ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 18:13
رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

حوزہ/آئی ایس او ضلع سکردو بلتستان کے زیرِ اہتمام جامعۃ النجف سکردو میں ’’زاویہ‘‘ پروگرام کے تحت ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خصوصی نشست منعقد ہوئی؛ نشست سے کراچی سے تشریق لائے ہوئے مولانا سید علی مرتضٰی زیدی نے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس او پاکستان ضلع سکردو کے زیرِ اہتمام جامعۃ النجف سکردو بلتستان میں ’’زاویہ‘‘ پروگرام کے تحت ’’نئے عالمی حالات اور ہماری دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خصوصی نشست منعقد ہوئی؛:جس سے حجت الاسلام مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے خطاب کیا۔

رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے نئے عالمی حالات، شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے اہداف و مقاصد، ایرانِ اسلامی کی استقامت و کامیابی، امریکی عالمی نظام اور پاکستان میں اہلِ تشیع کی اجتماعی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال کیا۔

مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے کہا کہ شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رح کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ایک باایمان، خوددار، خود انحصار، باصلاحیت اور عالمی استکبار کے سامنے باوقار امت کی تشکیل تھا۔

رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے خود اعتمادی، خدا سے مضبوط تعلق، علمی و سائنسی ترقی، ادارہ سازی، قومی صلاحیتوں کے مؤثر استعمال اور طویل المدت منصوبہ بندی کو اس مشن کے اہم ستون قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانِ اسلامی نے طویل عرصے کی پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی، سائنسی، صنعتی اور قومی صلاحیتوں کو مسلسل ترقی دی۔

مولانا سید علی مرتضی زیدی نے کہا کہ ایران کی موجودہ استقامت اور کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خود اعتمادی اور خود انحصاری کے ذریعے ایک قوم عالمی دباؤ کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے موجودہ عالمی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مشاہدے کے مطابق امریکی بالادستی کا دور اپنے اختتام کی طرف بڑھ چکا ہے اور دنیا ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں مسلمانوں بالخصوص اہلِ تشیع کو محض تماشائی بننے کے بجائے اپنی اجتماعی قوت، علمی استعداد اور سیاسی و سماجی کردار کو منظم کرنا ہوگا۔

رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے کہا کہ شہید رہبرِ معظم کی شہادت کا حقیقی تقاضا صرف غم اور جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ ان کے اہداف کو عملی زندگی میں آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں اصلاحِ نفس، نماز، قرآن، دینی شعور، اخلاق، علم اور اجتماعی ذمہ داری میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا ہوگی۔

انہوں نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’’چلتا ہے‘‘ کی ذہنیت ترک کرکے معیار، مہارت اور بہترین کارکردگی کو اختیار کیا جائے۔ وسائل کو فضول خرچی اور نمود و نمائش میں ضائع کرنے کے بجائے اسکول، کالج، یونیورسٹی، تحقیقی مراکز اور مستقل دینی و تربیتی ادارے قائم کیے جائیں۔

سید علی مرتضی زیدی نے پاکستان کے اہلِ تشیع کے حوالے سے کہا کہ موجودہ دور ایک اہم تاریخی موقع ہے۔ ’’سانوں کی‘‘ کی ذہنیت ترک کرکے کراچی، پنجاب، بلتستان اور ملک کے دیگر علاقوں کے شیعہ مسلمانوں کو اپنی مشترکہ ذمہ داری اور اجتماعی مفادات کا احساس کرنا ہوگا۔

رہبرِ شہید کے اہداف کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے، مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی

انہوں نے مزید کہا کہ نظامِ ولایتِ فقیہ سے فکری و اجتماعی وابستگی کو مضبوط کرتے ہوئے عالمی حالات میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی نے زور دیا کہ ایران کی استقامت سے سبق، شہید رہبرِ معظم کے اہداف کی تکمیل، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد، وسائل کا درست استعمال، ادارہ سازی اور اجتماعی وحدت ہی نئے عالمی حالات میں ہماری مؤثر حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔ ہمیں دوسروں سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کی اصلاح اور اپنی حقیقی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے منظم اور طویل المدت جدوجہد کرنا ہوگی۔

واضح رہے مولانا سید علی مرتضٰی زیدی کی جامعہ النجف سکردو آمد پر علماء نے استقبال کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha