حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فارسی زبان کے تحفظ اور فردوسی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے دن کی مناسبت سے رہبر انقلاب نے ایک پیغام جاری کیا یے جس کا متن حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فارسی زبان بولنے اور لکھنے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ہی ایرانیوں کی پہچان، افکار سے جڑنے کی کڑی اور ان کے تشخص کی سرحدوں کو تشکیل دیتی ہے۔ فارسی زبان و ادب، عالمی سطح پر اسلامی مملکت ایران کے کلچر اور تمدن کو فروغ دینے کی سب سے زیادہ گنجائشوں اور صلاحیتوں میں سے ایک ہے اور فارسی زبان کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ہمارے حکیم و شہید رہبر اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی سفارش، "ایرانی ـ اسلامی تمدن" کے اقتدار کی راہ کا چراغ ہے۔
ایران کی عزیز قوم نے تیسرے مقدس دفاع میں بھی، گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح ثابت کر دیا کہ فردوسی کی اساطیری داستانیں، ان کی زندگی کی حقیقت اور ان کی بہادر شخصیت کی حقیقی تصاویر ہیں۔ اور شاہنامہ کے انسان ساز، شجاعانہ اور قرآنی مفاہیم، ایران کی تمام قومیتوں اور طبقات کو اپنی شناخت، اصالت اور خودمختاری کے تحفظ اور اسی طرح "ضحاک صفت" جارح دشمنوں کے خلاف جدوجہد میں ہمدل، ہمراہ اور ہماہنگ بناتے ہیں۔ موجودگی، دفاع اور فتح کا یہ بے نظیر رزمیہ، کلچر، ادب اور ہنر سے تعلق رکھنے والے افراد کے کاندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے تاکہ وہ بھی فردوسی کی طرح اٹھ کھڑے ہوں اور عوام کی بعثت کے تسلسل میں فنکاروں کی بعثت بھی رقم کریں۔ فکر، قلم اور زبان کو فن و ہنر سے جوڑ دیں اور ملت کی عظیم بیداری کی داستان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر بنا دیں۔
دوسری جانب، عفریت صفت اور عالمی شیاطین کے حملے کے مقابل غیورانہ مزاحمت اور افتخار آمیز فتح نے ملت کو تمدنی خودمختاری کی حفاظت اور امریكا کی زبانی، ثقافتی اور طرز زندگی کی یلغار کے مقابلے کے لیے مزید آمادہ کر دیا ہے تاکہ ثقافتی میدان کے سرگرم افراد کے جدت عمل اور ان کی جدت طرازیوں کے ذریعے زبانی و فکری دفاع اور بچوں، نوجوانوں اور جوانوں کے رشد و نمو کی سمت میں، حتمی کامیابی تک باقی ماندہ مراحل کو زیادہ استقامت کے ساتھ طے کیا جا سکے، بعون اللہ تعالیٰ۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہای
15 مئی 2026









آپ کا تبصرہ