حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ کے زیرِ اہتمام حیدریہ ہال، سید چھپرہ، ہریانہ میں شہیدِ ملت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصالِ ثواب، علوِ درجات اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پُروقار قرآن خوانی و مجلسِ ترحیم منعقد ہوئی، جس میں بستی کی خواتین اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے اپنے غم و اندوہ اور عقیدت کا اظہار کیا۔

نظامت کے فرائض محترمہ سیدہ ضحیٰ بی بی نے نہایت خوش اسلوبی، وقار اور سلیقے کے ساتھ انجام دیے۔
پروگرام کا آغاز قاریہ محترمہ بصارت فاطمہ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جس کے بعد محترمہ سیدہ تحریر فاطمہ نے نہایت درد انگیز اور رقت آمیز انداز میں مرثیہ پیش کیا، جس سے حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ بعد ازاں سیدہ راضیہ بتول اور فائزہ بتول نے پرسوز پیش خوانی پیش کرکے مجلس کے روحانی ماحول کو مزید مؤثر بنایا۔

افتتاحی تقریر میں سیدہ آفریدہ بتول نے شہداء کی قربانیوں کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام کی سربلندی، حق و عدالت کی حفاظت اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا راستہ ہمیشہ شہداء کی پاکیزہ قربانیوں سے روشن رہا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو اس عہد کی تجدید کی دعوت دی کہ ہم شہداء کے افکار، ان کی دینی خدمات اور ان کے مشن کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
بعد ازاں مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سیدہ علی فاطمہ صاحبہ، ناظمۂ تعلیم مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ، نے شہیدِ ملت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی، دینی، فکری اور تبلیغی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی پوری زندگی قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے فروغ، امتِ مسلمہ کی رہنمائی، اسلامی اقدار کے تحفظ اور دینِ خدا کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ آپ نے اپنے علم، اخلاص، بصیرت اور استقامت کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی فکری و روحانی تربیت کی اور اپنی شخصیت کو دینِ اسلام کی خدمت کا عملی نمونہ بنا دیا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ ایسے عظیم علماء اور مصلحین کی یاد کو زندہ رکھنا، ان کے افکار کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور ان کے علمی و اخلاقی کردار کو اپنی زندگی میں اپنانا ہم سب کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ شہداء اور علماء کی خدمات امت کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ہمیں دین، اخلاق، اتحاد اور خدمتِ خلق کے راستے پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ناظمۂ تعلیم نے حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے جانسوز مصائب بیان کیے، جس پر مجلس سوگوار ہوگئی اور حاضرینِ مجلس زار و قطار گریہ کرنے لگے۔

اس موقع پر مدرسہ کی تمام طالبات نے اجتماعی طور پر قرآنِ مجید کی تلاوت کرکے شہیدِ ملت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصالِ ثواب اور علوِ درجات کے لیے دعا کی۔ مجلس کے اختتام پر تمام شہداء کے علوِ درجات، امتِ مسلمہ کے اتحاد، ملک و ملت کی سلامتی، عالمِ اسلام میں امن و استحکام، نیز آیت اللہ العظمیٰ سید علی مجتبیٰ خامنہ ای مدظلہ الوارف کی صحت، سلامتی، طولِ عمر اور عزت و سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

مجلس میں بستی کی کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی مجتبیٰ خامنہ ای مدظلہ الوارف اور ان کے اہلِ خانہ کی خدمت میں دلی تعزیت و پرسہ پیش کرتے ہوئے شہیدِ ملت کے علوِ درجات کے لیے دعا کی۔
آخر میں مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ کی جانب سے تمام شرکائے مجلس میں تبرک تقسیم کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ