تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی
حوزہ نیوز ایجنسی|
«إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔(سورۂ رعد: 11)»
کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسان کے ضمیر کے سامنے رکھا ہوا وہ آئینہ ہے جس میں ہر دور کا انسان اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ عاشورا صرف ایک دن نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک دائمی لکیر ہے؛ اور حسینؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ حق، عدل، آزادی، عزت، شجاعت، وفا، عبادت اور انسانی کرامت کی ایک زندہ علامت ہیں۔
کربلا کا واقعہ اپنی ظاہری مدت کے اعتبار سے مختصر تھا، مگر اس کا پیغام زمانوں پر محیط ہے۔ چند گھنٹوں کی قربانی نے صدیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور چند نفوسِ قدسیہ کی عظیم قربانی نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حق کی راہ میں تعداد نہیں، حقانیت اور کردار دیکھا جاتا ہے؛ ظاہری کامیابی نہیں، الٰہی رضایت اصل معیار ہے۔
یکم محرم الحرام سے ۸ ربیع الاول تک کے دو ماہ آٹھ دن غمِ حسینؑ، عزاداری اور یادِ شہدائے کربلا کے ایام ہیں۔ ان ایام میں مجالس ہوئیں، محافلِ عزا سجیں، ذکرِ حسینؑ بلند ہوا، مرثیے پڑھے گئے، نوحے پڑھے گئے، آنکھوں نے اشک بہائے اور دلوں نے کربلا کا غم محسوس کیا۔ گھروں، امام بارگاہوں اور مجالس میں حسینؑ کا نام گونجتا رہا۔
اب ۸ ربیع الاول کے بعد ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے دل سے سوال کرنا ہوگا:
کیا صرف ایامِ عزا گزر گئے ہیں، یا ہم بھی بدل گئے ہیں؟
کیونکہ غمِ حسینؑ کا مقصد صرف غم منانا نہیں، بلکہ غمِ حسینؑ کو شعور، شعور کو عزم اور عزم کو کردار میں تبدیل کرنا ہے۔
اگر حسینؑ کے ذکر سے ہماری زبان پاک نہیں ہوئی،
اگر عزاداری سے ہمارے اخلاق بہتر نہیں ہوئے،
اگر مجالس سے ہماری نماز مضبوط نہیں ہوئی،
اگر کربلا سننے کے بعد ہمارے معاملات میں دیانت نہیں آئی،
اگر مصائبِ اہل بیتؑ سن کر بھی ہم دوسروں کے حقوق پامال کرتے رہے،
تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
ایامِ عزا کا یہ مرحلہ ختم ہوا ہے، حسینؑ کا راستہ ختم نہیں ہوا۔
بلکہ شاید اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔
ایامِ عزا میں حسینؑ کا ذکر کرنا آسان ہے، کربلا کا تذکرہ کرنا آسان ہے، حسینؑ کے غم میں آنسو بہانا آسان ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ۸ ربیع الاول کے بعد ہماری زندگی میں حسینؑ کہاں ہیں؟
کیا ہماری نماز میں وہی خدا خوفی اور بندگی باقی ہے جس کی عملی تصویر کربلا میں نظر آئی؟
کیا ہماری زبان میں حسینؑ کی صداقت باقی ہے؟
کیا ہمارے اخلاق میں حسینؑ کا کردار باقی ہے؟
کیا ہمارے معاملات میں دیانت و امانت باقی ہے؟
کیا ہمارے گھروں میں سیرتِ اہل بیتؑ کی خوشبو باقی ہے؟
کیا ہمارے بازار میں تقویٰ اور انصاف باقی ہے؟
کیا ہماری معاشرت میں عدل، حیا، وفا اور حق گوئی باقی ہے؟
اگر ایامِ عزا کے بعد ہماری زندگی وہی ہے جو ان سے پہلے تھی، تو ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
ہم نے کربلا سے حاصل کیا کیا؟
ہم نے یکم محرم الحرام سے ۸ ربیع الاول تک دو ماہ آٹھ دن حسینؑ کا غم منایا؛ اب کوشش یہ ہونی چاہیے کہ باقی نو ماہ بائیس دن حسینؑ کا پیغام زندہ رکھا جائے۔
یہی تو اصل عزاداری کا ایک اہم ثمر ہے۔
حسینؑ صرف آنسو کا نام نہیں، کردار کا نام ہے۔
حسینؑ صرف مجلس کا عنوان نہیں، زندگی کے لیے ایک عملی درس ہیں۔
حسینؑ صرف ایامِ عزا کی یاد نہیں، ہر زمانے میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد ہیں۔
کربلا ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ صرف عاشورا کے دن حسینؑ کو یاد کیا جائے؛ کربلا تو ہمیں سکھاتی ہے کہ جب حق و باطل آمنے سامنے ہوں تو انسان کا موقف کیا ہونا چاہیے۔
جب حق بولنے میں نقصان ہو، تو زبان کس طرف ہو؟
جب ظلم کے سامنے خاموش رہنے میں فائدہ ہو، تو ضمیر کیا کہے؟
جب دنیا ایک طرف ہو اور حق دوسری طرف، تو قدم کس سمت اٹھے؟
یہی اصل امتحان ہے۔
ایامِ عزا کے دوران ہم نے بارہا کہا:
لبیک یا حسینؑ!
لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لبیک صرف زبان پر تھا یا ہماری زندگی میں بھی اتر گیا؟
اگر کسی کمزور کا حق ہمارے ہاتھ میں ہو تو کیا ہم اسے واپس کریں گے؟
اگر کسی سے اختلاف ہو تو کیا انصاف کا دامن تھامیں گے؟
اگر ہمارے مفاد کے خلاف حق بات ہو تو کیا اسے قبول کریں گے؟
اگر گناہ کا موقع تنہائی میں ملے تو کیا خدا کی یاد اور حسینؑ کی سیرت ہمیں روک پائے گی؟
اگر کسی پر ظلم ہوتا دیکھیں تو کیا مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموش ہوجائیں گے؟
اگر سچ بولنے سے اپنا نقصان ہو تو کیا پھر بھی سچ بولیں گے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں عزاداری، شعور میں تبدیل ہوتی ہے؛ اور شعور، کردار میں۔
کربلا کا ایک عظیم پیغام یہ ہے کہ انسان حالات کا غلام نہ بنے، بلکہ حق کا وفادار بنے۔
ہمیں اپنے گھروں میں دیکھنا ہوگا کہ حسینؑ کی یاد صرف علم، ذاکر اور مجلس تک محدود ہے یا ہمارے بچوں کی تربیت، ہماری خواتین کے حجاب و عفت، ہماری گفتگو کی پاکیزگی، ہمارے معاملات کی شفافیت اور ہمارے باہمی تعلقات میں بھی اس کا اثر موجود ہے۔
ہمیں اپنے بازاروں میں دیکھنا ہوگا کہ حسینؑ کا نام لینے والے تاجر کے ترازو میں کربلا کا عدل بھی ہے یا نہیں۔
ہمیں اپنی زبانوں کو دیکھنا ہوگا کہ جن زبانوں سے ذکرِ حسینؑ بلند ہوا، کیا انہی زبانوں سے غیبت، تہمت، جھوٹ، بدکلامی اور دل آزاری بھی تو نہیں ہوتی؟
ہمیں اپنی آنکھوں کو دیکھنا ہوگا کہ جن آنکھوں نے مصائبِ حسینؑ پر آنسو بہائے، کیا وہی آنکھیں حرام اور نامناسب مناظر سے خود کو محفوظ بھی رکھتی ہیں؟
ہمیں اپنے کانوں کو دیکھنا ہوگا کہ جن کانوں نے مجالس میں ذکرِ حسینؑ سنا، کیا وہ غیبت اور باطل گفتگو سننے سے بھی پرہیز کرتے ہیں؟
ہمیں اپنے ہاتھوں کو دیکھنا ہوگا کہ جن ہاتھوں نے عزاداری میں سینہ زنی کی، کیا وہ کسی مظلوم پر ظلم یا کسی کے حق میں خیانت تو نہیں کرتے؟
ہمیں اپنے قدموں کو دیکھنا ہوگا کہ جو قدم عزاداری کے لیے مجالس تک پہنچے، کیا وہ حق و نیکی کی راہوں پر بھی چلتے ہیں؟
ہمیں اپنی نمازوں کو دیکھنا ہوگا کہ جس حسینؑ نے میدانِ کربلا میں نماز کو اہمیت دی، کیا ہم ان کے نام پر آنسو بہانے کے بعد اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں؟
کربلا کا سوال یہی ہے: تم نے حسینؑ کو کتنا یاد کیا نہیں، بلکہ حسینؑ کی یاد سے تمہاری زندگی کتنی بدلی؟
اب مجلسوں کی تعداد نہیں، کردار کی تبدیلی گنی جائے گی۔
اب آنسوؤں کی مقدار نہیں، عمل کی کیفیت دیکھی جائے گی۔
اب نوحہ خوانی کی آواز نہیں، ضمیر کی آواز سنی جائے گی۔
اب یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہم نے کتنی مجالس میں شرکت کی؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ہم نے کتنی برائیوں سے حقیقی توبہ کی۔
یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہم نے کتنے علم اٹھائے؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ہم نے حق کا پرچم اپنی زندگی میں کتنا بلند رکھا۔
یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہم نے کتنی بار حسینؑ کا نام لیا؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ حسینؑ کے نام اور کربلا کے پیغام نے ہماری زندگی میں کتنی تبدیلی پیدا کی۔
ایامِ عزا ہمیں غم دے کر رخصت نہیں ہوتے؛ وہ ہمارے ہاتھ میں ایک ذمہ داری دے کر جاتے ہیں۔
وہ ذمہ داری یہ ہے کہ حسینؑ کو صرف ایامِ عزا میں نہ چھوڑا جائے۔
ہماری آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب مجلس کا ماحول ختم ہوجاتا ہے، جب ماتمی لباس اتر جاتا ہے، جب امام بارگاہ کی روشنیاں معمول پر آجاتی ہیں، جب نوحے کی آواز خاموش ہوجاتی ہے اور انسان اپنے روزمرہ کے معاملات میں واپس لوٹتا ہے۔
وہیں سے سوال شروع ہوتا ہے:
اب حسینؑ کہاں ہیں؟
دفتر میں؟
کاروبار میں؟
گھر میں؟
تجارت میں؟
رشتوں میں؟
اختلافات میں؟
تنہائی میں؟
فیصلوں میں؟
اور سب سے بڑھ کر — ہمارے ضمیر میں؟
اگر حسینؑ کی محبت واقعی ہمارے ساتھ ہے تو پھر جھوٹ کے لیے جگہ کہاں ہے؟
اگر حسینؑ کی سیرت واقعی ہمارے لیے نمونہ ہے تو ظلم کے لیے جگہ کہاں ہے؟
اگر کربلا واقعی ہمارے دل میں زندہ ہے تو خیانت کیسے باقی رہ سکتی ہے؟
اگر ہم واقعی حسینی کردار کے دعوے دار ہیں تو تکبر، حسد، بغض، غیبت اور حق تلفی ہمارے کردار کا حصہ کیسے رہ سکتی ہے؟
یہ سوال ۸ ربیع الاول کے بعد ہم سب کے سامنے کھڑا ہے۔
کربلا ہمیں رونے کے ساتھ ساتھ جاگنے کا پیغام دیتی ہے۔
کربلا ہمیں غم کے ساتھ ساتھ عزم دیتی ہے۔
کربلا ہمیں شہادت کے ساتھ ساتھ ذمہ داری دیتی ہے۔
کربلا ہمیں ماضی سنانے کے لیے نہیں، حال سنوارنے کے لیے یاد دلائی جاتی ہے۔
اس لیے ایامِ عزا کے اختتام پر ہمیں اپنے گھروں، اپنی نسلوں، اپنے اداروں، اپنے مدارس، اپنی مجالس اور اپنے معاشرے سے ایک نیا عہد لینا ہوگا:
کہ ہم حسینؑ کو صرف یاد نہیں کریں گے، حسینی اقدار کو زندہ بھی کریں گے۔
ہم نماز کی حفاظت کریں گے۔
ہم حلال و حرام کا خیال رکھیں گے۔
ہم لوگوں کے حقوق ادا کریں گے۔
ہم والدین کا احترام کریں گے۔
ہم اولاد کی صحیح تربیت کریں گے۔
ہم زبان کو گناہ سے محفوظ رکھیں گے۔
ہم ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے، اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دیں گے۔
اور جہاں ہمارے اختیار میں ہوگا، وہاں کربلا کے پیغام کو عمل کی زبان میں پیش کریں گے۔
کیونکہ حسینؑ کی عزاداری کا ایک عظیم ثمر یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس کی اصلاح اور اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھے۔
امام حسینؑ نے دنیاوی مفادات کے مقابلے میں حق و رضائے الٰہی کو ترجیح دی؛ ہمیں بھی اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنے مفادات اور اپنی غلط عادات کے مقابلے میں حق، تقویٰ اور رضائے الٰہی کو ترجیح دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انسان کے اندر خواہشات اسے بارہا آسان راستے کی طرف لے جاتی ہیں، جبکہ ایمان اور ضمیر اسے حق و ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یہی اندرونی کشمکش بھی ہمارے امتحان کا ایک حصہ ہے۔
کبھی نفس کہتا ہے: خاموش رہو، نقصان ہوگا۔
ضمیر کہتا ہے: حق کہو، چاہے نقصان ہو۔
کبھی خواہش کہتی ہے: اپنا فائدہ دیکھو۔
دین کہتا ہے: اللہ کی رضا اور بندوں کے حقوق دیکھو۔
کبھی مصلحت ہمیں حق سے دور کرنا چاہتی ہے، جبکہ سیرتِ حسینی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق کی قیمت کبھی کبھی قربانی ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ہے:
ہم اپنے اندر کس آواز کو طاقت دے رہے ہیں؟
دو ماہ آٹھ دن کے بعد یہی فیصلہ کرنا ہے۔
ایامِ عزا کے بعد یہی حساب کرنا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کربلا ختم نہیں ہوئی۔
کربلا آج بھی ہمارے گھروں میں ہے۔
کربلا آج بھی ہمارے بازاروں میں ہے۔
کربلا آج بھی ہمارے معاشرے میں ہے۔
کربلا آج بھی ہمارے فیصلوں میں ہے۔
کربلا آج بھی ہمارے کردار میں ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—
کربلا آج بھی ہمارے ضمیر کے سامنے کھڑی ہے۔
مجلس ختم ہوگئی، مگر پیغام باقی ہے۔
عزاداری کا موسم گزر گیا، مگر وفاداری کا عہد باقی ہے۔
آنسو خشک ہوگئے، مگر عہد باقی ہے۔
عاشورا گزر گیا، مگر حسینؑ کا راستہ آج بھی ہمارے سامنے ہے۔
لہٰذا ۸ ربیع الاول کے بعد ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ:
"ایامِ عزا ختم ہوگئے۔"
بلکہ ہمیں کہنا چاہیے:
"ایامِ عزا نے ہمیں ایک نئے عہد اور ایک نئی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کا درس دیا ہے۔"
اب باقی نو ماہ بائیس دن ہماری زندگی کا وہ میدان ہیں جہاں ہمیں ثابت کرنا ہے کہ کربلا ہمارے لیے صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ نظریہ، ایک اخلاقی معیار، ایک تربیتی درس اور ایک دائمی عہد ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم اپنے دل سے پوچھیں:
کیا ہماری زندگی حسینؑ کے پیغام کی گواہی دے رہی ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو اللہ کا شکر ادا کیجیے اور مزید استقامت کی دعا کیجیے۔
اور اگر جواب نہیں ہے تو ابھی وقت ہے—
اپنے آپ کو بدلنے کا، اپنے کردار کو سنوارنے کا، اپنے معاملات کو درست کرنے کا، اپنی نماز کو زندہ کرنے کا، اپنے گھر کو حسینی بنانے کا اور اپنے معاشرے میں کربلا کے پیغام کو عملی شکل دینے کا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے:
ایامِ عزا ختم، امتحان شروع۔
کربلا گزر گئی، مگر حسینؑ کا راستہ ابھی باقی ہے۔
اور جب تک حق و باطل کا معرکہ قائم ہے،
جب تک ظلم کے مقابلے میں انسان کو اپنا موقف اختیار کرنا ہے،
جب تک نفس اور ایمان کے درمیان کشمکش جاری ہے—
تب تک حسینؑ کا راستہ بھی باقی ہے، اور ہمارا امتحان بھی۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ









آپ کا تبصرہ