تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ میں بعض ایام ایسے ہوتے ہیں جو محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ اپنے اندر ایک عظیم عقیدے، روحانی حقیقت، تاریخی واقعے اور مستقبل کی امید کا پیغام رکھتے ہیں۔ 9 ربیع الاول بھی شیعۂ اثنا عشری کے لیے ایک ایسی ہی اہم مناسبت ہے؛ جسے مختلف علاقوں اور معاشروں میں عیدِ زہرا(س)، فرحتِ زہرا(س)، عیدِ شجاع اور جشنِ آغازِ امامتِ حضرت ولی عصر امام محمد مہدی(عج) کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس دن کی حقیقت کو صرف خوشی، جشن یا ظاہری رسوم تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس مناسبت کے پس منظر میں عقیدۂ امامت، شہادتِ امام حسن عسکری(ع)، آغازِ امامتِ امام مہدی(عج)، حضرت فاطمہ زہرا(س) سے محبت، ولایتِ اہل بیت(ع)، معرفتِ امام اور عصرِ غیبت میں منتظرین کی ذمہ داریاں جیسے بنیادی موضوعات موجود ہیں۔
شیعہ تاریخی روایت کے مطابق امام حسن عسکری(ع) کی شہادت 8 ربیع الاول 260ھ کو سامرہ میں ہوئی۔ آپ گیارہویں امام تھے اور آپ کی زندگی عباسی حکومت کی سخت نگرانی میں گزری۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند حضرت محمد بن حسن المہدی(عج) منصبِ امامت پر فائز ہوئے اور شیعہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق بارہویں امام اور حجتِ خدا قرار پائے۔
اسی مناسبت سے 9 ربیع الاول کو امام زمانہ(عج) کی امامت کے آغاز کی یاد اور تجدیدِ عہد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بعض شیعہ روایتی تقاویم میں اس دن کو جشنِ آغازِ امامت اور فرحت کے عنوان سے نمایاں کیا گیا ہے۔
عیدِ زہرا(س) کا حقیقی مفہوم
’’عیدِ زہرا‘‘ یا ’’فرحتِ زہرا‘‘ ایک ایسی تعبیر ہے جو شیعہ روایتی ماحول میں 9 ربیع الاول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس نام کے پیچھے حضرت فاطمہ زہرا(س) سے محبت اور ان کے خاندانِ پاک سے وابستگی کا احساس موجود ہے۔
تاہم اس دن کی خوشی کو کسی دوسرے مسلمان کی توہین، گالی، تحقیر یا نفرت سے جوڑنا اس مناسبت کے بلند روحانی پیغام کے مطابق نہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا(س) کی سیرت ہمیں عبادت، حیا، علم، صبر، تقویٰ، حق کی حمایت اور اخلاق کی تعلیم دیتی ہے۔
لہٰذا حقیقی عیدِ زہرا(س) وہ ہے جس میں انسان اپنے دل کو ولایت سے مضبوط کرے، اپنی زندگی کو تقویٰ سے آراستہ کرے اور اہل بیت(ع) کی تعلیمات کو اپنے کردار کا حصہ بنائے۔
حضرت زہرا(س) رسول اکرم(ص) کی دختر، امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی زوجہ اور ائمۂ اہل بیت(ع) کی مادرِ گرامی ہیں۔ امام مہدی(عج) بھی اسی نورانی سلسلۂ اہل بیت(ع) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے عیدِ زہرا(س) اور جشنِ آغازِ امامتِ امام زمانہ(عج) کے درمیان ایک گہرا معنوی ربط موجود ہے۔
9 ربیع الاول اور آغازِ امامت
امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد شیعہ معاشرے کو ایک انتہائی حساس دور کا سامنا ہوا۔ عباسی حکومت اہل بیت(ع) کی امامت کے سلسلے سے بخوبی واقف تھی اور اسی لیے امام حسن عسکری(ع) پر سخت نگرانی رکھی جاتی تھی۔
امام حسن عسکری(ع) کے بعد شیعہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق آپ کے فرزند حضرت محمد بن حسن المہدی(عج) نے منصبِ امامت سنبھالا۔ یوں سلسلۂ امامت بارہویں امام تک پہنچا۔
یہاں ایک اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کی امامت کا آغاز حقیقتاً امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد ہوا، جبکہ 9 ربیع الاول کو اس آغاز کے جشن اور تجدیدِ عہد کی مناسبت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اسی لیے 8 ربیع الاول کا دن امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے غم سے وابستہ ہے، جبکہ 9 ربیع الاول غم کے بعد امید، ولایت کے تسلسل اور امامِ وقت کی امامت سے وابستگی کی علامت بن جاتا ہے۔
’’تاج پوشی‘‘ سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر 9 ربیع الاول کے لیے ’’جشنِ تاج پوشیِ امام زمانہ(عج)‘‘ کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ تاج پوشی ایک عرفی اور عوامی تعبیر ہے۔
امامت کسی بادشاہ یا حکمران کی طرح ظاہری تاج پہننے کا نام نہیں۔ شیعہ عقیدے کے مطابق امامت ایک الٰہی منصب ہے، جس کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔
لہٰذا امام زمانہ(عج) کی تاج پوشی سے مراد یہ نہیں کہ کسی انسانی حکومت نے انہیں تاج پہنایا، بلکہ اس سے مراد منصبِ امامت کی ذمہ داری کا آغاز اور حجتِ خدا کی حیثیت سے ان کی امامت کا ظہور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس جشن کا اصل مرکز ظاہری خوشی نہیں بلکہ ولایت اور امامت سے تجدیدِ عہد ہونا چاہیے۔
امام زمانہ(عج) کی معرفت کیوں ضروری ہے؟
شیعہ عقیدے میں امام کی معرفت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ رسول اکرم(ص) سے منقول معروف حدیث ہے:
«مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»
ترجمہ: ’’جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرے، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔‘‘
اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین صرف ظاہری عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کو اللہ کی حجت اور اپنے زمانے کے امام کی معرفت بھی حاصل کرنی چاہیے۔
لہٰذا 9 ربیع الاول ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے:
کیا ہم اپنے امام کو پہچانتے ہیں؟
کیا ہمیں ان کی سیرت اور تعلیمات کا علم ہے؟
کیا ہماری زندگی امام زمانہ(عج) کی رضا کے مطابق ہے؟
کیا ہم حقیقی معنوں میں ان کے منتظر ہیں؟
یہ سوالات ہی اس جشن کو محض ایک رسمی تقریب سے ایک روحانی اور تربیتی تحریک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) اور امام زمانہ(عج)
حضرت فاطمہ زہرا(س) اہل بیت(ع) کی اس نورانی شجرۂ امامت کا سرچشمہ ہیں جس سے ائمۂ اہل بیت(ع) کا سلسلہ جاری ہوا۔ امام زمانہ(عج) بھی اسی پاکیزہ خانوادے کے فرزند اور بارہویں امام ہیں۔
اس لیے حضرت زہرا(س) سے حقیقی محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان ان کے فرزند اور حجتِ خدا امام مہدی(عج) سے اپنی وابستگی کو مضبوط کرے۔
اگر ہم عیدِ زہرا(س) مناتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہماری زندگی میں ولایتِ اہل بیت(ع) کس حد تک موجود ہے۔
حضرت زہرا(س) کی خوشی صرف نعروں اور ظاہری تقریبات میں نہیں بلکہ اس وقت ہوگی جب ان کے چاہنے والے حق، تقویٰ، حیا، عبادت، علم، خدمت اور ولایت کے راستے پر چلیں گے۔
جشنِ عیدِ زہرا(س) کیسے منایا جائے؟
اسلام خوشی کے اظہار کو منع نہیں کرتا، لیکن اسلامی خوشی بھی اخلاق اور تقویٰ کے دائرے میں ہونی چاہیے۔
9 ربیع الاول کی مناسبت سے مختلف نیک اعمال انجام دیے جا سکتے ہیں، مثلاً:
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔
نماز کی پابندی کرنا۔
قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔
محمد و آل محمد(ع) پر صلوات بھیجنا۔
امام زمانہ(عج) کے لیے دعائے فرج پڑھنا۔
صدقہ دینا۔
ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔
مؤمنین کو خوش کرنا۔
اہل خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔
بچوں اور نوجوانوں کو امام زمانہ(عج) کی معرفت دینا۔
اہل بیت(ع) کی سیرت اور فضائل بیان کرنا۔
امام زمانہ(عج) سے تجدیدِ عہد کرنا۔
اس طرح جشن ایک ایسی تربیتی سرگرمی بن سکتا ہے جس سے دلوں میں محبتِ اہل بیت(ع) اور معرفتِ امام مزید مضبوط ہو۔
جشن اور اخلاقِ اہل بیت(ع)
اہل بیت(ع) کی محبت کا دعویٰ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ محبت ہمارے اخلاق اور کردار میں ظاہر ہو۔
کسی جشن کے نام پر کسی مسلمان کی توہین کرنا، گالی دینا، نفرت پھیلانا، دل آزاری کرنا یا ایسا عمل انجام دینا جو معاشرے میں فساد اور تفرقہ پیدا کرے، اہل بیت(ع) کی تعلیمات کے بلند اخلاقی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
لہٰذا عیدِ زہرا(س) کا جشن:
محبت کا جشن ہو۔
ولایت کا جشن ہو۔
معرفت کا جشن ہو۔
عبادت کا جشن ہو۔
اخلاق کا جشن ہو۔
اور امام زمانہ(عج) سے وفاداری کا جشن ہو۔
ہم اپنے عقائد اور محبتِ اہل بیت(ع) کا اظہار ضرور کریں، لیکن حکمت، وقار اور اخلاق کے ساتھ۔
عصرِ غیبت میں ہماری ذمہ داریاں
امام زمانہ(عج) کی امامت کا جشن منانا آسان ہے، لیکن امام زمانہ(عج) کا حقیقی منتظر بننا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
انتظار صرف زبان سے ’’اللّٰهم عجّل لوليك الفرج‘‘ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ انتظار انسان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
حقیقی منتظر:
جھوٹ سے بچتا ہے۔
امانت میں خیانت نہیں کرتا۔
والدین کا احترام کرتا ہے۔
نماز کی پابندی کرتا ہے۔
حرام سے اجتناب کرتا ہے۔
ظلم سے دور رہتا ہے۔
علم حاصل کرتا ہے۔
دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے۔
کمزوروں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے۔
اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے۔
معاشرے میں عدل، محبت اور خیر کو فروغ دیتا ہے۔
اہل بیت(ع) کی سیرت کو اپنی زندگی کا نمونہ بناتا ہے۔
اگر جشن کے بعد بھی ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی تو ہمیں اپنے جشن کے مقصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
انتظارِ فرج اور امید کا پیغام
9 ربیع الاول کا ایک اہم پیغام امید ہے۔
8 ربیع الاول کو امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کا غم ہے، لیکن اس غم کے بعد امامت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ شیعہ فکر کے اندر امید، تسلسل اور الٰہی ہدایت کی علامت ہے۔
امام زمانہ(عج) غیبت میں ہیں، لیکن شیعہ عقیدے کے مطابق ان کی امامت ایک زندہ حقیقت ہے۔
لہٰذا انتظار مایوسی کا نام نہیں بلکہ امید، اصلاح اور جدوجہد کا نام ہے۔
ہمیں ظہورِ امام زمانہ(عج) کی دعا کے ساتھ اپنے معاشرے میں علم، عدل، اخلاق، خدمت، اتحاد اور دینی شعور کو فروغ دینا چاہیے۔
نئی نسل اور امام زمانہ(عج)
آج کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کو امام زمانہ(عج) کی معرفت دینا انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔
صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ہمارے بارہویں امام کون ہیں، بلکہ نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ امام سے محبت کا مطلب کیا ہے، انتظار کیا ہے، غیبت کے زمانے میں ایک مؤمن کی ذمہ داری کیا ہے اور کس طرح انسان اپنے کردار کو امام کے ظہور کے لیے تیار کر سکتا ہے۔
مدارس، حوزات، مساجد، دینی مراکز اور گھروں میں امام زمانہ(عج) کی سیرت، اخلاق، معرفت اور انتظار کے موضوعات پر تربیتی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔
عیدِ زہرا(س) کا حقیقی پیغام
عیدِ زہرا(س) اور جشنِ آغازِ امامتِ امام زمانہ(عج) ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اہل بیت(ع) سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں، اپنے کردار کو دیکھیں، اپنے اعمال کو درست کریں اور امام زمانہ(عج) سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے فرزند امام زمانہ(عج) سے وفاداری کریں۔
امام زمانہ(عج) سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
اور حقیقی انتظار کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جو ایک صالح معاشرے اور الٰہی حکومت کے لیے ضروری ہیں۔
اختتامی پیغام
9 ربیع الاول صرف جشن منانے کی ایک تاریخ نہیں بلکہ عقیدہ، ولایت، معرفت، امید اور ذمہ داری کا دن ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد سلسلۂ امامت ختم نہیں ہوا بلکہ حضرت محمد بن حسن المہدی(عج) کی امامت کے ذریعے جاری رہا۔
یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے زمانے کے امام کو پہچانیں، ان سے محبت کریں، ان کی اطاعت کی کوشش کریں اور ظہور کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔
حقیقی عیدِ زہرا(س) اس وقت ہوگی جب ہمارے دل ولایت سے روشن ہوں، ہماری زندگی تقویٰ سے آراستہ ہو، ہماری زبان صداقت سے مزین ہو، ہمارے ہاتھ خدمت کے لیے اٹھیں، ہمارے معاشرے میں عدل و اخلاق فروغ پائیں اور ہماری نسلیں معرفتِ امام زمانہ(عج) کے ساتھ پروان چڑھیں۔
آئیے اس بابرکت موقع پر اپنے امام سے تجدیدِ عہد کریں اور دل کی گہرائیوں سے دعا کریں:
اللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَالذَّابِّينَ عَنْهُ۔
اے اللہ! اپنے ولی حضرت امام مہدی(عج) کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کے مددگار، معاون اور ان کے دفاع کرنے والوں میں قرار دے۔









آپ کا تبصرہ