حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ آج کی دنیا صرف عسکری جنگوں کا شکار نہیں بلکہ انسان اندرونی، نفسیاتی اور معنوی بحرانوں سے بھی گزر رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جدید انسان نے ٹیکنالوجی میں ترقی تو حاصل کر لی، لیکن معنویت، سکون اور انسانی اقدار سے دوری نے پوری انسانیت کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہلور میں “یادِ شہداء” کے عنوان سے منعقدہ پروگرام، جو “شہید رہبر” کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا، سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے “بحرانوں کے دور میں انسان؛ بیرونی جنگوں سے داخلی انہدام تک” کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔
اس پروگرام میں نہ صرف شیعہ بلکہ مختلف مذاہب و ادیان سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے جہاں ہندو اسکالرز، شیعہ اور سنی علماء نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے شہید رہبر اور شہداء کو یاد کیا۔
انہوں نے کہا کہ انسان ہمیشہ مستقبل کو جاننے کا خواہاں رہا ہے۔ ماضی میں لوگ غیبی ذرائع، رمل، جفر اور جنات کے ذریعے مستقبل جاننے کی کوشش کرتے تھے، جبکہ آج دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں “مستقبل شناسی” اور “فیوچر اسٹڈیز” کے مستقل شعبے قائم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ آج انسانیت بیک وقت تین طرح کی جنگوں کا سامنا کر رہی ہے؛ بیرونی اور عسکری جنگ، نفسیاتی و ذہنی جنگ، اور معنویت و شناخت کی جنگ۔ ان کے مطابق اگر ماضی میں انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف فوجی جنگیں تھیں، تو آج صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے کیونکہ دنیا میدانِ جنگ میں بھی جل رہی ہے اور انسان اندر سے بھی ٹوٹ رہا ہے۔
انہوں نے عالمی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سالانہ 2.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ فوجی اخراجات کیے جا رہے ہیں، جبکہ بارہ ہزار کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور دنیا بھر میں پچاس سے زائد مسلح تنازعات جاری ہیں۔ اسی طرح گیارہ کروڑ سے زیادہ انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔
عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں جبکہ ہر سال تقریباً سات لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ انہوں نے افسردگی، اضطراب اور سماجی تنہائی کو جدید دور کے خطرناک چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی نوجوان شدید احساسِ تنہائی اور بے معنویت کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج انسان نے وسائل تو حاصل کر لیے، لیکن زندگی کا مقصد کھو بیٹھا ہے۔ فلسفۂ اسلامی، خصوصاً حکمتِ صدرائی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان مادّے سے معنا اور نقص سے کمال کی طرف سفر کرنے والی ہستی ہے، لیکن جدید انسان “عقلِ ابزاری” میں آگے بڑھ گیا اور “عقلِ غائی” یعنی مقصدِ حیات سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی جنگیں دراصل انسان کے اندرونی بحرانوں کی عکاس ہیں۔ جو انسان اندر سے بے سکون، روحانی طور پر خالی اور وجودی خوف میں مبتلا ہو، وہ آسانی سے تشدد، غلبہ پسندی اور جنگ کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: “ایٹم بم لیبارٹری میں بننے سے پہلے انسان کی روح میں تشکیل پاتا ہے۔”
رہبر معظم کے نمائندے نے مستقبل شناسی کے مختلف نظریات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین نے انسانیت کے مستقبل کے تین بڑے منظرنامے پیش کیے ہیں؛ پہلا تاریک مستقبل جس میں جنگیں، ماحولیاتی تباہی اور نفسیاتی بحران بڑھیں گے، دوسرا ٹیکنالوجی پر مبنی مگر بے معنویت مستقبل، جبکہ تیسرا متوازن اور معنوی مستقبل، جس میں اخلاق، انصاف اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی پر مبنی تہذیب وجود میں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج “فیوچر اسٹڈیز”، “اسٹریٹیجک فارسائٹ”، “سیناریو پلاننگ” اور “گلوبل رسک اسٹڈیز” جیسے علوم دنیا میں اہمیت اختیار کر چکے ہیں، جن کا مقصد خطرات کی شناخت اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ دنیا کے ان بحرانوں میں ہدایت یافتہ انسان اور معنوی قیادت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی قیادت انسان کو امید، عدالت اور معنویت کی طرف واپس لاتی ہے اور یہی جدید انسان کے نفسیاتی بحران کا حقیقی علاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود مستقبل سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تہذیبیں بحرانوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ آج دنیا بھر کے نوجوان ایک بامقصد اور با معنی زندگی کی تلاش میں ہیں اور قرآنی نقطۂ نظر کے مطابق مستقبل صالحین کا ہے، نہ کہ ظالم طاقتوں کا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں اہلِ علم، یونیورسٹی اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم اور معنویت کو یکجا کریں، نفسیاتی صحت پر توجہ دیں، مستقبل شناسی کے علوم کو فروغ دیں اور ایسے انسان کی تربیت کریں جو عقلی، اخلاقی اور روحانی طور پر متوازن ہو۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ موجودہ بحرانوں کے باوجود انسانیت کے پاس ایک عظیم موقع موجود ہے اور وہ ہے “حقیقی انسان” کی طرف واپسی۔









آپ کا تبصرہ