بدھ 19 اگست 2026 - 02:17
بغداد میں کتاب "نئے عالمی نظام کا طلوع" کی رسم اجرا و تقریب کا انعقاد

حوزہ/ عادل عبدالمہدی: ایرانی عوام اور قیادت کی مزاحمت نے جنگ کا نقشہ بدل دیا، نور عادل: امام شہید کی تشییع جنازہ نے دکھا دیا کہ عاشورا کی ثقافت خطے کی اقوام میں کس قدر زندہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے دارالحکومت بغداد میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نظام فکری میں نیا عالمی نظام کے موضوع پر منعقدہ نشست میں ایک تقریب کے دوران "نئے عالمی نظام کا طلوع" کتاب کی رسم اجرا عمل میں آئی۔

اس تقریب میں عراق کے سابق وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے کہا کہ آج "نئی دنیا" کی تشکیل کی متعدد نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں اور پرانی دنیا، جو تسلط، سامراج اور اقوام پر غلبے پر مبنی تھی، مختلف معاشی، قانونی، اقداری، اعتقادی اور اخلاقی میدانوں میں زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ انھوں نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے سے متعلق حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف کے نام امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے پیغام کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ پیغام عالمی تغیرات کے بارے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے بانی کے مستقبل بیں نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آخرکار سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا اور یہ تبدیلی عالمی تاریخ میں ایک بڑے اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔

عراق کے سابق وزیر اعظم نے مغربی ممالک کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق جیسے نعرے مغربی ممالک کی جانب سے ایسے عالم میں بلند کیے جاتے ہیں جب یہی ممالک یا تو غزہ میں قتل عام اور نسل کشی اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں یا خود اس میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسلامی جمہوریۂ ایران پر مسلط کی گئی حالیہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، اسرائیلی حکومت اور بعض یورپی طاقتوں کی شرکت کے باوجود ایرانی عوام اور قیادت کی مزاحمت اور استقامت نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔

عادل عبدالمہدی نے اس کے بعد "نئے عالمی نظام کا طلوع" نامی کتاب کی رسم اجرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے حجم میں مختصر لیکن مواد کے اعتبار سے پُرمعنی قرار دیا اور کہا کہ یہ کتاب اسلامی جمہوریۂ ایران کی تاریخ، ولایت فقیہ، اعلی قیادت اور مجلس خبرگان کی شرائط، اور ایران کے سیاسی و سماجی مسائل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب کے بعض حصے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی زندگی، ان کے مجاہدتی پس منظر، علمی سرگرمیوں اور سماجی پوزیشن سے متعلق ہیں اور اس میں ان کے اساتذہ، شاگردوں، ساتھیوں اور معاشرے کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

عراق کے سابق وزیر اعظم نے ایران کے سیاسی حالات میں عوام کے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں اس نقطۂ نظر پر زور دیا گیا ہے کہ عوام محض رہبر کے پیروکار اور تابع نہیں ہیں بلکہ خود بھی حالات اور تغیرات کو جہت عطا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں اور رہنما بھی عوام سے سیکھتے ہیں۔ عبدالمہدی نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ یہ کتاب سیاسی اور سماجی حالات اور تبدیلیوں کے جائزے کے علاوہ آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے خاندان اور ذاتی زندگی کے بارے میں ایک گفتگو بھی پیش کرتی ہے اور ان کے سادہ و متواضع طرز زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے دینی اور سیاسی نقطۂ نظر کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عراق میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفیر محمد کاظم آل صادق نے اس کتاب کی اشاعت پر انقلاب اسلامی انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کتاب ایک اہم تاریخی اور فکری تجربے کے مختلف پہلوؤں کو جاننے اور ان کا جائزہ لینے کے لیے ایک بنیاد فراہم کر سکتی ہے، ایسا تجربہ جو محض کسی ایک دور یا شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ علماء، انقلابات، اقوام کے کردار اور مستقبل کے حالات جیسے موضوعات کو بھی اپنے دائرے میں شامل کرتا ہے۔ آل صادق نے ان نشستوں کے انعقاد کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسی نشستوں کا انعقاد ان آثار اور شخصیات پر گفتگو کا ایک قیمتی موقع ہے جنھیں زیادہ درست طور پر جاننا عالم اسلام کے سیاسی، سماجی اور فکری حالات کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر رہبر انقلاب کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت و اشاعت کے ادارے کے بین الاقوامی امور کے سربراہ ڈاکٹر محمد اخگری نے بھی اپنی گفتگو میں کہا کہ عصر حاضر کی دنیا کو سمجھنا، عالمی طاقت کے ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی گہری تبدیلیوں کو سمجھے بغیر ناممکن ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ رہبر شہید و امام مجاہد نے دنیا میں طاقت کی نئی ساخت کے چند بنیادی عناصر بیان کیے تھے، جن میں فکری و اخلاقی میدان میں مغربی لبرل جمہوریت کے نظریے کا زوال، جس کی آج کی مثال ایپسٹین فائل ہے، امریکا اور یک قطبی دنیا کا زوال، طاقت کی ایشیا کی طرف منتقلی اور دنیا میں مزاحمت کی فکر کا ظہور شامل ہیں۔

انھوں نے "نئے عالمی نظام کا طلوع" نامی کتاب کے بارے میں کہا کہ جس کتاب کی ہم رونمائی کر رہے ہیں، اس میں اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا تعارف پیش کرنے کے علاوہ، ان کے پیغامات کے ذریعے اس نئے عالمی نظام کے بنیادی عناصر کی وضاحت بھی کی گئی ہے، جو 40 روزہ جنگ کے بعد نمایاں ہوئے۔ اسلامی انقلاب کے رہبر کے تحریری و تقریری آثار کی حفاظت و اشاعت کے ادارے کے بین الاقوامی امور کے سربراہ ڈاکٹر اخگری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تاریخ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، کہا کہ ہم ایک ایسی دنیا کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو تیزی سے کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مکمل غلبے کی مغرب کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ دنیا کا مستقبل اب واشنگٹن کے تھنک ٹینکس کے کمروں میں نہیں لکھا جاتا۔

اس نشست کے ایک اور حصے میں عراق کی رکن پارلیمنٹ نور عادل نے خطے کی اقوام کے درمیان عاشورا کی ثقافت اور مزاحمت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہادت اور استقامت نہ صرف راستہ ختم ہونے پر منتج نہیں ہوتی بلکہ اقوام کے درمیان ایک وسیع تر عزم و ارادے کی تشکیل کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ انھوں نے رہبر شہید اسلامی انقلاب کی تشییع جنازہ میں عوام کی وسیع شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جلوس جنازہ میں جو کچھ دیکھا گیا، وہ محض کیمروں کے سامنے عوام کی موجودگی یا پرچموں اور نعروں کی نمائش نہیں تھی، بلکہ دسیوں لاکھ نوجوان، مرد، خواتین اور بزرگ اپنے اندرونی جذبے اور وفاداری کے تحت اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ نور عادل نے مزید کہا کہ اس وسیع شرکت میں عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کے راستے سے وفاداری کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں، گویا لوگوں نے اس تاریخی کارنامے میں اپنے زمانے کے حسین کو پہچان لیا اور اپنی شرکت کے ذریعے ایک بار پھر دکھا دیا کہ عاشورا کی ثقافت آج بھی خطے کی اقوام میں زندہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha