جمعہ 15 مئی 2026 - 20:57
ایمان اور اہل بیت (ع) کی محبت سب سے بڑی نعمت ہے / ایران کی دفاعی قوت کو خراجِ تحسین

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ میں خطاب کے دوران کہا: ایمان اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت سب سے بڑی نعمت ہے۔ والدین، بزرگوں اور علماء کی محنتوں سے یہ نعمت ہمیں ملی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں جمعہ 27 ذیقعدہ 1447ھ (15 مئی 2026ء) کو خطبہ جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پیش کیا۔ اس خطبہ میں انہوں نے ایام ذی الحجہ کی اہمیت، شکرگزاری، نعمتوں کی قدر، اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

خطیب محترم نے خطبہ اول میں تقویٰ، ذکر اور شکر کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے سب سے پہلے تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کی رضا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

انہوں نے ایام ذی الحجہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: یہ ایام اللہ کے نزدیک بہت زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نویں ذی الحجہ (یوم عرفہ) کے روزے اور امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ پڑھنے کی تاکید کی اور کہا کہ اس دعا کا ترجمہ سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے قربانی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جائے نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ انہوں نے پچھلے سال کے اپنے اس جملے کا بھی حوالہ دیا کہ "قربانی فریزر میں جانے کے لیے نہیں، اللہ کے بندوں کے کھانے کے لیے ہے"۔ انہوں نے قربانی کے بعد صفائی ستھرائی اور کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیےدستانے (gloves) استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

خطیب جمعہ نے شکر کے عنوان پر کہا: اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے فرمایا کہ نعمتوں کا احساس بھی شکر ہے۔

انہوں نے ایمان اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو سب سے بڑی نعمت قرار دیا اور کہا: والدین، بزرگوں اور علماء کی محنتوں سے یہ نعمت ہمیں ملی ہے۔ انہوں نے اس نعمت کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی ذمہ داری کی بھی یاد دہانی کرائی۔

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خطبہ ثانی میں موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو اٹھایا اور کہا: پورے پاکستان میں بجلی کی شدید قلت ہے، گلگت بلتستان میں 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں تو کی جاتی ہیں لیکن عوام کو بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔

انہوں نے فلسطین اور لبنان کے حوالے سے کہا: سیز فائر کے بعد بھی اسرائیلی مظالم جاری ہیں اور سو سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں لیکن عالمی طاقتیں خاموش ہیں۔

خطیب محترم نے روس اور چین پر بھروسے کے بارے میں اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے کہا: ان پر اندھا بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ اگر یہ طاقتیں انسانیت کے لیے مخلص ہوتیں تو فلسطین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے قتل عام کو روک سکتی تھیں۔

انہوں نے چین کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا: ایران کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے معاہدے میں چین نے صرف 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، باقی سب صرف کاغذی کارروائی ہے۔

شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل نے خلیج فارس کی موجودہ صورتحال پر کہا: امریکہ اور چین مل کر ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ خلیج فارس کو کھول دے اور ٹول ٹیکس ختم کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو عرب ممالک کی تباہی یقینی ہے۔

خطیب محترم نے ایران کی دفاعی قوت کو سراہتے ہوئے کہا: چالیس روزہ جنگ میں ایران نے امریکہ کے 60 سے زائد طیارے (جن میں F-35، F-15، AWACS شامل ہیں) مار گرائے۔ امریکی صدر نے سعودی عرب کے رہنما کی توہین کی تو سعودی عرب نے تباہ شدہ طیاروں کی تصاویر جاری کر دیں۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شیعہ شہریوں کے اخراج پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا: لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے، ان کے اثاثے ضبط کیے جا رہے ہیں اور خاندانوں کو جدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قائد محترم سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائیں۔

علامہ شبیر میثمی نے پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا: عزاداری کے ایام قریب ہیں، حکومت کو عزاداروں کو پوری آزادی دینی چاہیے۔ انہوں نے حکومت پنجاب کی جلد میٹنگ کرنے کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ دوسری صوبائی حکومتیں بھی اس کی پیروی کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں دعا ہی مومن کا ہتھیار ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اخراجات پر کنٹرول کریں تاکہ ممکنہ معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

خطیب نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عالمی طاقتوں کے مکر و فریب سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے اور فلسطین و لبنان کے مظلوموں کی مدد فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha