حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان پاکستان میں 31 اگست 2026ء بروز پیر، ولادت صادقین کے سلسلے میں ایک پروقار اور روح پرور تقریب منعقد ہوئی؛ جس کا اہتمام منتظمہ کمیٹی سکردو نے کیا۔ جشن میں علمائے کرام، سادات عظام، شعرائے کرام، منقبت خواں، طلبہ اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کی نظامت کے فرائض جناب وزیر رضا نے انجام دیے، جبکہ طلبہ و حفاظِ قرآن کی جانب سے تلاوتِ کلامِ پاک سے محفل کا آغاز ہوا۔

شیخ محمد الیاس قمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے شرکائے محفل کو خوش آمدید کہا۔

جشنِ صادقین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ذاکر حسین مقپون نے محسنِ انسانیت، علامہ شیخ اشرف تابانی نے اخلاقِ پیغمبر، الحاج آغا سید صادق شاہ رضوی نجفی نے پیغمبر اکرم وسیلۂ اتحاد، علامہ شیخ مہدی جوادی نے صادق آلِ محمد بانیِ فقہ جعفری اور علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے رسولِ اکرم اسوۂ حسنہ کے موضوعات پر خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاق، علم، اتحاد اور کردار کا کامل نمونہ ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اعلیٰ اخلاق، عدل، رحمت، صبر، عفو و درگزر اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے ایک ایسی مثالی معاشرت قائم فرمائی جس کی رہنمائی آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، جبکہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے علم و دانش، فقہ، اخلاق اور تربیت کے ذریعے مکتبِ اہل بیت کی علمی بنیادوں کو مستحکم کیا اور ہزاروں شاگردوں کی علمی و فکری تربیت فرمائی۔

علماء نے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسوہ سے مراد ایسا عملی نمونہ اور طرزِ زندگی ہے جسے دوسرے لوگ اپنے لیے رہنما بنا سکیں، جبکہ ’’حسنہ‘‘ اسے خوبصورت، بہترین اور قابلِ اتباع نمونے سے ممتاز کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دے کر واضح کردیا کہ کامیاب زندگی کے لیے سیرتِ رسول کو رہنمائی کا مرکز بنانا ضروری ہے۔

علماء نے موجودہ دور کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور ایک حقیقی رول ماڈل کی تلاش میں ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو مغربی تہذیب کے غیر تنقیدی اتباع کے بجائے رسولِ اکرم اور ائمۂ اہل بیت کی سیرت اور تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران نے بھی اپنی فکری بنیادیں انقلابِ نبوی اور اسلامی تعلیمات سے اخذ کیں اور ثابت کیا کہ اسلام صرف عبادات اور نظریات کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، تہذیب، اخلاق، عدل، انسانی خدمت اور تمدن سازی کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی علامہ شیخ انور علی نجفی نے سیرتِ پیغمبر و سیرتِ امام جعفر صادق کے موضوع پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم اور امام جعفر صادق کی حیاتِ طیبہ کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر پڑھنا کافی نہیں بلکہ ان کی سیرت کو عملی زندگی میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے علم، اخلاق، اتحاد، انسان دوستی اور دینی بصیرت کو سیرتِ صادقین کے بنیادی پیغامات قرار دیا۔

تقریب کی صدارت داعیِ وحدت امام جمعہ و الجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کی۔
اس موقع پر شعراء، منقبت خواں اور قصیدہ خوان حضرات نے بھی بارگاہِ رسالت و امامت میں عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔









آپ کا تبصرہ