جمعہ 15 مئی 2026 - 19:46
رہبرِ انقلاب کے غم میں امت سوگوار، انتخابی مہم میں میوزک افسوسناک ہے: نائب امام جمعہ سکردو

حوزہ/نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں گلگت بلتستان کے انتخابات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے دل رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے غم میں سوگوار ہیں، بعض عناصر کا انتخابی مہم میں میوزک اور شور شرابے میں مشغول ہونا انتہائی افسوسناک اور باعثِ شرم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب امام جمعہ سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں گلگت بلتستان کے انتخابات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے دل رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے غم میں سوگوار ہیں، بعض عناصر کا انتخابی مہم میں میوزک اور شور شرابے میں مشغول ہونا انتہائی افسوسناک اور باعثِ شرم ہے۔

علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو خود یہ شعور نہیں کہ ان کا اصل وظیفہ کیا ہے؟ انہیں کس راستے پر جانا چاہیے اور کن امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جب انسان اپنی صلاحیت، ذمہ داری اور حدود سے ناواقف ہو تو وہ ایسے راستوں میں الجھ جاتا ہے جہاں سے نکلنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

نائب امام جمعہ سکردو نے کہا کہ انسان کو اسی راستے پر قدم رکھنا چاہیے جس کی اسے شناخت اور سمجھ ہو، کیونکہ بغیر صلاحیت اور تیاری کے کسی میدان میں داخل ہونا خود اپنے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑی قومی سیاسی جماعتیں بالخصوص بلتستان کے نمائندوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں۔ جب تک گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان کے عوام کی اپنی مضبوط علاقائی اور خودمختار سیاسی قوت موجود نہیں ہوگی، اس وقت تک قومی سطح پر ان کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بیرونی قوتیں آتی ہیں اور یہاں کے لوگوں سے مشاورت کیے بغیر فیصلے مسلط کرتی ہیں، کسی کو دائیں لے جاتی ہیں اور کسی کو بائیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عوام میں قومی شعور بیدار کیا جائے اور غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل کی جائے۔

علامہ حافظی نے انتخابی مہم میں میوزک کے استعمال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا انتخابات لڑنے کے لیے موسیقی ضروری ہے؟ کیا قوموں کی نمائندگی ترانوں اور شور و غوغا سے حاصل کی جاتی ہے؟ قوموں کی قیادت منشور، کردار، صلاحیت اور عملی خدمات کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ موسیقی اور جذباتی نعروں کے ذریعے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ امت مسلمہ کے دل رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے غم میں سوگوار ہیں، بعض عناصر کا انتخابی مہم میں میوزک اور شور شرابے میں مشغول ہونا انتہائی افسوسناک اور باعثِ شرم ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں اور مقامی قیادت سے سوال کیا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق، شناخت اور تشخص کے تحفظ کے لیے کس جماعت نے اپنے منشور میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے؟ اگر واقعی عوامی نمائندے اپنے خطے کے حقوق کے لیے مخلص ہوتے تو تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر یہ اعلان کرتیں کہ جب تک گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور حقوق کا واضح تعین نہیں کیا جاتا، وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

نائب امام جمعہ سکردو نے نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیدار ہو جائیں، اپنے حقوق کا شعور حاصل کریں، غلامی کی ذہنیت سے باہر نکلیں اور لکیروں کے فقیر بننے کے بجائے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ قوموں کی عزت، وقار اور سیاسی وزن اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ خود مختار، باشعور اور متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha