تحریر: محمد بشیر دولتی
حوزہ نیوز ایجنسی|
عرفہ، دراصل شناخت کو کہتے ہیں۔ انسان کی فطرت اور طبیعت میں ہے کہ وہ اشیاء کو پہچان سکتا ہے۔ یہ انسان کا کمال ہے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھ سکتا ہے جان سکتا ہے، لیکن یہ اس کی معراج ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچان سکے۔
حضرت مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: "جس نے خود کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا"۔ یہ اس لیے کہ پہچان اور شناخت کا یہ سلسلہ باہم مربوط ہے۔
دعائے عرفہ بھی خدا شناسی کا ایک بیش بہا خزینہ ہے۔ دعا محض طلب کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ جستجو ، تڑپ اور والہانہ گفتگو کا نام بھی ہے۔ دعائے عرفہ، معرفتِ توحید کا ایک بحرِ بیکراں ہے۔ اس دعا میں ہمارے مولا، امام حسین علیہ السلام نے جس انداز سے اللہ تعالیٰ کی صفات، اپنی عاجزی اور بندگی کا اظہار کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
یہ دعا بندوں کو ابتداء میں خدا سے مانوس کرنے اور پھر اسے خدا کا عاشق بنانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے پرمعنی، معرفت و عشق سے لبریز اور روحانی کلمات پڑھنے والے کو رقت اور گریہ پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ دعا مخصوص دن اور مخصوص وقت میں، اجتماع میں پڑھنے والی دعا ہے، لیکن اگر اسے تنہائی میں پڑھا جائے تو یہ عاشق و معشوق کے درمیان رازدارانہ گفتگو کا لطف دیتی ہے۔
یہ دعا، بغیر کسی ارادے کے، آنکھوں کو آنسو بہانا سکھاتی ہے۔ یہ آنسوؤں کو معرفت کے مرکز یعنی دل کی گہرائیوں سے نکال کر، حقیقت کے متلاشی، آنکھوں کے گوشوں سے ہوتے ہوئے، تڑپتے اور بے چین گالوں پر رواں کر دیتی ہے۔ دل کی گہرائیوں اور پلکوں کے آبشاروں سے گرنے والے یہ آنسو کوئی معمولی آنسو نہیں؛ یہ عقیدت اور تڑپ کے ساتھ چھلکتے ہوئے عاشقانہ آنسو ہیں، جو نہ صرف دل کو سکون بخشتے ہیں، بلکہ ہمارے وجود میں ایک عاشقانہ احساس پیدا کرتے ہیں۔
یہ احساس تمام احساسات سے بہتر اور برتر ہے۔ یہ توحید کو محض ایک نظریاتی تعلق یا فکری عقیدہ تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک والہانہ پن پر مشتمل تعلق میں بدل دیتا ہے، جو انسان کو توحیدِ فردی سے توحیدِ اجتماعی کی طرف سفر پر گامزن کرتا ہے۔
پھر بندہ اپنے دل کی دھڑکن سے لے کر آنکھوں کے جھپکنے تک میں خوشنودیِ س مرضی الٰہی کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو توحید محور بنا کر سوچنے لگتا ہے، اپنے گفتار کو توحید پسندانہ بناکر بولنے لگتا ہے، پھر اسے کردار و اعمال کے سانچوں میں ڈھال کر، توحید پسندانہ ماحول اور معاشرے کی تشکیل کے لیے دیوانہ وار سعی و کوشش کی طرف لے جاتا ہے۔
بندہ پھر ایک توحیدی معاشرے کی تشکیل اور عادلانہ نظام کے قیام کے لیے تگ و دو شروع کرتا ہے۔ یوں وہ توحیدِ فردی کے دائرے سے نکل کر توحیدِ اجتماعی کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ 'لبیک اللهم لبیک' کی صدائیں اب فقط زبان سے نہیں، بلکہ اس کے پورے وجود سے نکلتی ہیں۔
جس طرح 60 ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے خانہ کعبہ سے توحید انفرادی سے توحید اجتماعی کی طرف کربلائے معلیٰ کا سفر شروع کیا، بالکل ایسے ہی انسان راہِ کربلا کا حقیقی راہی بن جاتا ہے۔ جب انسان راہِ کربلا کا حقیقی راہی بن جائے، تب اس کا مزاج ایسا سنورتا اور نکھرتا ہے کہ وہ ببانگِ دہل کہہ اٹھے گا: "خدا یا! جس نے تجھے پایا، اس نے کیا کھویا؟ اور جس نے تجھے کھویا، اس نے کیا پایا؟"
اس منزل تک فقط وہی لوگ پہنچتے ہیں جو خود شناسی سے خدا شناسی تک پہنچ چکے ہوں۔ ایسے لوگ ہی سب کچھ لٹ جانے کے بعد کہہ سکتے ہیں: "ما رأيت إلا جميلاً" (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)۔
آئیں، روزِ عرفہ گزر بھی جائے، تو دعائے عرفہ ایک بار پھر سے پڑھیں؛ دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ فقط اپنے لیے۔
اجتماع میں نہیں، بلکہ تنہائی میں۔۔۔
تاکہ ہم اپنے آپ کو پہچان سکیں، اپنی سوچ، طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو جان سکیں۔
اپنی وابستگیوں اور ترجیحات کو پہچان کر توحید شناسی کے ساتھ توحید فردی سے توحید اجتماعی کی طرف پرواز کر سکیں۔









آپ کا تبصرہ