جمعرات 3 ستمبر 2026 - 13:05
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو: بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

حوزہ/قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے امامیہ مرکز بلتستان، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کا دورہ کیا؛ وفد میں شیعہ سنی کے جید علمائے کرام شامل تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفد کی قیادت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رہنما بزرگ عالم دین اور مہتمم جامعۃ الرشید کراچی مفتی عبد الرحیم نے کی؛ جبکہ وفد میں مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء و مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو:بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

اس موقع پر داعی اتحاد بین المسلمین امام جمعہ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری، صدرِ مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی، نائب امام جمعہ علامہ شیخ محمد جواد حافظی، علامہ عارف حسین واحدی، جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر محمد علی جوہر، مفتی سرور اور دیگر علماء و عمائدین موجود تھے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رہنما علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری کا وفد کی پرتپاک میزبانی اور محبت بھرے خیرمقدم پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی شخصیت پورے پاکستان کے لیے ایک نعمت ہے، ان کی بصیرت، محبت اور کردار کی بدولت بلتستان میں امن و اتحاد کی فضا قائم ہے اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگ ان کے ساتھ مضبوط دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو:بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

انہوں نے کہا کہ ہم علامہ شیخ محمد حسن جعفری سے رہنمائی اور امن و وحدت کی خوشبو حاصل کرنے آئے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اس مرکز کے ساتھ رابطہ ہے اور یہاں سے حاصل ہونے والے پیغامِ محبت و اتحاد کو ملک کے دیگر علاقوں اور اکابرین تک پہنچایا جاتا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

اسلامی تحریک کے مرکزی رہنما علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ ہم داعیِ امن علامہ شیخ محمد حسن جعفری سے رہنمائی حاصل کرنے آئے ہیں۔ اتحاد بین المسلمین کے لیے ان کی عملی کوششیں سب پر عیاں ہیں۔ بالخصوص گلگت بلتستان اور بلتستان میں قائم امن، بھائی چارے اور بین المسالک ہم آہنگی کی فضا پورے پاکستان کے لیے رول ماڈل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان کے عوام کی پاکستان کے لیے قربانیاں اور خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ڈوگرا راج کے خلاف جدوجہد اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق سے لے کر آج تک اس خطے کے عوام نے ملک کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف مراکز میں علماء اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد سے ملاقاتوں کے دوران ان کے بارے میں ہمیشہ اچھے جذبات کا اظہار کیا گیا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو:بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

مرکزی امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلتستان ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں معمولی نوعیت کا کوئی مسئلہ پیدا ہو تو علماء اور عمائدین مل بیٹھ کر اسے حل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بلتستان میں فرقہ واریت کے بجائے اتحاد و اخوت کی روایت مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہاں دین کے نام پر فساد پھیلانے والے عناصر کے بجائے مستند اور جید علماء موجود ہیں۔ اہل سنت، اہل حدیث، اہل تشیع، نوربخشی، اسماعیلی اور دیگر مکاتبِ فکر کے علماء باہم مل بیٹھتے ہیں اور اختلاف کو باہمی احترام کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ امت کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا رحمت اور نعمت ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے ماضی کے مختلف المناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ چلاس، کوہستان، لولوسر اور دیگر واقعات نے قوم کو شدید دکھ پہنچایا، ہمارے جوانوں کی مسخ شدہ لاشیں بھیجی گئیں، تاہم ان مشکل حالات میں بلتستان کے عوام اور علماء نے صبر، تدبر اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو:بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

انہوں نے کہا کہ عملی وحدت کا مظاہرہ محض باتوں سے نہیں، بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے سے ہوتا ہے، اتحاد کی باتیں کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کرنا بہت مشکل ہے لیکن الحمدللہ ہم نے تمام مسالک کے علماء کے تعاون سے یہ مشکل کام بھی کر دکھایا، ہم نے اتحاد کے لیے عملی کام کیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے بلتستان کے علماء نے اس ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔

نائب امام جمعہ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے تین اہم مراحل ہیں: قیامِ پاکستان، استحکامِ پاکستان اور پیغامِ پاکستان۔ ہمارے اکابرین نے قیامِ پاکستان میں کردار ادا کیا، اب استحکامِ پاکستان اور پاکستان کا مثبت پیغام پوری انسانیت تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے عالمِ اسلام کے حوالے سے اہم اور قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کا مضبوط اور مستحکم ہونا نہ صرف ملکی بلکہ عالمِ اسلام کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر 1965ء، کرگل اور دیگر مواقع پر ملکی دفاع میں ہمیشہ پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان میں اہل تشیع، اہل سنت، اہل حدیث، نوربخشی اور دیگر مکاتبِ فکر کے لوگ ایک گلدستے کی مانند رہتے ہیں۔ جس طرح مختلف پھول مل کر چمن بناتے ہیں، اسی طرح مختلف مکاتبِ فکر باہمی احترام اور محبت کے ساتھ مل کر معاشرے کو خوبصورت بناتے ہیں۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا دورۂ سکردو:بلتستان مختلف مکاتبِ فکر کے اتحاد و محبت کا خوبصورت گلدستہ ہے، امام جمعہ سکردو

صدر مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلتستان کے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دلائی۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان میں محرومیاں بہت ہیں۔ دریا کا پانی بہہ کر ضائع ہو رہا ہے، لیکن عوام کو بجلی اور پینے کے صاف پانی کی مناسب سہولت میسر نہیں۔ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کا منصوبہ پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ مکمل کیا۔

انہوں نے موجودہ صورتحال میں بعض افراد کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف قانون سے ہٹ کر کاروائی قابلِ قبول نہیں۔ حکام بالا کو اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، تاکہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔

آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ منشیات اور شراب کے کاروبار میں ملوث عناصر اور فرقہ واریت پھیلانے والے بعض افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر محض ایک کمنٹ کرنے والے افراد کو گرفتار یا غائب کیے جانے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ماورائے عدالت کسی بھی کاروائی کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور قانون و آئین کی بالادستی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کے رہنما مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ کمیٹی کا بنیادی مقصد ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر زمینی حالات کا جائزہ لینا، علماء و عوام سے براہِ راست رابطہ کرنا اور امن و وحدت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مسائل کی بنیادی وجوہات میں غلط فہمیاں، مختلف مکاتبِ فکر کے بارے میں پھیلایا جانے والا غیر ضروری پروپیگنڈا اور بعض حقیقی غلطیاں شامل ہیں۔ ان مسائل کو باہمی گفت و شنید اور حکمت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل تشیع، اہل سنت، اہل حدیث، نوربخشی اور اسماعیلی سمیت تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطہ اور مکالمہ کمیٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

مفتی عبد الرحیم نے کہا کہ سب سے پہلے ہماری شناخت اور ترجیح ریاستِ پاکستان ہے اور ملکی امن و استحکام کے لیے جو کردار ادا کرنا پڑا، قومی پیغامِ امن کمیٹی اپنی بساط کے مطابق ادا کرے گی۔

انہوں نے امامیہ مرکز بلتستان میں علماء و عمائدین کی جانب سے وفد کے پرتپاک استقبال اور میزبانی پر بالخصوص علامہ شیخ محمد حسن جعفری، آغا سید باقر الحسینی اور دیگر علماء کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام، امن، بین المسالک ہم آہنگی اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha