پیر 18 مئی 2026 - 13:35
شادیوں میں آسانی، زندگی میں برکت: شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کی نظر میں شادی کی آٹھ غلط رسمیں

حوزہ/شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کی نظر میں شادی کی آٹھ غلط رسمیں درجہ ذیل ہیں: بھاری مہر، بھاری جہیز، زیادہ تجملات، اسراف، مہنگی دکانوں سے خریداری، مہنگے ہوٹل اور ہال کی بکنگ، شادی کے مہنگے لباس اور مال و دولت کی نمائش

حوزہ نیوز ایجنسی: شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کی نظر میں شادی کی آٹھ غلط رسمیں ایسی ہیں جو اسلامی نقطۂ نگاہ سے غلط ہیں اور ہمیں ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

1۔ بھاری مہر

جو لوگ اپنی بیویوں کے لیے زیادہ مہر مقرر کرتے ہیں، وہ معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں گھروں میں ہی رہ جاتی ہیں، بہت سے لڑکے بغیر شادی کے رہ جاتے ہیں، کیونکہ جب یہ چیزیں معاشرے میں رسم اور عادت بن جاتی ہیں تو “مہرُ السنّة” پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے مہر کی جگہ لینے کے بجائے جب جاہلیت والا مہر سنت بن جائے تو حالات بھی جاہلیت جیسے ہو جائیں گے۔

خطبۂ عقد ۱۳۷۷/۸/۱۱ شمسی

بھاری مہر جاہلیت کے زمانے کی چیز ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اسے ختم کیا۔ پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ایک معزز اور بڑے خاندان سے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کا خاندان قریش کے سب سے بڑے خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ خود آنحضرت بھی اس معاشرے کے سربراہ اور رہبر تھے۔ پھر کیا مشکل تھی کہ ایسی عظیم بیٹی، جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہے، “سیدة نساء العالمین” اور ایسے عظیم مرد، امیرالمؤمنین علیہ السلام، ان کا مہر بہت زیادہ ہوتا؟ پھر کیوں آنحضرت نے کم مہر رکھا جسے “مہرُ السنّة” کہا جاتا ہے؟ خطبۂ عقد ۱۳۷۴/۲/۲۸ شمسی

مہر جتنا کم ہو، شادی کی فطرت کے اتنا قریب ہوتا ہے؛ کیونکہ شادی کوئی سودا نہیں، خرید و فروخت نہیں، کرایہ داری نہیں، بلکہ دو انسانوں کی زندگی ہے۔ اس کا مالی معاملات سے تعلق نہیں؛ البتہ شریعت نے مہر مقرر کیا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے، لیکن بھاری نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا ہونا چاہیے جو سب آسانی سے ادا کر سکیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۴/۵/۱۸ شمسی

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بھاری مہر ازدواجی تعلق کو محفوظ رکھتا ہے؛ یہ خطا اور اشتباہ ہے۔ اگر خدا ناخواستہ میاں بیوی ایک دوسرے کے اہل نہ ہوں تو بھاری مہر بھی کوئی معجزہ نہیں کر سکتا۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۵/۵/۱۱ شمسی

کبھی لڑکی والے کہتے ہیں کہ ہمیں زیادہ مہر نہیں چاہیے، لیکن لڑکے والے فخر اور دکھاوے کے لیے کہتے ہیں: نہیں، کئی ملین یا اتنا مہر ضرور ہوگا۔ یہ سب اسلام سے دوری ہے۔ کوئی بھی زیادہ مہر سے خوشبخت نہیں ہوا۔ اگر شادی محبت اور درست بنیادوں پر ہو تو بغیر مہر کے بھی مضبوط رہتی ہے، لیکن اگر دھوکہ، چالاکی اور ظلم پر ہو تو لاکھوں کا مہر بھی ظالم آدمی کو نہیں روک سکتا۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۵/۹/۴ شمسی

میں پورے ملک کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ مہریں زیادہ نہ کریں۔ یہ جاہلیت کی رسم ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے خدا اور رسول راضی نہیں ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حرام ہے یا نکاح باطل ہے، لیکن یہ پیغمبر، اہل بیتؑ اور بزرگانِ دین کی سنت کے خلاف ہے، خصوصاً آج کے زمانے میں جب معاشرے کو آسان شادیوں کی ضرورت ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۳/۹/۲ شمسی

2۔ بھاری جہیز

میرا خیال ہے کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے جہیز میں جو سادگی تھی، اس میں ایک علامتی پیغام تھا تاکہ لوگوں کے لیے نمونہ بنے اور وہ ان مشکلات میں گرفتار نہ ہوں جو فضول خرچیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔

خطبۂ عقد ۱۳۷۷/۴/۱۸ شمسی

بعض لڑکی والوں کے خاندان خود کو تکلیف میں ڈالتے ہیں، قرض لیتے ہیں، بہت خرچ کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ ایک شاندار اور زرق و برق پر مشتمل جہیز دیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۷/۱۲/۲۸ شمسی

زیادہ جہیز نہ کسی لڑکی کو خوشبخت بناتا ہے اور نہ کسی گھر کو سکون دیتا ہے۔ یہ سب زندگی کے اضافی گوشے ہیں، سوائے دردسر اور زحمت کے کوئی فائدہ نہیں رکھتے۔خطبۂ عقد ۱۳۷۵/۹/۱۸ شمسی

خبردار! قرض لے کر جہیز نہ بنائیں۔ خبردار! خود کو مشقت میں نہ ڈالیں۔ خبردار! یہ خیال نہ کریں کہ اگر آپ کی بیٹی کا جہیز دوسروں سے کم ہوا تو یہ ذلت ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۸۱/۳/۲۹ شمسی

کچھ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ان کا جہیز تمام رشتہ داروں، دوست اور ہمسائیوں سے زیادہ ہو۔ یہ بھی غلط ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ کونسی چیز درست ہے، کونسی چیز حق ہے اسی کو انجام دیں! کونسی چیز حق ہے؟ ایک دو افراد کے گھر کے لیے صرف ضروری چیزیں کافی ہیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۹/۸/۳ شمسی

یہ فضول خرچیاں، بھاری جہیز، مقابلہ بازی، یہ سب بہت خطرناک غلطیاں ہیں۔ بہت سی لڑکیاں اور لڑکے صرف انہی رسموں کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۲/۱۰/۲۶ شمسی

شروع سے ہی بعض لوگ ہر چھوٹی بڑی چیز جہیز میں ڈال دیتے ہیں، تاکہ دوسروں سے کم نہ لگیں۔ یہ غلط ہے۔ یہ صرف زحمت ہے، نہ اس میں اجر ہے اور نہ حقیقی فائدہ۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۸/۹/۲ شمسی

جہیز کو بھاری مت ہونے دیں! بیٹیاں بھی نہ چاہیں، والدین بھی سادگی اختیار کریں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۳/۹/۲۳ شمسی

مائیں جہیز میں بہت زیادہ اسراف نہ کریں۔ لڑکیوں کے دلوں کو غیر ضروری لوکس چیزوں کی طرف مت کھینچیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۹/۱۱/۱۶ شمسی

3۔ زیادہ تجملات

تجملات ایک معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جو لوگ تجملات کے خلاف بات کرتے ہیں، وہ خوشیوں کے دشمن نہیں، بلکہ اسے ایک نقصان دہ چیز سمجھتے ہیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۰/۴/۲۰ شمسی

کیا جو لوگ شاہانہ شادی کرتے ہیں وہ زیادہ خوشبخت ہوتے ہیں؟ یہ رسمیں صرف غریب نوجوانوں کے دل جلاتی ہیں اور شادی کو مشکل بناتی ہیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۳/۹/۲۳ شمسی

4۔ اسراف

کچھ لوگ شادیوں میں فضول خرچی کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب معاشرے میں غریب موجود ہوں، یہ اسراف اور غلط کام ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۲/۶/۱۱ شمسی

کچھ لوگ شادی جیسے نیک عمل سے بھی گناہ حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہ اسے حرام کاموں اور اسراف سے آلودہ کر دیتے ہیں۔ صرف نامحرم کا مسئلہ ہی حرام نہیں، بلکہ بے جا خرچ بھی حرام ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۶/۱۱/۹ شمسی

میں ان لوگوں سے راضی نہیں ہوں جو بھاری خرچوں اور اسراف کے ذریعے دوسروں کے لیے شادی مشکل بناتے ہیں۔ خوشی اور دعوت اچھی چیز ہے، لیکن اسراف نہیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۴/۵/۲۴ شمسی

5۔ مہنگی دکانوں سے خریداری

یہ لڑکیاں جو جہیز خریدنے جاتی ہیں، انہیں ان دکانوں کی طرف نہیں جانا چاہیے جو مہنگائی کے لیے مشہور ہیں۔ ایسے مقامات سے خریداری نہ کریں جہاں صرف نام اور قیمت ہو۔ غریب داماد کو اپنے پیچھے نہ گھمائیں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۲/۳/۱۹ شمسی

6۔ مہنگے ہال اور ہوٹل

ان ہوٹلوں، مہنگے ہالوں اور فضول خرچ شادیوں کو چھوڑ دیں۔ اگر ضرورت ہو تو سادہ ہال میں تقریب کر لیں، لیکن اسراف نہ کریں۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۳/۱۰/۲۷ شمسی

نکاح اور شادی ایک اچھی چیز ہے۔ پیغمبرِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے بھی اپنی بیٹی کی شادی میں خوشی منائی، لوگوں نے شعر پڑھا، خواتین نے تالی بجائی، لیکن شادی کی تقاریب میں اسراف نہیں ہونا چاہیے۔ آج بعض لوگ ہوٹلوں اور مہنگے ہالوں میں اتنا خرچ کرتے ہیں کہ کھانے ضائع ہوتے ہیں۔ یہ سب صرف دکھاوے کے لیے ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۲/۱/۵ شمسی

اچھی شادی وہ نہیں جس میں زیادہ خرچ ہو، بلکہ وہ ہے جس میں محبت اور صمیمیت ہو۔ چاہے دو کمروں میں ہو۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۷/۹/۱۲ شمسی

پہلے زمانے میں لوگ چھوٹے گھروں میں شادی کرتے تھے، تب بھی عزت باقی تھی۔ آج بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ لازماً بڑے ہال اور ہوٹل ضروری ہیں، بڑے ہوٹلوں سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ “تشریفات” ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۶/۷/۳۰ شمسی

بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ مہنگے ہال اور بڑے خرچے عزت بڑھاتے ہیں، حالانکہ اصل عزت انسانیت، تقویٰ اور پاکدامنی میں ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۵/۵/۱۱ شمسی

8۔ شادی کا مہنگا لباس

کچھ لوگ شادی کا مہنگا لباس خریدتے ہیں حالانکہ صرف ایک بار استعمال ہونا ہے۔ بعض لوگ کرائے پر لباس لیتے ہیں، اس میں کوئی عیب نہیں۔ اصل شرم یہ ہے کہ انسان ایک دن کے لیے بہت بڑی رقم ضائع کرے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۴/۱۰/۴ شمسی

8۔ دولت کی نمائش

اگر شادی میں مادّیات اصل بن جائیں، تو یہ روحانی اور انسانی تعلق ایک مادی سودا بن جاتا ہے۔ بھاری مہر، بھاری جہیز، مقابلہ بازی اور دولت کی نمائش، شادی کی حقیقت کو خراب کر دیتے ہیں؛ لہٰذا شریعت میں مستحب ہے کہ مہر کم لیا جائے جو کہ مہر السنہ کے نام سے مشہور ہے۔ خطبۂ عقد ۱۳۷۷/۱۲/۱۳ شمسی

شادیوں کو آسان بنائیں!

میں عوام کو نصیحت کرتا ہوں کہ شادیوں کو آسان بنائیں!

بعض لوگ بھاری مہر، بھاری جہیز، فضول رسمیں اور دکھاوے سے شادی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں شادی سے دور رہ جاتے ہیں اور جرأت نہیں کرتے کہ ازدواجی زندگی شروع کریں۔

خطبۂ عقد 2/9/1373

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha