اتوار 17 مئی 2026 - 10:05
آیت الله شب زندہ دار کا رضا کار طلباء اور علماء کا تشکر/ رضاکارانہ خدمات، حوزہ علمیہ کا وجودی فلسفہ ہیں

حوزہ/آیت الله شب زندہ دار نے رضاکار طلباء اور علماء کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ جہادی شناخت کے ادراک کی ضرورت، رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید آیت الله العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای کے تاریخی پیغام میں "ترقی یافتہ اور کار آمد حوزہ" کے عنوان سے حوزہ ہائے علمیہ سے خطاب میں بہت اہم عنوانات میں سے ایک ہے اور یہ طلباء اور حوزہ ہائے علمیہ کی عظیم مقبولیت کا باعث بنے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ ہائے علمیہ کی سپریم کونسل کے سکریٹری آیت الله محمد مہدی شب زندہ دار کا حوزہ کے طلباء اور علماء کے رضا کار گروہوں کے نام تفصیلی پیغام یوں ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمدلله رب العالمین و صلی الله علی سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و علی آله الطیبین الطاهرین لا سیما بقیة‌الله فی الارضین ارواحنا فداه و عجل الله تعالی فرجه الشریف و اللعنه الدائمه علی اعدائهم اجمعین.

قال الله تبارک و تعالی: وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ.

حوزہ ہائے علمیہ کے رضاکار، محنتی اور دلسوز معزز طلباء اور علمائے کرام! آپ میں سے ہر ایک پر اللہ تعالیٰ کا سلام اور درود ہو۔

آپ عزیزوں نے موجودہ حالات کو صحیح طور پر درک کرتے ہوئے اپنے تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی پروگراموں کو تعزیتی، ہمدردی، تبیین اور تبلیغ میں بدل کر ایک بہت ہی اہم، قیمتی اور فائدہ مند کام میں مصروف ہو گئے ہیں، جو خُداوند متعال، حضرت بقیت الله الاعظم ارواحنا له الفداء، رہبرِ انقلابِ اسلامی اور مراجع تقلید کی خشنودی کا باعث ہوگا۔

اللہ کی راہ میں جہاد کا یہ سنہری اور قابلِ فخر ورق جسے آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وسیع جغرافیہ تک مختلف میدانوں میں پھیلا دیا ہے، اس نے عوام اور علماء کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور مضبوط رشتہ قائم کر دیا ہے، جو خطرے کو موقع میں بدلنے کی ایک مثال ہے، ان شاءاللہ کمیت اور کیفیت کا تسلسل ضروری ہے۔ حوزہ ہائے علمیہ اور دیگر متعلقہ ادارے، اس سلسلے میں مخلص جہادیوں کے ساتھ ضروری تعاون اور مدد کریں۔

جہادی شناخت کے ادراک کی ضرورت، رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید آیت الله العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای کے تاریخی پیغام میں "ترقی یافتہ اور کار آمد حوزہ" کے عنوان سے حوزہ ہائے علمیہ سے خطاب میں بہت اہم عنوانات میں سے ایک ہے اور یہ طلباء اور حوزہ ہائے علمیہ کی عظیم مقبولیت کا باعث بنے گی۔

شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دین کی حرمت فکری، سیاسی اور عسکری جہاد کے میدانوں میں سب سے زیادہ واضح ہے اور دینی علم کے علمبرداروں کی قربانیوں اور جہاد اور ان کے پاکیزہ خون بہانے سے قائم ہے، لہٰذا حوزہ علمیہ کو اپنے روحانی اعتبار کے تحفظ کے لیے اور فلسفۂ وجودی سے وفا کرتے ہوئے کبھی بھی عوام، معاشرہ اور اس کے مسائل سے اپنے کو الگ نہیں کرنا چاہیے اور ہر طرح کے جہاد کو ضرورت کے وقت اپنا فرض سمجھنا چاہیے۔

ہم سب علماء کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس میدان میں جہاد کی روح اور تشخص کے لیے ہر اس مضبوط قلعے میں موجود سمجھیں جہاں ہم اسلام اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے دفاع کے لیے موجود ہوں اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔

آخر میں، میں ایک بار پھر آپ معزز رضاکاروں اور آپ کے معزز خاندانوں کی کوششوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس راستے پر آپ کا ساتھ دیا اور میں خدا سے سب کی کامیابی کے لیے دعا کرتا ہوں۔

محمد مہدی شب زندہ دار

سیکرٹری سپریم کونسل حوزہ ہائے علمیہ

آیت الله شب زندہ دار کا رضا کار طلباء اور علماء کا تشکر/ رضاکارانہ خدمات، حوزہ علمیہ کا وجودی فلسفہ ہیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha