرنے والا پھول تعزیتی ریفرنس میں مرحوم کو علمی محفلوں کا "خوشبو بکھیرنے والا پھول" قرار دیا گیا تھا۔ یہ تعبیر ان کی شخصیت کے لیے بہت موزوں معلوم ہوتی ہے۔وہ جہاں بیٹھتے، گفتگو شروع ہوتی تو وقت کا احساس نہیں رہتا تھا۔ ان کے پاس واقعات کا ذخیرہ تھا، کتابوں کا حوالہ تھا، تاریخ کی یادداشت تھی، تنظیمی تجربہ تھا اور سب سے بڑھ کر انسانوں سے محبت تھی۔آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی باتیں، ان کی کتابیں، ان کے شاگرد، ان کے تربیت یافتہ افراد، ان کی اولاد اور ان کے آبائی گاؤں کے لوگ ان کی زندگی کی گواہی دے رہے ہیں۔خومراہ میں قائم ہونے والا وہ پہلا اسکول، وہ بچے جو آج ملک اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں، وہ امام بارگاہیں، وہ جمعہ کی نماز، وہ علمی نشستیں، وہ کتابیں، وہ شاگرد اور وہ بے شمار دل جن میں ان کی محبت زندہ ہے—یہ سب ان کے لیے صدقۂ جاریہ کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةًبلاشبہ سید محمد ہادی کاظمیؒ کی زندگی اس حقیقت کی ایک روشن مثال تھی کہ صالح عمل انسان کو ایسی زندگی عطا کرتا ہے جس کے اثرات اس کی وفات کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔وہ چلے گئے، مگر ان کا کام باقی ہے۔وہ خاموش ہوگئے، مگر ان کی آواز ان کے شاگردوں اور تربیت یافتہ نسلوں میں سنائی دیتی رہے گی۔وہ کتاب بند کرگئے، مگر ان کی لائبریری آنے والوں کو مطالعے کی دعوت دیتی رہے گی۔وہ اپنے آبائی گاؤں سے رخصت ہوگئے، مگر وہاں روشن ہونے والی علم کی شمعیں ان کے نام کو زندہ رکھیں گی۔اور وہ دوستوں سے بچھڑ گئے، مگر محبت کرنے والوں کے دل میں ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ سید محمد ہادی کاظمیؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی، تعلیمی، تنظیمی اور دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علمی ورثے کو محفوظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی اولاد کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے اور تمام لواحقین و احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha