اتوار 30 اگست 2026 - 08:48
بلتستان یونیورسٹی میں سیرت النبیؐ سیمینار: نوجوانوں کو درپیش چیلنجوں کا حل اُسوہ حسنہ میں پوشیدہ ہے، مقررین

حوزہ/بلتستان یونیورسٹی سکردو پاکستان میں حضور نبی کریمؐ کی ولادتِ باسعادت اور سیرتِ طیبہ کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک سلسلہ وار دروس و سیمینار کا اِنعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان ”اُسوہ حسنہ کی روشنی میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں کا تعین“ تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلتستان یونیورسٹی سکردو پاکستان میں حضور نبی کریمؐ کی ولادتِ باسعادت اور سیرتِ طیبہ کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک سلسلہ وار دروس و سیمینار کا اِنعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان ”اُسوہ حسنہ کی روشنی میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں کا تعین“ تھا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر نے کہا کہ نبی کریمؐ کی ذاتِ گرامی کائنات کے لیے ہدایت اور عظیم الشان نمونہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ اور اس پر عملی پیرا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ نوجوان اپنی زندگیوں کو اُسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھال کر معاشرے میں مثبت، علمی اور اخلاقی انقلاب برپا کر سکیں۔

سیمینار میں مشہور و معروف عالمِ دین شیخ سجاد حسین مفتیؔ نے اپنے بصیرت افروز اور فکری خطاب میں کہا کہ استاد خود نہیں بولتا، بلکہ وہ آدھا جملہ بولتا ہے اور آدھا طالب علم سے سنتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حضور نبی کریمؐ اپنی ذاتی خواہش سے گفتگو نہیں کرتے، بلکہ تمام اُمور میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے تابع ہوتے ہیں۔

شیخ سجاد حسین مفتیؔ نے سیرتِ طیبہ کے حوالے سے قرآن مجید کی تین آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رحمت محض انسان کی بنیادی ضرورت کا نام نہیں، بلکہ رسول اللہؐ کی شخصیت عقل، فکر، دل، جذبات، گفتار اور کردار جیسے اعلیٰ ترین اور کامل صفات کا مجموعہ ہے اور ہم سب قرآن، حدیث اور اپنے بزرگوں کے نقوشِ قدم سے سیکھتے ہوئے ہی آج حضورؐ سے ہدایت حاصل کرنے یہاں جمع ہوئے ہیں۔

انہوں نے انسانی ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کی دو جہتیں ہوتی ہیں یعنی ایک ظاہری مادی جسم اور دوسری باطنی روح جو قوتِ محرکہ، نافذہ اور ارادے کی حامل ہوتی ہے۔ نبی کریمؐ مادی جسم کے اعتبار سے ظاہری طور پر ہمارے جیسے انسان ہیں، لیکن روح کے اعتبار سے ہم میں اور آپؐ میں عظیم فرق موجود ہے، کیونکہ ہماری روح میں نورانیت کی کمی ہے جبکہ حضورؐ کی روحِ مبارک نورانیت کا سرچشمہ ہے۔

شیخ سجاد حسین مفتیؔ نے مسلم اُمت کے موجودہ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحیثیتِ مسلمان نبی کریمؐ پر کامل ایمان رکھتے ہیں مگر ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مغرب کی ترقی کا راز ترکِ مذہب تھا جبکہ مسلمانوں کی پستی کی بڑی وجہ بھی ترکِ مذہب ہی بنی، مغرب نے مذہب سے دوری اختیار کر کے دنیاوی ترقی حاصل کر لی مگر مسلمان مذہب کو چھوڑ کر بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکے۔

انہوں نے علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ حضرت آدم ؑ کو بھی سجدہ ان کے علمی تفوق کی بنیاد پر ہوا تھا اور نبی کریمؐ نے مکے کی زمین سے علم و بصیرت کی روشنی پھیلائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دینِ محمدیؐ دراصل تعلیم، تحقیق، قرآن، مشاہدہ، تطبیق، تسخیر اور تخلیق کا مجموعہ ہے اور جب کوئی فرد ان تمام اعلیٰ صفات سے آراستہ ہوتا ہے تو وہی حقیقت میں عالم کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تاریخی اور فکری تسلسل کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماضی بعثتِ نبویؐ سے منسلک ہے، ہمارا مستقبل محمدی انقلاب سے مہدوی حکومت تک پر محیط ہے، جبکہ ہمارا حال غلامی اور جمود کا شکار ہے، کیونکہ ہم نبی کریمؐ سے عقیدت و محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن ان کے لائے ہوئے مکمل نظامِ زندگی کو عملی طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

قبل ازیں سیمینار کی شروعات میں مشیر امورِ طلبہ بلتستان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ریاض نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے معزز مہمان گرامی اور تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے سلسلہ ہائے دروس کے اِنعقاد کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ وار پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات اور جوانوں میں سیرتِ طیبہ کی فکری و عملی ترویج، اخلاقی تربیّت اور ان میں اسلامی و معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس بیدار کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سیمینار کے اِنتظام و انصرام کی ذمہ داری دفتر مشیر اُمورِ طلبہ اور علومِ اسلامی کے اساتذہ نے مشترکہ طور پر نبھائی، جبکہ شرکائے سیمینار میں مختلف شعبہ جات کے طلباء وطالبات شامل تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha