جمعرات 27 اگست 2026 - 10:56
حقیقی انتظار، کردار کی اصلاح، تقویٰ، خدا سے مضبوط تعلق اور عملی آمادگی کا نام ہے، ڈاکٹر معصومہ جعفری

حوزہ/امام زمانہ کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے جامعہ الزہراء سکردو بلتستان پاکستان میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں حوزہ میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ لینے والی طالبات کو خوش آمدید اور ان کا خیر مقدم کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام زمانہ کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے جامعہ الزہراء سکردو بلتستان پاکستان میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں حوزہ میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلہ لینے والی طالبات کو خوش آمدید اور ان کا خیر مقدم کیا گیا۔

اس موقع پر جامعہ الزہراء سکردو کی پرنسپل ڈاکٹر معصومہ جعفری نے نیا داخلہ لینے والی طالبات کو خوش آمدید کہا اور ان کی علمی و اخلاقی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

حقیقی انتظار، کردار کی اصلاح، تقویٰ، خدا سے مضبوط تعلق اور عملی آمادگی کا نام ہے، ڈاکٹر معصومہ جعفری

محترمہ معصومہ جعفری نے آغاز امامت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس دن کو صرف خوشی و مسرت کا موقع قرار دینے کے بجائے نئی شروعات، خود احتسابی اور اصلاحِ نفس کا پیغام قرار دیا۔

انہوں نے حضرت ولی عصرؑ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے حقیقی منتظرین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقیقی انتظار اپنے کردار کی اصلاح، تقویٰ، خدا سے مضبوط تعلق اور عملی آمادگی کا نام ہے۔

اس موقع پر انہوں نے زندگی کے تین اہم ’’خ‘‘ کی طرف توجہ دلائی:

۱۔ خدا

انسان کی زندگی کا محور خداوند متعال ہونا چاہیے۔ ہر حال میں اس پر توکل، اس کی یاد اور اس کی رضا کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ حضرت زینب کبریٰؑ کی سیرت اس کی بہترین مثال ہے، جنہوں نے کربلا کے عظیم مصائب کے باوجود فرمایا: ما رأیتُ إلّا جمیلاً.

۲۔ خود:

حقیقی منتظر کے لیے خود احتسابی اور اصلاحِ نفس بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انسان کو اپنے اعمال، اخلاق اور گفتار کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی لغزشوں پر توبہ اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

۳۔ خاندان

دین کا تعلق صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ گھر کے دینی و اخلاقی ماحول، والدین کے احترام، اہلِ خانہ سے حسنِ سلوک اور باہمی محبت سے بھی ہے۔ ایک حقیقی منتظر اپنے خاندان کو بھی دین، اخلاق اور محبت کا مرکز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

جامعہ الزہراء سکردو کی پرنسپل نے مزید کہا کہ امامِ زمانہؑ کے حقیقی منتظرین میں اوتاد، ابدال، نجباء اور صلحاء جیسی بلند اخلاقی و روحانی صفات پیدا ہونا ضروری ہیں؛ یعنی تقویٰ، عبادت، احتیاط، توبہ اور مسلسل اصلاحِ نفس ان کی زندگی کا حصہ ہوں۔

آخر میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نو ربیع الاوّل کو اپنی اصلاح، خود احتسابی اور روحانی تجدید کا نقطۂ آغاز بنایا جائے اور اپنے کردار کو اس قابل بنایا جائے کہ ہم امامِ زمانہؑ کی نصرت کے لیے عملی طور پر آمادہ ہو۔

حقیقی انتظار، کردار کی اصلاح، تقویٰ، خدا سے مضبوط تعلق اور عملی آمادگی کا نام ہے، ڈاکٹر معصومہ جعفری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha