ہفتہ 23 مئی 2026 - 09:38
ایرانی قوم کی استقامت اور اطمینان حیرت انگیز ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/لکھنؤ ہندوستان کی شاہی آصفی مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآب رحمۃ اللہ علیہ نے حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی استقامت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور اطمینان حیرت انگیز ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ ہندوستان کی شاہی آصفی مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآب رحمۃ اللہ علیہ نے حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی استقامت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور اطمینان حیرت انگیز ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوائے الہیٰ کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ کے 3 مراحل ہیں، پہلا مرحلہ گناہوں سے بچنا ہے، دوسرا مرحلہ شبہات سے پرہیز کرنا ہے اور تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے دل کو بچانا جو انسان کو یاد خدا سے غافل کر دے۔ اور یہی تقویٰ کی معراج ہے۔

سورۂ حجرات کی آیت 13 کے فقرہ "بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔" کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ تقویٰ کا تعلق عہدہ، منصب، مال و دولت سے نہیں ہے، بلکہ تقویٰ کا تعلق کردار سے ہے۔

سورۂ بقرہ آیت 2 "قرآن ہدایت ہے متقین کے لئے" کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ صرف قرآن پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ تلاوت سے پہلے کردار سازی ضروری ہے، کیونکہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کی ہدایت کرتا ہے۔

سورۂ طلاق کی آیت 2 اور 3 "اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اُس کے لئے نجات کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اُس کے لئے کافی ہے۔" کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ آج ایران نے تقوائے الہیٰ اختیار کیا تو اللہ نے اس کے لئے نجات کا راستہ کھول دیا، اور جس کے لئے اللہ نجات کا راستہ کھول دے اسے کوئی ہلاک نہیں کر سکتا۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اس ہفتے کی مناسبتوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ 7 ذی الحجہ (114 ہجری) یوم شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، 8 ذی الحجہ (60 ہجری) کو امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے عراق کی جانب سفر فرمایا، 9 ذی الحجہ (60 ہجری) یوم عرفہ حضرت مسلم ابن عقیل علیہ السلام اور حضرت ہانی ابن عروہ علیہ السلام کی شہادت کی تاریخ ہے اور 10 ذی الحجہ کو عید قربان ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ دوران جنگ ہم ایران میں تھے، رہبر معظم انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالٰی علیہ کی شہادت کے بعد یہاں جو غم منایا گیا اور احتجاجات ہوئے وہ قابل قدر ہیں، اگرچہ نیٹ بند تھا پھر بھی کچھ لوگوں کا نیٹ کھلا تھا جس سے یہاں کی خبریں وہاں پہنچ رہی تھی خاص طور سے اہل لکھنو کے غم اور احتجاج کی تو ایرانی عوام نے اس کی قدر کی۔ جس کے لئے ہم ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے غم منایا اور احتجاج کیا۔

رہبر معظم انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی کی آخری تقریر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ آپ نے اپنی آخری تقریر میں اشارہ کیا تھا کہ "اگر کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو اللہ تبارک و تعالٰی کچھ لوگوں کو مبعوث کرے گا جو ذمہ داری ادا کریں گے۔" ہم نے دیکھا کہ جیسے ہی آپ کی شہادت کی خبر عام ہوئی، بغیر کسی کی اپیل کے عوام سڑک پر آگئی۔ یہ عوام کا سڑک پر آنا کسی کی اپیل نہیں تھا، بلکہ نظام قدرت تھا، اور اس عوامی احتجاج نے استعمار کی ساری سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

امام جمعہ لکھنؤ نے مزید کہا کہ ایک بات جو انتہائی حیرت انگیز اور تعجب خیر تھی کہ اگر کہیں کوئی بم یا میزائیل گر جائے تو دہشت پھیل جاتی ہے، لیکن ایران میں بم گر رہے تھے لیکن عوام اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے، عوام کا اطمینان انتہائی حیرت انگیز ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم ایران میں نظام بدل دیں گے، ایران کا سپریم لیڈر ہماری مرضی کا ہوگا، لیکن کسی نے کیا خوب جواب دیا تھا کہ ہم تمہاری مرضی سے رہبر انتخاب نہیں کریں گے؛ بلکہ ہم اپنا نعرہ بھی نہیں بدلیں گے۔ کل بھی ہمارا نعرہ اللہ اکبر خامنہ ای رہبر تھا اور آج بھی یہی نعرہ ہے۔

انہوں نے جنگ احد میں مؤمن مجاہدین کی استقامت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان شخص پر نہیں، بلکہ نظام پر ایمان رکھتا ہے تو شخص نہ بھی رہے تب بھی وہ نظام سے الگ نہیں ہوتا ہے۔ آج ایرانی عوام نظام پر ایمان رکھتی ہے؛ لہٰذا رہبر کی شہادت کے بعد بھی وہ ثابت قدم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha