حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں منگل کے روز ایک ہولناک بم دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ سرائے نورنگ میں پھاٹک کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
نورنگ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سعید خان کے مطابق دھماکہ ایک مصروف مقام پر ہوا، جہاں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر عام راہگیر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی بنیادی مرکز صحت منتقل کیا گیا، جبکہ امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
ریجنل پولیس افسر بنوں سجاد خان نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ریسکیو 1122 لکی مروت کے مطابق امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر مسلسل کارروائیاں انجام دے رہی ہیں، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی کہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ یہ دھماکہ ضلع بنوں کی فتح میل چوکی پر ہونے والے خودکش حملے کے چند روز بعد پیش آیا ہے، جس میں 15 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع، جن میں بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور وزیرستان شامل ہیں، گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہیں، جہاں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ