حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یام شیعہ نیشنل اسلامک کوئز کمپٹیشن حیدرآباد کی جانب سے منعقدہ چھٹے مرحلہ کے نہج البلاغہ مقابلہ میں ملک کی 24 ریاستوں سے آئے ہوئے امیدواروں نے شرکت کی، جہاں نہج البلاغہ سے متعلق 600 سوالات اور 600 جوابات پر مشتمل ایک عظیم علمی مقابلہ منعقد کیا گیا۔ اس سخت اور علمی امتحان میں مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی طالبہ سیدہ ضحیٰ بی بی نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے نمایاں کامیابی اپنے نام کی۔

اس عظیم کامیابی پر مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی جانب سے ایک شاندار جشنِ تکریم منعقد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، سماجی شخصیات، سنی و شیعہ حضرات اور کثیر تعداد میں مؤمنین نے شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز سیدہ کریمہ بتول نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جبکہ صدارت کے فرائض حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید محمد ثقلین صاحب نے انجام دیے۔
نظامت کے فرائض جناب مولانا سید عارف حسین صاحب، ڈائریکٹر علی ٹور سہارنپور نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔
پروگرام میں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم انشاء زینب، حدیقہ بتول اور وجیہہ بتول نے پیش کی، جبکہ کلاسِ ثالثہ کی طالبات نے بہترین انداز میں تواشیح پیش کرکے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ اسی طرح خواہر شفا، خواہر جزا بتول اور خواہر ذکیہ بتول نے بارگاہِ اہلِ بیتؑ میں منقبت پیش کی، جس سے محفل میں عقیدت و محبت کی فضا قائم ہوگئی۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید نبی حیدر صاحب قبلہ، معتمدِ آیت اللہ العظمیٰ الشیخ محمد یعقوبی نے خصوصی شرکت کی اور اپنے بصیرت افروز خطاب سے حاضرین کے قلوب کو منور کیا۔ اس کے علاوہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید علی ابن الحسین صاحب قبلہ قمی، مولانا سید نقی حیدر صاحب ڈائریکٹر ہادی ٹور گنگوہ اور مولانا سید کاشف عباس صاحب نے بھی اپنے خطابات میں دینی تعلیم، تربیتِ نسواں اور علمی میدان میں طالبات کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔

معروف شاعر جناب آصف ہلوانوی نے اپنے خوبصورت اشعار پیش کرکے جشنِ تکریم کو مزید پررونق بنادیا اور حاضرین سے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔
پروگرام کے دوران اہلِ سنت والجماعت کے معروف عالمِ دین مولانا محمد ارشد ضیاوی صاحب نے مدرسہ کی طالبات سیدہ مصباح بتول اور سیدہ کریمہ بتول سے قرآنِ مجید کے 28، 29 اور 30 پاروں سے مختلف آیات دریافت کیں، تو دونوں طالبات نے نہ صرف آیاتِ قرآنی مع ترجمہ سنائیں، بلکہ متعلقہ سورتوں کے نام اور ان میں موجود کل آیات کی تعداد بھی بیان کی، جس پر حاضرین نے بے حد مسرت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر طالبات نے اپنی علمی صلاحیت کے ذریعے مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کا نام روشن کیا۔

تقریب میں شریک اہم شخصیات میں قاری محمد اسجد صاحب، مولانا محمد ہارون کریمی رشیدی، جناب سید علی عباس صاحب پردھان سید چھپرہ، جناب سید علی رحمن صاحب نمبردار سید چھپرہ، جناب محمد ارشاد صاحب سرپنچ گڑپور، جناب پردیپ کمار صاحب سرپنچ کلسورہ، ماسٹر یشوندر سنگھ جگا گایتری پبلک اسکول، جناب اندر شرما چیئرمین، اور جناب عزادار حسین صاحب منتظم مدرسہ حیدریہ شامل تھے۔
اسی جشنِ تکریم کے موقع پر کتاب “امیرالمومنینؑ اور مومنین” مؤلف مرزا شیخ علی اکبر صاحب، مقیم موریشس، کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی، جسے حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید نبی حیدر صاحب قبلہ، معتمدِ آیت اللہ العظمیٰ الشیخ محمد یعقوبی مدظلہ الوارف نے علمائے کرام کے ہمراہ اپنے دستِ مبارک سے انجام دیا۔ حاضرین نے اس علمی و دینی کاوش کو بے حد سراہا اور مؤلف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آخر میں مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کے مدیر جناب مولانا عقیل رضا ترابی صاحب نے سیدہ ضحیٰ بی بی کو تقدیری سند اور نوٹوں کا ہار پہنا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اسی موقع پر شاعریِ اہلِ بیتؑ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر جناب آصف ہلوانوی کو “اعترافِ خدمات و تقسیمِ ایوارڈ” کے عنوان سے خصوصی ایوارڈ پیش کیا گیا، جبکہ جناب سید علی رحمٰن صاحب نمبردار کو سپاس نامہ پیش کیا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر حاضرین نے مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی دینی، علمی اور تربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے طالبات کی اس نمایاں کامیابی کو پورے علاقہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔











آپ کا تبصرہ