تحریر: محمد جواد حبیب
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے صفحات پر کچھ شخصیات ایسے ابھرتی ہیں جو اپنے منصب، عہد اور سیاسی ذمہ داریوں سے کہیں بلند ہوکر ایک فکر، ایک مکتب اور ایک نظریے کی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی محض سیاسی فیصلوں کی داستان نہیں ہوتی، بلکہ ان کا علم، کردار، بصیرت اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی فکری میراث چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید معنویت اختیار کرتی ہے۔ رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی شخصیت کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی حیاتِ علمی و سیاسی کا مطالعہ کیا جائے تو فقاہت و علمی جامعیت، سیاسی و انتظامی بصیرت، مختلف شعبوں پر غیر معمولی علمی و اطلاعاتی اشراف، خوداعتمادی و استقامت اور اسلامی فکر کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی جدوجہد جیسے کئی نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں۔ تاہم ان کی شخصیت کے تین پہلو ایسے ہیں جو ان کی قیادت کے فکری خدوخال کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں: فقاہت و علمی جامعیت، حکمرانی و حالات پر گہری بصیرت، اور اسلامی فکر و گفتمان کی عالمی ترویج۔ یہی تینوں پہلو مل کر ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں علم نے فکر کو بنیاد دی، بصیرت نے قیادت کو سمت عطا کی اور عالمی فکر نے اس پیغام کو سرحدوں سے آگے پہنچانے کا راستہ ہموار کیا۔
فقاہت: علم سے قیادت تک
کسی دینی رہبر کی اصل قوت صرف سیاسی تجربے یا انتظامی صلاحیت میں نہیں ہوتی، بلکہ اس علمی و فکری بنیاد میں ہوتی ہے جس پر اس کی پوری شخصیت، فکر اور فیصلے استوار ہوتے ہیں۔ رہبرِ شہید کی شخصیت کا ایک نمایاں امتیاز ان کی فقاہت اور علمی جامعیت تھی۔ انہوں نے دینی علوم کے ساتھ تاریخ، سیاست، ثقافت، معیشت، بین الاقوامی تعلقات، دفاع اور سماجی مسائل کا بھی گہرا مطالعہ کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر میں دین اور سیاست دو الگ الگ دائرے نہیں تھے، بلکہ دین اجتماعی زندگی کی رہنمائی کا ایک جامع نظام تھا۔ ان کے لیے فقہ محض عبادات و معاملات کے احکام جاننے کا نام نہیں، بلکہ عدل، حکمرانی، معاشرتی ذمہ داری اور انسانی کرامت کے تحفظ کی عملی رہنمائی بھی تھی۔ قرآنِ کریم علم کی اسی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سوال کرتا ہے: ﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾، “کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟” (سورۂ زمر: 9)۔ رسولِ اکرمؐ سے منقول معروف حدیث ہے: «العُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ»، “علماء انبیاء کے وارث ہیں۔” تاہم محض علم کسی قیادت کو کامل نہیں بناتا؛ علم جب تقویٰ، بصیرت اور عمل کے ساتھ جڑتا ہے تو وہ معاشرے کی رہنمائی کی قوت بنتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم کا حکم ہے: ﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾، “عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (سورۂ مائدہ: 8)۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک دینی رہبر کے لیے علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے؛ ایسی ذمہ داری جو اسے معاشرے کی اصلاح، قیامِ عدل، ظلم کے مقابلے میں حق کی حمایت اور انسان کی عزت و کرامت کے تحفظ کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فقاہت، بصیرت اور تقویٰ مل کر علم کو قیادت میں تبدیل کرتے ہیں۔
بصیرت: قیادت کا اصل سرمایہ
قیادت صرف بڑے فیصلے لینے کا نام نہیں، بلکہ بڑے فیصلوں کے پیچھے موجود حالات، امکانات اور خطرات کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔ رہبرِ شہید کی شخصیت کا دوسرا نمایاں وصف یہی سیاسی و انتظامی بصیرت اور مختلف شعبوں پر غیر معمولی علمی و اطلاعاتی اشراف تھا۔ حمیدرضا ترقی کے مطابق ملک کے بعض ذمہ داران اور ماہرین کا مشاہدہ تھا کہ انہیں مختلف تخصصی موضوعات پر ایسی گہری اور وسیع معلومات حاصل تھیں جو بعض اوقات متعلقہ شعبے کے ذمہ داران سے بھی زیادہ ہوتی تھیں۔ یہی وسعتِ نظر انہیں محض حالات پر ردِعمل دینے والے قائد کے بجائے حالات کا گہرا تجزیہ کرکے مستقبل کی سمت متعین کرنے والا رہبر بناتی تھی۔ ایک بڑے نظام کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ قائد زمینی حقائق، داخلی صلاحیتوں، عالمی حالات، بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے، دشمن کی حکمتِ عملی اور مستقبل کے امکانات کو ایک ساتھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ رہبرِ شہید کی سیاسی فکر میں خوداعتمادی، استقلال، قومی عزت اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد اسی لیے بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ ان کے فکری تصورات میں «ما میتوانیم» یعنی “ہم کر سکتے ہیں” کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی فکری بنیاد ہے جو قوموں کو احساسِ کمتری اور دوسروں پر انحصار کی ذہنیت سے نکال کر اپنی علمی، انسانی اور فکری صلاحیتوں پر اعتماد کرنا سکھاتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک حقیقی معنوں میں مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اسے اپنی صلاحیتوں پر یقین نہ ہو۔ قرآنِ کریم بھی اہلِ ایمان کو کمزوری، خوف اور مایوسی سے بچاتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾، “کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔” (سورۂ آلِ عمران: 139)۔ یہ آیت درحقیقت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان، عزم اور خوداعتمادی سے محروم قوم اپنی مادی قوت کے باوجود کمزور ہوسکتی ہے، جبکہ باہمت اور باصلاحیت قوم محدود وسائل کے باوجود بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ اسی لیے بصیرت کا مطلب صرف حالات کو دیکھنا نہیں، بلکہ حالات کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھنا اور اس کی روشنی میں مستقبل کی درست سمت متعین کرنا ہے؛ اور خوداعتمادی وہ قوت ہے جو اس بصیرت کو عملی جدوجہد میں تبدیل کرتی ہے۔
سرحدوں سے آگے: اسلام کی عالمی دعوت
رہبرِ شہید کی شخصیت کا تیسرا اہم پہلو اسلامی فکر کو عالمی سطح پر متعارف کرانا تھا۔ ان کی فکری دعوت صرف ایران یا مسلم معاشروں تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے نوجوانوں، دانشوروں اور مختلف فکری حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔یورپ اور شمالی امریکہ کے نوجوانوں کے نام ان کا معروف پیغام اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے نوجوانوں کو اسلام کے بارے میں دوسروں کی بنائی ہوئی تصویر پر اکتفا کرنے کے بجائے قرآن اور اسلام کے اصل منابع سے براہِ راست آشنا ہونے کی دعوت دی۔یہ اندازِ خطاب اس لیے اہم تھا کہ اس میں مخاطب سے محض کسی سیاسی موقف کو قبول کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ اسے تحقیق، مطالعہ اور براہِ راست معرفت کی طرف متوجہ کیا گیا۔
قرآنِ کریم انسانوں کے درمیان باہمی معرفت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّنْ ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا﴾ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔
آج کی دنیا میں، جہاں مختلف تہذیبوں، مذاہب اور نظریات کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے، براہِ راست مطالعے اور باہمی شناخت کی دعوت ایک اہم فکری ضرورت بن چکی ہے۔اسی تناظر میں اسلامی فکر کی عالمی ترویج کا مطلب صرف کسی خاص ملک یا سیاسی نظام کا تعارف نہیں، بلکہ اسلام کے بنیادی تصورات—عدل، انسانی کرامت، آزادی، معنویت، خودباوری اور اخلاق—کو دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔
اسلام؛ عدل و کرامتِ انسانی کا مکتب
رہبرِ شہید کی شخصیت کو صرف ایک سیاسی قائد کے طور پر دیکھنا ان کی فکری جہت کو محدود کردینا ہوگا۔ ان کی شخصیت اور فکری میراث میں اسلامِ ناب محمدیؐ، عدل، عزت، آزادی، خودباوری، استقامت اور خدمتِ خلق جیسے بنیادی اصول نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی فکر محض عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی اجتماعی زندگی، معاشرتی انصاف، انسانی حقوق اور اجتماعی ذمہ داریوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾، “بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔” (سورۂ نحل: 90)۔ یہ مختصر مگر جامع آیت اسلامی معاشرت اور حکمرانی کے ایک بنیادی اصول کو بیان کرتی ہے کہ اقتدار اپنی ذات میں کوئی مقصد نہیں، بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے؛ ایسی ذمہ داری جس کا مقصد عدل کا قیام، امن کا تحفظ، معاشرے کی ترقی اور انسان کی عزت و کرامت کی حفاظت ہونا چاہیے۔ اسی لیے کسی رہبر کی عظمت کو صرف اس کے سیاسی فیصلوں یا حکومتی اقدامات سے نہیں پرکھا جاسکتا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس نے اپنی قوم میں علم، بصیرت، خوداعتمادی، ذمہ داری اور حق شناسی کی کس قدر روح پیدا کی۔
ایک شخصیت نہیں، ایک فکری میراث
اگر رہبرِ شہید کی شخصیت کے ان تین بنیادی پہلوؤں—فقاہت، بصیرت اور عالمی فکر—کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک جامع تصویر ہمارے سامنے آتی ہے: فقاہت نے ان کی فکر کو دینی بنیاد فراہم کی، بصیرت نے قیادت کو سمت عطا کی اور عالمی فکر نے اسلامی پیغام کو جغرافیائی سرحدوں سے آگے پہنچانے کی راہ ہموار کی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک شخصیت محض اپنے عہد کی شخصیت نہیں رہتی بلکہ ایک فکری میراث میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شخصیات وقت کے ساتھ رخصت ہوجاتی ہیں، لیکن وہ افکار جو لوگوں کے ذہنوں، کرداروں اور اجتماعی زندگی کا حصہ بن جائیں، وہ زندہ رہتے ہیں۔ کسی رہبر کی حقیقی میراث بھی صرف اس کے سیاسی عہد، منصب یا فیصلوں میں نہیں ہوتی بلکہ اس فکر میں ہوتی ہے جو وہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔ رہبرِ شہید کی فکری میراث کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے؛ ایک ایسی فکر جس میں علم کے ساتھ بصیرت، اقتدار کے ساتھ ذمہ داری، خوداعتمادی کے ساتھ توکل، استقامت کے ساتھ امید اور اسلامی دعوت کے ساتھ انسانی کرامت کو بنیادی مقام حاصل ہے۔
آج کے لیے سب سے بڑا سوال
آج کی دنیا فکری انتشار، تہذیبی کشمکش اور شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ اطلاعات کی فراوانی نے علم کو عام تو کیا ہے، لیکن صحیح اور غلط میں تمیز کا مسئلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی قوم کے لیے صرف اپنے ماضی پر فخر کرنا کافی نہیں؛ اسے اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک مضبوط فکری بنیاد، واضح سمت اور زندہ عزم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم، بصیرت، خوداعتمادی اور اخلاقی ذمہ داری کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ رہبرِ شہید کی شخصیت کے ان پہلوؤں کا مطالعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ قوموں کی حقیقی طاقت صرف وسائل، ٹیکنالوجی یا سیاسی قوت میں نہیں ہوتی؛ اصل طاقت اس زندہ فکر میں ہوتی ہے جو انسان کو اپنی شناخت سے جوڑے، اسے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد دے اور مستقبل کی تعمیر کا حوصلہ عطا کرے۔ شاید یہی کسی عظیم رہبر کی سب سے بڑی میراث ہوتی ہے کہ وہ اپنے زمانے سے آگے بڑھ کر ایسی فکر چھوڑ جائے جو آنے والی نسلوں کو صرف ماضی کی یاد نہ دلائے بلکہ حال کو سمجھنے، مستقبل کو سنوارنے اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ بھی دے۔









آپ کا تبصرہ