حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ کے زیرِ اہتمام شہیدِ امت، مجاہدِ راہِ خدا، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تدفین کو چالیس یوم مکمل ہونے پر مجلسِ چہلم، قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات، اساتذہ اور کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔
مجلس سے قبل مدرسہ بنت الہدیٰ کی طالبات نے اجتماعی طور پر تلاوتِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تصویرِ مبارک کو عقیدت و احترام کے ساتھ سامنے رکھا گیا اور طالبات نے نہایت ادب و خشوع کے ساتھ کلامِ الٰہی کی تلاوت کرکے اس کا ثواب آپ کی روحِ پرفتوح کو ایصال کیا۔ مجلسِ عزا کے انعقاد کے پیشِ نظر حیدریہ ہال کو بھی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تصاویر اور مختلف بینروں سے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ مزین کیا گیا تھا، جس سے ہال کا ماحول سوگ، عقیدت اور خراجِ تحسین کی کیفیت سے معمور ہوگیا۔
مجلس کے باقاعدہ آغاز پر سیدہ مصباح بتول نے تلاوتِ کلامِ الٰہی پیش کی، جس کے بعد محترمہ سیدہ تحریر فاطمہ صاحبہ نے پرسوز اور اثر انگیز آواز میں مرثیہ خوانی کی۔ سیدہ فائزہ بتول نے پیش خوانی کے دوران اپنے منظوم کلام کے ذریعے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی دینی، ملی اور اسلامی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مجلس کی نظامت کی ذمہ داری سیدہ ضحیٰ بی بی نے نہایت عمدہ لب و لہجے اور مؤثر انداز میں انجام دی، جس سے مجلس کا نظم و تسلسل برقرار رہا۔
بعد ازاں مجلسِ عزا سے خطیبۂ اہلِ بیتؑ محترمہ سیدہ عابدہ بتول صاحبہ نے خطاب کرتے ہوئے شہادت، ایثار، استقامت اور راہِ حق میں قربانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ راہِ خدا میں اپنی جان، مال اور صلاحیتوں کو قربان کرنے والے عظیم مجاہدین اپنی حیاتِ ظاہری کے اختتام کے بعد بھی اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے معاشروں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی حق و حقیقت، ظلم و استکبار کے مقابلے میں استقامت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ شہداء اور مجاہدینِ راہِ حق کی یاد منانا محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ نئی نسل کے اندر ایمان، بصیرت، شجاعت اور دین کے لیے جدوجہد کا جذبہ بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان عظیم شخصیات کے افکار و کردار سے رہنمائی حاصل کریں اور تعلیم، تربیت اور خدمتِ دین کے ذریعے ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔
محترمہ سیدہ عابدہ بتول صاحبہ نے مدرسہ بنت الہدیٰ کے نظم و نسق اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے مدرسہ بنت الہدیٰ کی کاوشیں قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت ایک اہم ضرورت بن چکی ہے، بچیوں کو قرآنِ کریم، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ، احکامِ دین اور اخلاقی اقدار سے آراستہ کرنا ایک عظیم دینی خدمت ہے۔ انہوں نے مدرسہ کی انتظامیہ اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ اپنی علمی و تربیتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گا اور مستقبل میں مزید باصلاحیت، دین شناس اور باکردار نسل کی تربیت کا ذریعہ بنے گا۔
مجلس کے اختتامی مرحلے میں ذاکرۂ اہلِ بیتؑ محترمہ سیدہ عابدہ بتول صاحبہ نے مصائبِ حضرت امام حسین علیہ السلام بیان کیے تو مجلس کا ماحول سوگوار ہوگیا۔ خواتین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ذکرِ مصائب کے دوران گریہ و بکاء کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اس کے بعد محترمہ سیدہ عابدہ بتول صاحبہ نے ملتِ ایران کے حفظ و امان، سربلندی، استقامت اور سلامتی کے لیے دعا کرائی۔
مجلس کے اختتام پر طالبات اور خواتین نے شہیدِ امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تصویرِ مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر گریہ و زاری کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ، بالخصوص رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای حفظہ اللہ، کو تعزیت و تسلیت پیش کی۔ اس موقع پر شرکائے مجلس نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پُرجوش انداز میں نعرہ ہائے وفا و استقامت بلند کیے: "ایران کے مجاہدو! ہم تمہارے ساتھ ہیں"، "رہبر کے فرمان پر! جان بھی قربان ہے" اور "هَیْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّة"۔ ان نعروں کی گونج سے حیدریہ ہال کا ماحول عزم، وفاداری اور استقامت کے جذبات سے بھر گیا۔
مجلسِ چہلم میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے شہیدِ امت حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن خوانی و فاتحہ خوانی میں شرکت کی۔ مجلس کے اختتام پر مدرسہ بنت الہدیٰ کی جانب سے شرکائے مجلس میں تبرک بھی تقسیم کیا گیا۔
مجلسِ چہلم کا یہ پروگرام قرآن خوانی، فاتحہ خوانی، مرثیہ خوانی، خطاب اور ذکرِ مصائب کے ساتھ ساتھ شہیدِ امت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور طالبات و خواتین میں دینی شعور، بصیرت، ایثار اور راہِ حق میں استقامت کے جذبے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔









آپ کا تبصرہ